روزہ رکھیں لیکن دل نہ دکھائیں
*روزہ رکھیں لیکن دل نہ دکھائیں*
✍🏻 عمر مدنی
10 رمضان المبارک 1444ھ ،
بعض افراد ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں افطار کے وقت دسترخوان میں نکتہ چینی کی عادت ہوتی ہے ،
کھانے میں نمک کم ہے یا زیادہ ہے پانی پھیکا ہے، یہ نہیں کیا، وہ نہیں کیا، اس طرح کی باتیں جبکہ بعض تو اخلاقی رو سے اتنے گئے گزرے ہوتے ہیں کہ وہ محض چھوٹی سی خطا پر گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں اور روزہ رکھ کر کچن میں اتنی دیر کھڑے ہونے کی محنت پر منٹوں میں پانی پھیر دیتے ہیں ،
ایسا نہیں کرنا چاہیے ،
*اس محنت پر تھینکس اور احسان کا بدلہ اور دعا کے ذریعے حوصلہ افزائی کرنے والے کہاں گئے؟؟*
اور کھانے میں عیب نکالنا خود ناشکری ہے
اور پیارے محترم نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اس طریقے کے خلاف ہے ،
جسے *بخاری و مسلم* نے روایت کیا کہ
*ما عاب النبي صلي الله عليه وسلم طعاما قط إن اشتهاه أكله وإلا تركه*
کہ ہادی برحق علیہ السلام نے کھانے میں کبھی عیب نہ نکالا ،پسند آتا تو تناول فرما لیتے نہ آتا تو چھوڑ دیتے ،
لہذا جو کھانا بنائے کھانا لائے کھانا رکھے انکا شکریہ ادا کیجئے ،
بیشک آپ کا شکریہ ادا کرنا ان کے لئے باعث خوشی و طمانیت ہوگا ،
اور جو خواتین روزہ دار فیملی کے لئے کھانا تیار کرتی ہیں انکے اجر کی تو کیا بات ہے ،
سرور عالم فداہ امی و ابی ارشاد فرماتے ہیں ،
*من فطر صائما كان له مثل اجره غير انه لا ينقص من اجر الصائم شيئا* ،
جس نے کسی کا روزہ افطار کروایا اسکے لئے اس روزے دار جیسا اجر ہوگا
اور روزہ دار کے اپنے اجر سے بھی کچھ کم نہ ہوگا
رواہ الترمذی و ابن ماجہ ،
🌹 اپنی (والدہ زوجہ بہن ) کا شکریہ ادا کریں اور دسترخوان سجنے کے بعد انکے لئے دعا کریں ، کیونکہ اس سے انکی تھکن دور ہوجائے گی اور انہیں آپکی خدمت کرنے میں مزید لطف و سرور حاصل ہوگا

Comments
Post a Comment