header ads

Ads

Technology/hot-posts

پاکستانی امپائر علیم ڈار





پاکستانی امپائر علیم ڈار

پاکستانی امپائر علیم ڈار کا 24 سالہ کیریئر کا شاندار اختتام ہوگیا ہے۔

پاکستانی امپائر علیم ڈار بطور آئی سی سی ایلیٹ پینل امپائر اپنے آخری میچ میں ذمہ داریاں نبھانے کے بعد فیلڈ سے رخصت ہوگئے ہیں، ڈھاکہ میں ختم ہونے والا بنگلہ دیش اور آئرلینڈ کے درمیان واحد ٹیسٹ میچ ان کے کیریئز کا آخری انٹرنیشنل میچ تھا جس کے اختتام پر انہیں دونوں ٹیموں کی جانب سے سلامی دی گئی۔

صوبہ پنجاب کے ضلع جھنگ سے تعلق رکھنے والے 54 سالہ علیم ڈار آئی سی سی کے ایلیٹ پینل میں شامل ہونے والے پہلے پاکستانی امپائر تھے،انہوں نے بطور امپائر اپنا انٹرنیشنل ڈیبیو سنہ 2000 میں کیا جس کے بعد امپائرنگ کی دنیا میں وہ تیزی سے ابھرے

2002ء میں آئی سی سی نے علیم ڈار کو اپنے انٹرنیشنل پینل آف امپائر میں شامل کیا جس کے بعد وہ 2004 میں آئی سی سی کے ایلیٹ پینل میں شامل ہوگئے، انٹرنیشنل کرکٹ میں ممتاز امپائرز میں سے ایک علیم ڈار نے مجموعی طور پر مینز اور ویمنز کرکٹ کے 444 میچز میں امپائرنگ کے فرائض سر انجام دیے ہیں۔

پاکستانی امپائر نے 2006 کی چیمپیئنز ٹرافی، 2007 اور 2011 کے آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل کے ساتھ 2010 اور 2012 کے ٹی20 ورلڈ کپ کے فائنل میں بھی امپائرنگ کے فرائض سر انجام دیے۔

سورہ التکاثر کی روشنی میں ازدواجی تعلقات

 


سورہ التکاثر کی روشنی میں ازدواجی تعلقات

آج میں نے قرآن کریم کھولا تو نظروں

 کے سامنے سورہ التکاثر آگئی میں پڑھنے لگی تو ساتھ ترجمہ بھی پڑھتی گئی۔

سورہ التکاثر میں اللہ کریم فرماتے ہیں ترجمہ۔۔۔

لوگوں تمھیں کثرت مال نے اللہ کی یاد سے غافل کر دیا ہے۔

یہاں تک کہ تم قبروں کو جا ملتے ہو ۔

ایسا ہر گز نہیں چاہیے جلد تم جان جاو گے۔

پھر ایسا ہر گز نہیں چاہیے جلد ہی تم جان جاؤ گے۔

ایسا ہر گز نہیں ہونا چاہیے کاش تم پقینی طور پر جان لیتے۔

کہ تمھیں ضرور جہنم کو دیکھنا ہے۔

پھر تم جہنم کو بلکل یقینی طور پر دیکھ لو گے۔

پھر اسی دن تم سے نعمتوں کے بارے میں سوال ہو گا۔

وضاحت۔۔۔۔

اس سورت میں موت،قبر،قیامت حشر و حساب کے حقائق اور دوزخ کے مناظر بیان کئے گئے ہیں اور ان لوگوں کی مذمت کی گئی یے جو صرف دنیا کی زندگی کو اپنا مقصد بنا لیتے ہیں اور دنیا کا ایندھن جمع کرنے میں لگے رہتے ہیں ان کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے انہیں دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے لیکن پھر اچانک موت آجاتی ہے جس کی وجہ سے ان کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور انہیں قصر سے قبر کی طرف منتقل ہونا پڑتا ہے ان لوگوں کو ڈرایا گیا قیامت کے دن تمام اعمال کے بارے میں سوال ہو گا تم جہنم کو ضرور دیکھو گے تم سے اللہ کی نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

اوپر تین بار کہا گیا کہ "تم جان جاو گے" پہلے ہم لیتے ہیں علم الیقین کو کہ ہم نے اللہ کریم نے جو حکم دیا اسکو سنا  پھر ہم عین الیقین پر آئے تو اس حکم کو دیکھا اور سمجھنے کی کوشش کی اور پھر جب ہم نے اس حکم کو جاننے کے بعد اپنی زندگی میں اپلائی کیا تو ہم حقیقت پر آگئے ۔اب علم الیقین سے حقیقت پر آتے جو راستہ ہمیں یہاں تک لے کر آیا وہ معرفت کا راستہ تھا 

 سورہ التکاثر ہمارے زندگی میں بڑا گہرا اثر ڈالتی ہے التکاثر کے معنی کسی بھی چیز کے زیادتی کے ہیں جو ہماری زندگی کو ہلاکت میں ڈالتی ہے۔ اور یہ زیادتی ہمیں کیسے علم الیقین سے حقیقت تک کا سفر کرواتی ہے۔

میں اسے میاں اور بیوی کے رشتے سے ہی شروع کرتی ہوں اللہ کریم نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس کہا ہے میں اک سادہ سی مثال دیتی ہوں جوتے کا ایک جوڑا ہے ایک سیدھے پاؤں کا ایک الٹے پاؤں کا نا سیدھا پاؤں الٹے میں پورا آتا ہے نا الٹا پاؤں سیدھے میں پورا آتا ہے دونوں پاؤں اپنی اپنی جگہ پر رہ کر اپنی اپنی ذمہ داری نبھاتے ہیں اور پورے جسم کا بوجھ اٹھاتے ہیں اگر ان دونوں میں سے ایک بھی کمزور ہو جائے گا تو وہ التکاثر(زیادتی ) میں کھو جائے گا وہ بوجھ بانٹ نہیں سکیں گے لہذا ایک کو ٹوٹنا پڑے گا۔

اگر میاں اور بیوی دونوں اس بات کو لے کر چلیں گے کہ میاں کے خاندان اور بیوی کے خاندان میں کون کیا کر رہا ہے کیا سن رہا کیا دیکھ رہا کیا سہہ رہا تو دونوں التکاثر میں ہی پھنس کر رہ جائیں گے ان سب میں وہ دونوں ایک دوسرے کو ہی فراموش کر دیں گے ان کے نزدیک انکی حیثیت گھر کے اک ملازم کی طرح ہو جائے گئ کہ ہر بات ہر فرد کو پتہ ہو گی سوائے ان دونوں کے کیوں کہ زیادتی نے انکو اپنے اندر ہی الجھانے رکھا وہ اصل تک پہنچ ہی نہیں پائے اس سب میں وہ ایک دوسرے کو کھو دیں گے گھر خراب ہو جائے گا علیحدگی ہو جائے گی پھر کھچہ باقی نہیں رہے اس سورت کو بیان کرنے کا مقصد یہاں پر یہ ہے کہ کسی بھی چیز کی زیادتی دولت، شہرت رشتے ہر وہ چیز جو ہمارے پاس زیادہ مقدار میں ہو وہ ہمیں تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔

ترجمہ۔۔۔

"پھر اس دن ضرور تم سے نعمتوں کے بارے میں سوال ہوگا"

تو جب سوال کرنے والی ذات ہم سے سوال کرے گی اسکا جواب کیا ہوگا ہمارے پاس شوہر کیا کہے گا میں اپنے خاندان میں کھو کر حق ادا نہیں کر سکا بیوی کیا کہے گی میں اپنے خاندان میں رہ کر حق ادا نہیں کر سکی اللہ کریم نے ہر کام میں 

 میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے پھر کیوں ہم اللہ کریم کی حدود سے باہر نکل کر اللہ کریم کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں جب وہ سوال کرے گا اس بات کا کیا جواب ہوگا وہ تو دلوں کے حال بھی جانتا ہے۔

قرآن کریم میں اللہ کریم فرماتے ہیں 

ترجمہ۔۔۔

کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے اور اللّٰہ اسے کئی گنا بڑھا چڑھا دے اور اللّٰہ ہی(لوگوں کا رزق) تنگ اور کشادہ کرتا ہے تمھیں اسی کے ہاں لوٹ کر جانا ہے

(سورہ البقرہ آیت # 245)

اب ہمارا یہاں یہ کام ہے کہ ہم نے اللہ کریم کو قرض حسنہ دینا ہے کوئی بھی کام صرف اللہ کریم کی رضا کے لئے کرنا اپنے آپکو سائیڈ پر رکھ کر اور خاموشی سے سب حق ادا کرنے ہیں اور اللّٰہ کریم سے دعا کرنی ہے یا اللہ ہمیں توفیق عطا فرما  کیوں کہ اللہ ہی تنگی دیتا ہے اور کشادگی دیتا ہے اب اللہ کریم کو قرض حسنہ دینے والے سارے راستے ہی دنیا داری سے ہو گزرتے ہیں شریعت سے حقیقت تک کا سفر بڑا دشوار لگتا ہے پر کوشش کی جا سکتی ہے یہ پل صراط کی تلوار سے تیز والا سفر ہے ہم نےاس کی ابتداء اپنے آپ سے کرنی ہے اور اپنے گھروں کے سکون کو بہال رکھنا ہے التکاثر سے نکل کر قرض حسنہ کی طرف آنا ہے ۔عورت ہونے کے ناتے ہمارا سفر ہمارے شوہر کے گھر سے شروع ہو کو اللہ کریم تک پہنچے گا اپنے شوہر کو قرض حسنہ دے کر ہم اللہ کریم کے سپرد کر دیں گے پھر مالک جانیں اور اسکا کام ۔شوہر ہر عورت کے دل کا بادشاہ ہوتا ہے انگریزی کا ایک مقولہ ہے 

"A king is not complete without his queen "

اگر مرد عورت کے دل کا بادشاہ ہے تو عورت مرد کے دل کی ملکہ ہے ۔

پھر ہمیں اللہ کریم سے اپنے اچھے اور صبر والے  رویوں کے لئے توفیق مانگنی ہے  کہ ہم تیری ہی رضا کی خاطر سب سہہ جائیں اس دنیا کے التکاثر نے ہمیں اللہ کریم کی یاد سے غافل کر دیا ہے اور رشتہ ازدواج جو اللہ کریم کی نعمتوں میں سے ایک خوبصورت تحفہ ہے اس کو ضائع ہونے سے بچانا ہے 

نظر بھی رکھے سماعتں بھی 

وہ جان لیتا ہے نیتیں بھی


سعدیہ حامد

آئن سٹائن اور اُس کی بیوی

 آئن سٹائن اور اُس کی بیوی




آئن سٹائن نے دوسری شادی مائلیوا نامی خاتون سے کی، اِس شادی کی دلچسپ بات وہ معاہدہ ہے جو اُس نے اپنی بیوی کے ساتھ کیا، معاہدے میں طے پایا کہ اُس کی بیوی اُس کے کپڑے اور سامان ہمیشہ صاف اور بہترین حالت میں رکھے گی،تینوں وقت کا کھانا آئن سٹائن کو اُس کے کمرے میں دیا جائے گا، آئن سٹائن کے کمرے، سٹڈی روم اور خاص طور پر اُس کی میز بالکل صاف رکھی جائے گی اور کوئی فالتو چیز یہاں نظر نہیں آئے گی، جب تک آئن سٹائن کا موڈ نہ ہو بیگم اُس سے کوئی بات نہیں کرے گی، آئن سٹائن دیگر لوگوں کے سامنے اپنی بیگم سے لاتعلق رہے گا! غالباً یہی وہ مجاہدانہ اقدام ہیں جن کی بدولت آئن سٹائن نے اتنی ذہانت پائی۔
میں سوچ رہا ہوں کہ اگر آئن بھائی اپنی بیوی سے اتنا سخت رویہ نہ رکھتے اور نرمی سے پیش آتے تو صورتحال کیا ہونی تھی۔
بیوی: آئن۔۔۔وے آئن۔۔۔!!!
آئن سٹائن: جی جان۔۔۔کیاہوا؟؟؟
بیوی : وے کوکنگ آئل ختم ہوگیا ہے!!!
آئن سٹائن: اوہو۔۔۔جان ابھی دو دن پہلے تو لایا تھا۔
بیوی: وے یاد کر۔۔۔تجھے پانچ کلو کاڈبہ لانے بھیجا تھا اور تُو کلو والا پیکٹ لے آیا تھا۔
آئن سٹائن: اچھا تھوڑی دیر تک لادیتا ہوں، ذرا ایک سائنسی تھیوری لکھ لوں۔
بیوی: وے اگ لگے تیری سائنس کو۔۔۔آئل لے کے آ ، اور ہاں ایک پیکٹ ماچسوں کا اور پانچ روپے کا ’’استنبول کا چھلکا‘‘ بھی لیتے آنا
آئن سٹائن : پلیز جان۔۔۔بس صر ف آدھے گھنٹے کی مہلت دے دو،میری ریسرچ مکمل ہونے والی ہے۔
بیوی: دفع دور۔۔۔جب دیکھو سائنس ،جب دیکھو سائنس۔۔۔نہ تونے اتنی سائنس پڑھ کے کون سا عالم لوہار بن جانا ہے؟؟؟
آئن سٹائن: پلیز جان ایسا مت کہو۔۔۔سائنس میری زندگی ہے، میں ہر وقت سائنس کے حصار میں رہتا ہوں۔
بیوی: ہا۔۔۔ہائے۔۔۔شادی سے پہلے تو تم نے کہا تھا کہ میں گڑھی شاہو میں رہتا ہوں؟؟؟
آئن سٹائن: اوہو جان، میرا مطلب ہے کہ میں ہروقت سائنس میں گم رہتا ہوں، سائنس میرا عشق ہے، میرا پیار ہے۔
بیوی: لخ لعنت ہے بھئی تیرے عشق پر۔۔۔اگر اتنا بڑا سائنسدان ہے تو میری ایک بات کا جواب دے۔۔۔!!!
آئن سٹائن: پوچھو جان۔۔۔!!!
بیوی: چل یہ بتا میری وڈی خالہ کا السر کب ٹھیک ہوگا؟؟؟
آئن سٹائن: وہ۔۔۔مم۔۔۔مجھے کیا پتا؟؟؟
بیوی: مجھے پہلے ہی پتا تھا تیرے جیسے نکمے بندے کو سواہ تے مٹی پتا ہونا ہے۔۔۔روندا سائنس نوں۔۔۔!!!
آئن سٹائن: پپ۔۔۔پلیز جان۔۔۔اگر اجازت ہو تو تھوڑا کام کرلوں؟؟؟
بیوی: وے کام تونے کیا کرنا ہے، ویلیاں کھائی جاتا ہے، ہزار دفعہ کہا ہے
میرے تائے کے بیٹے کے ساتھ سبزی منڈی چلا جایا کر، وہ بھی بہت
بڑا سائنسدان ہے۔۔۔!!!
آئن سٹائن: وہ کیا کرتاہے جان؟؟؟
بیوی: سبزی منڈی میں بڑے اور چھوٹے پیاز الگ الگ کرتاہے۔۔۔!!!
آئن سٹائن: لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔۔۔جان کہاں وہ ، کہاں میں۔۔۔!!!
بیوی: ظاہری بات ہے کہاں وہ روز کا دو سوروپیہ کمانے والا اور کہاں تُوسسرالیوں کے ٹکڑوں پر پلنے والا۔۔۔!!!
آئن سٹائن : پلیز جان۔۔۔ایسے تو نہ کہو۔۔۔میرے سسرالی تو خود لنگر پر گذارہ کرتے ہیں۔۔۔!!!
بیوی: کیا کہا؟۔۔۔وے تیرا بیڑا غرق۔۔۔تیری ریسرچ میں کیڑے پڑیں۔۔۔وہ نہ مدد کریں تو تُو بھوکا مرجائے۔۔۔!!!
آئن سٹائن: اچھا پلیز جان۔۔۔یہ لڑائی بعد میں کرلینا۔۔۔میرا ذہن کسی اور طرف ہے۔۔۔!!
بیوی: مجھے پہلے ہی شک تھا، سامنے والی ہمسائی کی کھڑکی بھی تھوڑی سی کھلی ہوئی ہے، سچ سچ بتا آئن سٹائن۔۔۔تیرا ذہن کس کی طرف ہے؟جھوٹ بولا تو میں تیری سائنس بند کردوں گی۔
آئن سٹائن: فار گاڈ سیک جان۔۔۔میرے پاس ایسے کاموں کے لیے وقت نہیں، میرا دماغ تو ہر وقت اپنے سائنسی کام میں مگن رہتا ہے۔
بیوی: سب جانتی ہوں میں تیرے نکمے سائنسی دماغ کو۔۔۔ٹی وی کا ریموٹ تو تجھ سے ٹھیک ہوتا نہیں، وڈا آیا سائنسدان۔۔۔!!!
آئن سٹائن: (آہ بھر کر) ٹھیک ہے میری جان۔۔۔آج سے سائنس ختم، کل سے میں بھی سبزی منڈی جایا کروں گا۔۔۔!!!
بیوی: (خوشی سے) واقعی؟۔۔۔ہائے آئن سٹائن۔۔۔تم کتنے جینئس ہو۔۔۔!!!

معاذ بن جبل یمن کا گورنر

 معاذ بن جبل یمن کا گورنر


معاذ بن جبل کو یمن کا گورنر مقرر کرنے کے بعد، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اگر آپ کو قرآن یا سنت میں واضح حکم نہیں ملے گا تو وہ حکومت کیسے کریں گے؟ اس نے جواب دیا کہ وہ کوشش کرے گا (یعنی مسائل کے حل کے لیے عقل کا استعمال کرے گا)۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے استدلال کو منظور فرمایا۔

مندرجہ بالا واقعہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عقل اللہ تعالیٰ کا انسانوں کے لیے سب سے بڑا تحفہ ہے جس کی وجہ سے وہ وقت کے تقاضوں کا مقابلہ کرنے، ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے اور زندگی کے مشکل مسائل کو حل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
عقل کیا ہے؟ یہ دماغ کی صلاحیت ہے کہ وہ عمل کے صحیح راستے کو تلاش کرے جو حتمی سچائی کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ غور و فکر، غور و فکر، تجزیہ اور اللہ کی نشانیوں پر توجہ مرکوز کرنے کے ذریعے کیا جاتا ہے جو ہمارے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہیں۔
اسلام واضح ہے کہ عقل کہاں اور کیسے استعمال کی جائے۔ قرآن پاک کہتا ہے کہ اسے ایمان اور ساتھی انسانوں کی خدمت میں استعمال کرنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اسے صحیح سے غلط کی چھانٹ کرنے، کائنات کے رازوں کو دریافت کرنے، اخلاقیات کو فروغ دینے، معاشرے میں برائیوں سے پرہیز کرنے، سماجی مسائل کے حل، چیلنجز سے نمٹنے اور معاشرے کی مستقبل کی سمت کو متعین کرنے کے لیے استعمال کیا جانا ہے۔ .
عقل کا استعمال ایمان کا تقاضا ہے۔
اسی وجہ سے انسان کو تخلیق کا تاج سمجھا جاتا ہے۔ وہ خدا کی تمام مخلوقات میں برتر ہے۔
انسانوں اور دوسری مخلوقات میں سب سے بڑا فرق عقل کا ہے۔ انسان عقل اور منطق سے چلتا ہے۔ وہ فکری سرگرمیوں میں مشغول ہو سکتے ہیں، جبکہ دیگر مخلوقات زیادہ تر اپنی جبلتوں سے چلتی ہیں۔ یہ بنیادی فرق ہے جو انسان کو دوسری مخلوقات سے الگ کرتا ہے۔
تاریخی طور پر، تمام معاشروں اور تمام عہدوں میں انسانوں نے ابھرتے ہوئے مسائل کو سمجھنے اور ان کو صحیح طریقے سے حل کرنے کے لیے اپنے فکری آلات بشمول مشاہدہ، منطق اور تجربہ کرنے کی صلاحیت، تخیل اور بصیرت کا استعمال کیا ہے۔ سینکڑوں سال پہلے ہم میں سے بہت سے لوگ کچے مکانوں میں رہتے تھے، اندھیرے میں راتیں گزارتے تھے اور جانوروں کا گوبر یا لکڑیاں جلا کر کھانا پکاتے تھے۔ لیکن اب زندگی کا ہر پہلو بدل چکا ہے۔ یہ عقل کا کمال ہے جس نے ہمیں زندگی کو جدید بنانے کے قابل بنایا ہے۔
اپنی عقل کے منظم استعمال سے انسان اپنی زندگیوں کو بدلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ درحقیقت ان کی زندگیاں مسلسل بدل رہی ہیں۔ ہماری عقل ہم سے روزمرہ کے مسائل پر سنجیدگی، معروضی، قابلیت اور مقصدیت سے سوچنے کا تقاضا کرتی ہے۔ اللہ ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو انسانیت کے عظیم مقصد میں مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اگرچہ انسان بنیادی طور پر دانشور مخلوق ہیں، لیکن ان میں سے اکثر کو اس حقیقت کا بمشکل ادراک ہوتا ہے۔ وہ اپنی عقل کو منظم طریقے سے استعمال نہیں کرتے کیونکہ ان میں سے بہت سے ان کی جبلتوں اور جذبات پر قابو پاتے ہیں۔ وہ نادانی سے کام کرتے ہیں اور غلطیاں کرتے ہیں۔ پاکستان کو معیشت، ماحولیات، صحت کی دیکھ بھال اور انسانی زندگی کے دیگر پہلوؤں میں کئی مسائل کا سامنا ہے۔ اس کا حل عقل کو استعمال کرنے میں ہے جو ایمان کا تقاضا ہے۔ اسلام ایک فکری عقیدہ ہے۔ یہ عوام کو تعلیم فراہم کرکے عقل کے استعمال اور فروغ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ یہ روٹ سیکھنے، دھوکہ دہی یا سرقہ کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا ہے بلکہ تحقیق کے ذریعے عقل کو تلاش کرتا ہے۔
جن قوموں نے عقل کو منظم طریقے سے استعمال کرنے کو اپنی پالیسی بنالی ہے وہ قوموں کی جماعت میں بہت ترقی کر چکی ہیں۔ انہوں نے بہت سے تھنک ٹینکس بنائے ہیں جہاں مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے دانشورانہ سوچ کی تلاش کی جاتی ہے۔ وہ سیاست، معاشیات، صحت کی دیکھ بھال، دفاع وغیرہ کے شعبوں میں پالیسی سازی میں اپنی قیادت کی رہنمائی کرتے ہیں۔ کچھ قومیں جو پیچھے رہ جاتی ہیں ان کی ناکامی اکثر ناقص سوچ میں پائی جاتی ہے جہاں عقل کا استعمال نہ ہونے کے برابر رہتا ہے۔
یہ اس بات کی وجہ ہے کہ ہمیں ہر وقت نئے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، نئے مسائل جنم لیتے ہیں، نئے مظاہر سامنے آتے ہیں اور نئے چیلنجز سامنے آتے ہیں- یہ سب اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ انسان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی عقل کا استعمال کرے۔ اس لیے اسلام اپنے نزول کے وقت سے ہی زندگی کے تمام معاملات میں عقل کے استعمال پر بہت زور دیتا رہا ہے۔
اسلام اپنی عقل کو استعمال نہ کرنے والوں کو مویشیوں سے تشبیہ دیتا ہے۔ انہیں 'گونگا' اور 'اندھا' اور 'مردہ دل' قرار دیا گیا ہے کیونکہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے۔ قرآنی آیت 25:44 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے "یا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں؟ وہ تو چوپایوں کی طرح ہیں۔ بلکہ وہ راستے سے اور بھی زیادہ بھٹک رہے ہیں" (معاشرے کی مستقبل کی سمت)
عقل پر مذہبی زور کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ریاست خصوصاً وزارت تعلیم کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیمی اداروں میں عقل کے منظم استعمال کو فروغ دے تاکہ آج کے طلباء زندگی کے ابھرتے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے بہتر تربیت یافتہ اور لیس ہو سکیں

ہر اِک تخلیق کے من کی صدا اللہ الف اللہ




ہر اِک تخلیق کے من کی صدا اللہ الف اللہ


انجینرنگ کا کمال اور اپنی تخلیق میں شاہکار، دہائیوں کی محنت و عرق ریزی کے بعد تیار کردہ یہ جیمز ویب ٹیلی سکوپ کا لینز نہیں بلکہ عام گھریلو مکھی کی آنکھ ہے۔ کتنا عظیم ہے اسے تخلیق کرنے والا، انسان آگاہ ہو کر بھی رب ذوالجلال سے لاعلم ہے۔

4000 سے 4500 انفرادی لینزوں (آنکھوں) پر مشتمل یہ مرکب آنکھ مکھی کو دیکھنے کے لئے 360 درجے کا زاویہ مہیا کرتی ہے۔ کیسی عجب تخلیق کہ ہر انفرادی لینز ایک مکمل دیکھنے والی آنکھ ہے۔ اس دنیا میں اس ننھی سی حقیر مخلوق کا ہر کوئی تو دشمن ہے۔ مکڑیاں ، مینڈک ، چھپکلی، چڑیاں یہاں تک کہ پودے بھی تو اس کے دشمن ہیں۔ پھر انسانوں، جانوروں اور پرندوں جیسی دیو ہیکل مخلوقات سے بھری دنیا میں اس کے چاروں طرف خطرات ہی خطرات ہیں اسی لئے عظیم رب نے اپنے دائیں، بائیں، اوپر ،نیچے اور پیچھے دیکھنے کے لئے دو مرکب آنکھوں کے صورت 8000 سے 9000 آنکھیں دے دیں__ پھر یہاں تک بس نہیں، یہ آنکھیں اپنے اردگرد 8 سے 9 ہزار امیجز کو سکین کرتی، انھیں انسانی دماغ سے سات گنا تیزی سے پراسس کر کے ایک مکمل تصویر بناتی اور کسی معمولی سے معمولی حرکت پر اس حقیر مخلوق کو فرار کے راستے بتاتی ہیں۔ کمال ہے وہ ذات جس نے اسے تخلیق کیا اور ہمارے سمجھنے کو قرآن پاک میں مثال دی

 يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ ۖ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ۚ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ (الحج)

"لوگو ایک مثال دی جاتی ہے اسے غور سے سنو! اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہو وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اس سے واپس نہیں لے سکتے۔ مددچاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد مانگی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔"


اور تم کہتے ہو کہ میں ایک ایسے زندہ یا مردہ انسان کو اپنا معبود بنا لوں جو ایک مکھی تخلیق کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا__ یہاں تک کہ اگر مکھی اس کے کھانے سے کوئی ذرہ اٹھا کر لے جائے، تو یہ اس قدر کمزور اور بے بس ہے کہ اس حقیر مخلوق سے اپنا کھانا واپس نہیں لے سکتا___ تم کہتے ہو کہ میں اپنے اور اس مکھی کو پیدا کرنے والے رب العالمین کو چھوڑ کر کسی پیر، فقیر، ملنگ، بابے کے پیچھے چل پڑوں۔ قرآن کریم میں رب العالمین نے ایک حقیر مخلوق کی مثال دے کر مجھے سمجھایا کہ یہ جن کو تم پکارتے ہو، یہ تو کمزور اور بے بس ہیں۔ تم مجھے مشورہ دیتے ہو کہ میں کمزوروں کی مان لوں__ میں دلیل مانگتا ہوں تو مجھے کشف و کرامات کے بے سند واقعات سناتے ہو، قرآن و سنت کے الہامی علم کو ظاہری کہہ کر طنز کرتے ہو جبکہ طریقت و معرفت کے نام پر علحدہ دین گھڑتے ہو۔


ہدایت تو یقینا میرے رب کی طرف سے ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین حنیف کی صحیح سمجھ عطا کریں۔


 

عجیب ترین چوری کا واقعہ

 عجیب ترین چوری کا واقعہ

 ایک نہایت شاطر اور ماہر چور نے چوری کی خاطر، مہنگا لباس زیب تن کرکے معزز اور محترم دکھائی دینے والے شیخ جیسا حلیہ بنایا اور صرافہ بازار میں سنار کی ایک دکان کے اندر چلا گیا۔ 

سنار نے جب اپنی دکان میں وضع قطع سے نہایت ہی رئیس اور محترم دکھائی دینے والے شیخ کو دیکھا جس کا نورانی چہرہ چمک رہا تھا، تو سنار کو ایسا لگا جیسے اس کی دکان کے بھاگ جاگ اٹھے ہوں ۔

اسے پہلی بار اپنی چھوٹی سی دکان کی عزت و وقار میں اضافے کا احساس ہوا۔

 سنار نے آگے بڑھ کر شیخ کا استقبال کیا۔

 شیخ کے بہروپ میں چور نے کہا: آپ سے آج خریداری تو ضرور ہوگی مگر اس سے پہلے بتائیں کیا آپ کے لیے ممکن ہے کہ آپ اپنی سخاوت سے ہمارے ساتھ مسجد بنانے میں حصہ ڈالیں؟ اس نیک کام میں آپ کا حصہ خواہ ایک درہم ہی کیوں نہ ہو۔

سنار نے چند درہم شیخ کے حوالے کئے ہی تھے کہ اسی اثناء میں ایک لڑکی جو درحقیقت چور کی ہم پیشہ تھی ، دکان میں داخل ہوئی اور سیدھی شیخ کے پاس جا کر اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیا، اور التجائیہ لہجے میں اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لیے خیر و برکت کی دعا کے لیے کہا۔

سنار نے جب یہ منظر دیکھا تو اس سے رہا نہ گیا اور معذرت خواہانہ لہجے میں کہنے لگا، اے محترم شیخ لاعلمی کی معافی چاہتا ہوں مگر میں نے آپ کو پہچانا نہیں ہے۔

 لڑکی نے یہ سن کر تعجب کا اظہار کیا اور سنار سے مخاطب ہوکر کہنے لگی، تم کیسے بدنصیب انسان ہو، برکت، علم، فضل اور رزق کا سبب خود چل کر تمھارے پاس آگیا ہے اور تم اسے پہچاننے سے قاصر ہو۔ 

لڑکی نے شیخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلاں علاقے کے مشہور و معروف شیخ ہیں، جنہیں خدا نے،  کثرت علم ، دولت کی فروانی اور ہر قسم کی دنیاوی نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے۔ انہیں انسانوں کے بھلے کے سوا کسی چیز کی حاجت نہیں ہے۔

لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بیتاب رہتے ہیں ۔


 سنار نے شیخ سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ؛ شیخ صاحب میں معافی کا طلبگار ہوں، میرا سارا وقت اس دکان میں گزرتا ہے اور باہر کی دنیا سے بے خبر رہتا ہوں،  اس لیے اپنی جہالت کی وجہ سے آپ جیسی برگزیدہ ہستی کو نہ پہچان پایا۔ 

 شیخ نے سنار سے کہا: کوئی بات نہیں انسان خطا کا پتلا ہے، غلطی پر نادم ہونے والا شخص خدا کو بہت پسند ہے۔ تم ایسا کرو ابھی میرا یہ رومال لے لو اور سات دن اس سے اپنا چہرہ پونچھتے رہو، سات دنوں کے بعد یہ رومال تمہارے لیے ایسی برکت اور ایسا رزق لے آئے گا جہاں سے تمہیں توقع بھی نہ ہو گی۔

 جوہری نے پورے ادب و احترام کے ساتھ رومال لیا، اسے بوسہ دیا، آنکھوں کو لگایا، اور اپنا چہرہ پونچھا، تو ایسا کرتے ہی وہ بے ہوش کر گرا۔ اس کے گرتے ہی شیخ اور اس کی دوست لڑکی نے سنار کی دوکان کو لوٹا اور وہاں سے فوراً رفو چکر ہوگئے۔


  اس واقعے کو جب چار سال گزر گئے اور سنار رو دھو کر اپنا نقصان بھول چکا تھا۔ تو چار سال کے بعد پولیس کی وردی میں ملبوس دو اہلکار سنار کی دکان پر آئے، ان کے ساتھ وہی چور شیخ تھا جس کو  ہتھکڑیاں لگی ہوئی ۔سنار اسے دیکھتے ہی پہچان گیا۔


 ایک پولیس والا سنار کے پاس آکر پوچھنے لگا کیا آپ اس چور کو جانتے ہیں؟ کیونکہ آپ کی گواہی سے ہی قاضی اسے سزا سنا سکتا ہے۔ سنار نے کہا کیوں نہیں اس نے فلاں فلاں طریقہ واردات سے مجھے بے ہوش کرکے میری دکان لوٹ لی تھی۔

پولیس والا شیخ کے پاس گیا اور اس کی ہتھکڑی کو کھولتے ہوئے کہنے لگا، تم نے جس طرح دکان لوٹنے کا جرم کیا تھا ٹھیک اسی طرح وہ ساری کارروائی دہراؤ تاکہ ہم طریقہ واردات کو لکھ کر گواہ سمیت قاضی کے سامنے پیش کرکے تم پر فرد جرم عائد کروا سکیں۔ شیخ نے بتایا کہ میں اس اس طرح داخل ہوا اور یہ کہا، اور میری مددگار لڑکی آئی اس نے فلاں فلاں بات کی، پھر میں نے رومال نکال کر دکاندار کو دیا۔

پولیس والے نے جیب سے ایک رومال نکال کر شیخ کو تھمایا، شیخ نے سنار کے پاس جاکر اسی طریقے سے اسے رومال پیش کیا تو پولیس والا سنار سے کہنے لگا، جناب آپ بالکل ٹھیک اسی طریقے سے رومال کو چہرے پر پھیریں جیسے اس دن پھیرا تھا۔ سنار نے ایسا ہی کیا اور وہ پھر سے بے ہوش ہوگیا۔  شیخ نے اپنے دوستوں کی مدد سے دوبارہ دکان لوٹ لی جنہوں نے پولیس والوں کا بھیس بدل رکھا تھا۔


 آج ہمارے ملک کا بالکل یہی حال ہے، ہر چار سال بعد چور بھیس بدل کر ہمارے پاس آتا ہے اور چکنی چپڑی باتوں سے ملک اور عوام کا سامان لوٹ کر پتلی گلی سے نکل لیتا ہے... ہر دفعہ ایک نیا منظر، نیا لباس، نیا بہروپ ، نئی شکل اور نیا حربہ جس سے عوام دھوکہ کھا کر اعتبار کرتیے ہیں 

اور، اور آخر میں محافظوں سمیت نکلتا وہی چور۔


منتخب

ایک انسان تین چہرے۔۔۔

  ایک انسان تین چہرے



میرا ایک دوست جس نے زندگی کا بڑا حصہ اولیاء اللہ کی خدمت میں گزارا ایک روز میرے پاس آیا تو میرے چہرے کو دیکھ کر کہنے لگا کہ کیا ہوا۔۔۔ تمہاری روح بجھی ہوئی ہے؟؟ میں چونکہ لیڈرشپ اور پرسنیلٹی ٹریننگز کا ماسٹر خود کو سمجھتا ہوں۔۔اور مجھے یہ زعم تھا کہ میں اپنے اندر کے احساسات سے باہر کے لوگوں کو مطلع نہیں ہونے دیتا ۔۔ اور خود پر یہ کنٹرول رکھتا ہوں کہ اپنے aura یعنی روح نفس کی دفاعی شیلڈ سے اندر کسی کو نہیں آنے دیتا۔۔ لیکن میرا دوست تو کہیں دور پڑی روح کے بجھنے کا سندیسہ دے رہا تھا۔۔۔ بڑی عجیب بات تھی۔۔  میں نے اس سے پوچھا تم نے روح کیوں کہا۔۔ 

تو وہ بولا۔۔ میرے بابا جی نے مجھے ایک خصوصی کام کے سلسلہ میں 2015 میں روس 10 روز کے لئے بھیجا تھا۔۔ وہاں جانے سے قبل انہوں نے ارشاد فرمایا تھا۔۔اس سفر میں تمہیں لوگوں کی حقیقی شکلوں سے تعارف ہو گا۔۔ میں حیران تھا کہ سب ہی تو اپنی حقیقی شکلوں کے ساتھ گھوم رہے ہیں صرف نفس کی بیرونی احتیاطی شیلڈ جس کا تعلق چھٹی حس سے ہے وہ کبھی کبھی مضبوط ہوتی ہے اور بندہ اصل چہرے اور imitation سے دھوکہ کھا جاتا ہے ۔۔ تو بابا بولے جب واپس لوٹو تو ملنے آنا۔۔ اب جاو کہ روس میں تمہارا شدت سے انتظار ہو رہا ہے۔۔ 

خیر جب وہ دوست روس پہنچا تو وہ بتاتا ہے کہ وہاں جب وہ کسی کلیسا یا پرانے قبرستان یا کسی سنسان جگہ جاتا تو بہت صاف ستھرے دکھنے والے، مذہبی لباس میں ملبوس لوگوں کے کالا سیاہ چہرے نظر آتے۔۔ اور وہ مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے۔۔ اپنے جسم سے ہوا میں اڑنے والے سیاہ جلے ہوئے کاغذ کے ٹکڑوں کی طرح کے ذرات مجھ پر پھینکتے۔۔ جن سے میرے جسم پر یوں محسوس ہوتا جیسے غلاظت اور بوجھ پڑھ گیا ہو۔۔ بازار میں پھرتے ہوئے کئی خواتین نے اور مرد حضرات نے حملہ کی کوشش کی۔۔ اور ان کے سرخ و سفید  چہرے کے پیچھےسیاہ چہرے ہوتے۔۔ اور آنکھیں ابل رہی ہوتیں ۔۔ 

وہ دوست کہنے لگا وہاں پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ خاکی، نفس اور روح مل کر ایک جسم بناتے ہین۔۔ جس کے اوپر کا cover  جسے روحانی زبان میں aura کہا جاتا ہے وہ ان تینوں میں سے جو حاوی ہو اس کے رنگ کا ہوتا ہے۔۔ اور اکثر نفس کا ہوتا ہے ۔۔ نفس کھنکتی مٹی میں سیاہی کی طرح ہے۔۔ 

ترجمہ: یقیناً ہم نے انسان کو کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے، پیدا فرمایا ہے ( الحجر)

اور اس ( نفس) کی شکل ہمیشہ کسی جانور سے مشابہت  رکھتی ہے۔۔ جو چہرے اور ہاتھوں اور خاص طور پر پیچھے سے دیکھنے پر نمایاں ہوتا ہے۔۔ 

میں نے اسے کہا یار یا تو لمبی چھوڑ رہے ہو یا ڈرا رہے ہو!!! سچ بتاو کیوں ایسا کہہ رہے ہو۔۔

وہ بولا تم بتاو۔۔ کیا ہوا ہے جو روح بجھی ہوئی ہے۔۔ میں خاموش ہو گیا ۔۔۔۔ 

وہ بولا تمہارے جسم میں ایک جنگ جاری ہے ۔۔۔ جس میں خناس نے روح کو ڈھانپ لیا ہے۔۔ اور خناس جسم میں( خدشات) کا جنریٹر ہے۔۔ 

میں نے کہا بالکل تم ٹھیک کہتے ہو۔۔ میں مستقبل سے مایوسی ہوں ۔۔۔ سمجھ نہیں آ رہا۔۔ 

وہ قہقہہ لگا کر ہنسا ۔۔ اور بولا یعنی ابلیس بنے ہو۔۔ کیونکہ مستقبل سے حال سے صرف ابلیس ہی مایوس ہے۔۔

پھر کہنے لگا۔۔ انسان کے جسم میں سب سے زیادہ انسان کی شناخت کرانے والا اس کا چہرہ ہے۔۔ پورے جسم کا aura علیحدہ ہے۔۔ صرف چہرے کا aura علیحدہ ہے۔۔ یہ بالکل  آج کے جدید ٹیکنالوجی کے حامل ملٹی میڈیا اسکرین کی طرح ہے۔۔ جس میں جو اپلیکیشن کھلی ہو وہ  واضح ہوتی ہے لیکن مکمل اسکرین پر باقی اپلیکیشنز  کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔۔ اور اس کا اسکرین سیور aura یعنی cover آسانی سے ایک ٹچ سے ہٹ جاتا ہے اور پھر جو اعمال غالب ہوں وہ چہرہ اسکرین پر چمک اٹھتا ہے۔۔ 

میں نے کہا اس کا کوئی علاج تو بولا۔۔ تینوں چہروں کا بتا دوں یا کسی ایک کا۔۔۔ 

میں نے کہا تینوں کا بتا دو تو مہربانی ہو گی۔۔ 

وہ بولا ۔۔ خاکی چہرہ خاکی بدن کی نشاندہی کرتا ہے۔۔ اس کے لئے بہترین خون جس میں آکسیجن کی مقدار زیادہ ہو وہ چاہئے۔۔ دن میں دس منٹ ایسا اچھا کام کرو جس سے تمہارا سانس چڑھ جائے۔۔ مطلب دوڑو، ورزش


نفسانی چہرہ نفسانی جسم کا نمائندہ ہے۔۔ اس کا مرکز دماغ ہے۔۔ لہذا اسے قابو کرنے کے لئے خوراک ،اور خواہش میں فرق کرو۔۔ اور لمبے سجدے کرو تاکہ  pineal gland تازہ رہے۔۔ اسے انسان کی تیسری آنکھ کہا جاتا ہے۔۔


اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِؕ-

ترجمہ: بیشک نماز بے حیائی اور بری بات سے روکتی ہے ( العنکبوت)


روحانی چہرہ روح کا نمائندہ ہے اور روح منجانب اللہ ہے۔۔جیسا اللہ نے قرآن میں کہا


فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ

ترجمہ: چنانچہ جب میں اُسے پوری طرح بنادوں اور اُس میں اپنی رُوح پھونک دُوں تو تم اُس کے آگے سجدے میں گر جانا ( الحجر)


تو جو رب کر رہا ہے تم بھی کرو روح تمام تر نفسانی اور حیوانی دباؤ کے باوجود بھی مرعوب نہیں ہو گی۔۔ اور بالآخر ان دونوں پر قابض ہو کر انہیں کامیاب کرا دے گی۔۔ 

میں نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔ رب کیا کر رہا ہے؟؟؟

وہ مسکرایا اور بولا ۔۔۔

"رب نبی کریمﷺ پر درود بھیج رہا ہے۔۔"


واللہ و رسولہ اعلم بالصواب