ہر اِک تخلیق کے من کی صدا اللہ الف اللہ
ہر اِک تخلیق کے من کی صدا اللہ الف اللہ
انجینرنگ کا کمال اور اپنی تخلیق میں شاہکار، دہائیوں کی محنت و عرق ریزی کے بعد تیار کردہ یہ جیمز ویب ٹیلی سکوپ کا لینز نہیں بلکہ عام گھریلو مکھی کی آنکھ ہے۔ کتنا عظیم ہے اسے تخلیق کرنے والا، انسان آگاہ ہو کر بھی رب ذوالجلال سے لاعلم ہے۔
4000 سے 4500 انفرادی لینزوں (آنکھوں) پر مشتمل یہ مرکب آنکھ مکھی کو دیکھنے کے لئے 360 درجے کا زاویہ مہیا کرتی ہے۔ کیسی عجب تخلیق کہ ہر انفرادی لینز ایک مکمل دیکھنے والی آنکھ ہے۔ اس دنیا میں اس ننھی سی حقیر مخلوق کا ہر کوئی تو دشمن ہے۔ مکڑیاں ، مینڈک ، چھپکلی، چڑیاں یہاں تک کہ پودے بھی تو اس کے دشمن ہیں۔ پھر انسانوں، جانوروں اور پرندوں جیسی دیو ہیکل مخلوقات سے بھری دنیا میں اس کے چاروں طرف خطرات ہی خطرات ہیں اسی لئے عظیم رب نے اپنے دائیں، بائیں، اوپر ،نیچے اور پیچھے دیکھنے کے لئے دو مرکب آنکھوں کے صورت 8000 سے 9000 آنکھیں دے دیں__ پھر یہاں تک بس نہیں، یہ آنکھیں اپنے اردگرد 8 سے 9 ہزار امیجز کو سکین کرتی، انھیں انسانی دماغ سے سات گنا تیزی سے پراسس کر کے ایک مکمل تصویر بناتی اور کسی معمولی سے معمولی حرکت پر اس حقیر مخلوق کو فرار کے راستے بتاتی ہیں۔ کمال ہے وہ ذات جس نے اسے تخلیق کیا اور ہمارے سمجھنے کو قرآن پاک میں مثال دی
يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ ۖ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ۚ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ (الحج)
"لوگو ایک مثال دی جاتی ہے اسے غور سے سنو! اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہو وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اس سے واپس نہیں لے سکتے۔ مددچاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد مانگی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔"
اور تم کہتے ہو کہ میں ایک ایسے زندہ یا مردہ انسان کو اپنا معبود بنا لوں جو ایک مکھی تخلیق کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا__ یہاں تک کہ اگر مکھی اس کے کھانے سے کوئی ذرہ اٹھا کر لے جائے، تو یہ اس قدر کمزور اور بے بس ہے کہ اس حقیر مخلوق سے اپنا کھانا واپس نہیں لے سکتا___ تم کہتے ہو کہ میں اپنے اور اس مکھی کو پیدا کرنے والے رب العالمین کو چھوڑ کر کسی پیر، فقیر، ملنگ، بابے کے پیچھے چل پڑوں۔ قرآن کریم میں رب العالمین نے ایک حقیر مخلوق کی مثال دے کر مجھے سمجھایا کہ یہ جن کو تم پکارتے ہو، یہ تو کمزور اور بے بس ہیں۔ تم مجھے مشورہ دیتے ہو کہ میں کمزوروں کی مان لوں__ میں دلیل مانگتا ہوں تو مجھے کشف و کرامات کے بے سند واقعات سناتے ہو، قرآن و سنت کے الہامی علم کو ظاہری کہہ کر طنز کرتے ہو جبکہ طریقت و معرفت کے نام پر علحدہ دین گھڑتے ہو۔
ہدایت تو یقینا میرے رب کی طرف سے ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین حنیف کی صحیح سمجھ عطا کریں۔


Comments
Post a Comment