قرآن مجید مختصر تعارف

 *قرآن مجید ۔۔۔ مختصر تعارف۔۔*


اسلام الہامی مذاہب میں سب سے آخری مذہب اور نبی کریمﷺ خاتم النبین ہیں۔ اس لحاظ سے قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے ،جسے اس کرہ ارض کے خاتمہ تک رشد و ہدائت اور شفاء کا باعث رہنا ہے ۔ اللہ تعالٰی نے جتنے بھی انبیاء کرام  مبعوث فرمائے انہیں معجزات سے نوازا تاکہ روز ازل کے وعدہ ہدایت کا اتمام حجت ہو سکے۔ ان انبیاء کرام کے معجزات ان کی حیات پاک کے دوران کارآمد اور رہنما رہے یا قوم کے لئے بطور حجت عذاب کا باعث ہوئے۔ لیکن انبیاء کرام  کی رحلت کے بعد وہ معجزات کتابوں اور صحائف کا حصہ بن گئے اور حقیقی زندگی میں ان کا عمل دخل فعال نہ رہا۔ جس طرح حضرت موسی علیہ السلام  کا عصا ( لاٹھی)، یا حضرت عیسی علیہ السلام  کا مردوں کو زندہ کرنا۔ 

جبکہ نبی کریمﷺ نے قران مجید کو معجزہ عظیم قرار فرمایا ،اور یہ رسول کریمﷺ کے ظاہری دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد بھی معجزہ ہے اور تاقیامت معجزہ رہے گا ۔ 

ترجمہ :.نبی کریم ﷺنے فرمایا ”انبیاء میں سے کوئی نبی ایسا نہیں جن کو کچھ نشانیاں  ( یعنی معجزات )  نہ دئیے گئے ہوں جن کے مطابق ان پر ایمان لایا گیا  ( آپ ﷺنے فرمایا کہ )  انسان ایمان لائے اور مجھے جو بڑا معجزہ دیا گیا وہ قرآن مجید ہے جو اللہ نے میری طرف بھیجا، پس میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن شمار میں تمام انبیاء سے زیادہ پیروی کرنے والے میرے ہوں گے۔“ 

قرآن مجید حالات اور واقعات کی بنیاد پر کم وبیش  23 سال کے دور نبوت میں نازل ہوا۔۔قرآن میں کل 114 سورتیں ہیں جن میں سے 87 مکہ میں نازل ہوئیں اور وہ مکی سورتیں کہلاتی ہیں اور 27 مدینہ میں نازل ہوئیں اور مدنی سورتیں کہلاتی ہیں ۔۔

قرآن میں لفظ قرآن قریباً 70 دفعہ آیا ہے اور متعدّد معانی میں استعمال ہوا ہے۔ یہ عربی زبان کے فعل قرأ کا مصدر ہے جس کے معنی ہیں ’’اُس نے پڑھا ‘‘ یا ’’اُس نے تلاوت کی‘‘

نزول قرآن کے متعدد مراحل طے کیے گئے جو حسب ذیل ہیں:


پہلے مرحلے میں قرآن لوح محفوظ پر نازل ہوا۔ اس نزول کا مقصد یہ تھا کہ اسے لوح محفوظ میں ثبت اور قرآن کو ناقابل تغیر کر دیا جائے۔ اس نزول کی دلیل قرآن سے اخذ کی گئی ہے  "بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَّجِيدٌ  فِي لَوْحٍ مَّحْفُوظٍ"

لوح محفوظ سے آسمان میں موجود ایک مقام بیت العزت میں شب قدر کو نازل ہوا۔  درج ذیل حدیثیں بھی اس کی دلیل ہیں: عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ "قرآن کو لوح محفوظ سے نکال کر آسمان دنیا کے ایک مقام بیت العزت پر اتارا گیا، جہاں سے جبریل پیغمبر پر لے جایا کرتے تھے"۔ ابو شامہ مقدسی نے اپنی کتاب المرشد والوجيز عن هذا النزول میں لکھا ہے: "علما کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ قرآن لوح محفوظ سے بیت العزت میں ایک ہی رات کو مکمل نازل ہوا اور جبریل نے اسے یاد کر لیا۔ کلام الہی کی ہیبت سے آسمان والے غش کھا گئے، جب جبریل کا ان پر سے گزر ہوا تو انہیں ہوش آیا اور  بعد ازاں جبرئیل نے کاتب فرشتوں کو اس کا املا کرایا، 

بیت العزت سے جبریل نے بتدریج قلب پیغمبر پر اتارا، نزول قرآن کا یہ مرحلہ تیئیس برس کے عرصہ پر محیط ہے( وکیپیڈیا )

قرآن پاک میں کل رکوع کی تعداد 540 ہیں  آیات کی تعداد مین اختلاف ہے کہیں6666 ہے حالانکہ اگر آپ خود گنتی کریں تو 6236 ہیں۔ جبکہ الفاظ کی تعداد 77701 ہے۔اور 30 سپاروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔۔ 

قرآن پاک کی سب سے بڑی سورۃ البقرہ ہے اور سب سے چھوٹی سورۃ الکوثر ہے جبکہ قرآن کی سب طویل آیت بھی سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 282 ہے ۔

 سورتوں میں 35 سورتیں ایسی ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ دوبار نازل ہوئیں ہیں ایک بار مکہ میں اور ایک بار مدینہ میں جیسے سورہ رحمن، سورہ رعد، سورہ زلزال وغیرہ۔

قرآن پاک میں کل 1015030 نقطے ہیں، زبر 39586 مرتبہ استعمال کیا گیا ہے جبکہ زیر39586 مرتبہ مستعمل ہے۔

25 انبیاء کرام کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔ اور یہ تعداد کچھ اس طرح سے ہے:

آدم علیہ السلام : 25

ادریس علیہ السلام : 2

نوح علیہ السلام : 63

ہود علیہ السلام : 7

صالح علیہ السلام : 9

ابراہیم علیہ السلام : 69

لوط علیہ السلام : 27

اسماعیل علیہ السلام : 12

اسحاق علیہ السلام : 17

یعقوب علیہ السلام : 16

‏یوسف علیہ السلام :27

ایوب علیہ السلام : 6

شعیب علیہ السلام :11

موسیٰ علیہ السلام :136

ہارون علیہ السلام :19

یونس علیہ السلام :6

داؤد علیہ السلام :16

سلیمان علیہ السلام :17

الیاس علیہ السلام :3

الیسع علیہ السلام :2

زکریا علیہ السلام :8

یحی علیہ السلام :6

عیسی علیہ السلام :25

‏محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم: 5

اور نبی کریمﷺکے علاوہ 5 انبیاء نوح،ابراھیم، یونس ، یوسف ،ھود علیھم سلام کے نام پر سورتیں موجود ہیں۔۔ 


قران مجید میں اللہ کریم نے نبی کریمﷺ کو نا صرف ان کے ذاتی نام مبارک سے پکارا بلکہ ان کے صفاتی ناموں سے بھی پکارا ۔۔اور ان ناموں کی سورہ مبارک تعداد کم وبیش 20 سے زیادہ ہیں ۔۔جیسے کہ 

طہ ،یاسین ، مزمل ،مدثر، نور،جمعہ مفسرین یہاں تک کہتے ہیں کہ جس طرح طہ اور یاسین حروف مقطعات ہیں اسی طرح جتنی بھی سورہ پاک حروف مقطعات سے شروع ہوتی ہیں وہ حضور ہی کے القاب ہیں جنہیں صرف اللہ اور ان کا حبیب کریمﷺ ہی جانتے ہیں ان حروف مقطعات والی سورتوں کی تعداد 29 ہے۔۔ جن میں سورہ ق اور ص علیحدہ سورتیں ہیں۔۔ 

    اسی طرح سے مزمل اور مدثر حضور نبی کریمﷺکے  صفاتی اسمائے گرامی ہیں ۔۔ جو قران میں " یا ایھا" سے شروع ہوتے ہیں ۔۔ جس کے اردو معنی ہیں "اے" یعنی خطاب حال میں ہے ۔۔ جبکہ آپ کا وصال پاک ہو چکا ہے۔۔ اب اگر قیامت ایک لمحہ بعد ہو ،ایک ہزار سال بعد ہو یا ایک کروڑ سال بعد یہ سورتیں " یا" کے صیغہ سے پڑھی جائیں گی۔۔   

نبی کریمﷺ اپنی زندگی میں دین مکمل فرما گئے ہیں۔۔ اور صحابہ کرام  اسی دین کو آگے لے کر چلے۔۔ اس زمانے میں کوئی حنفی،مالکی ،حنبلی  شافعی یا جعفری نہیں تھا ۔۔ اور الحمد للہ  دین پھر بھی مکمل تھا۔۔  سورہ محمد  میں اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کیوں آیا ہے ؟؟؟

اس لئے کہ اللہ نے صاف صاف بتا دیا کہ چاہے جتنے نیک عمل کر لو۔۔ ایمان لانے کے بعد اگر اس پر عمل نہیں کرو گے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ناذل ہوا ہے تو سب اعمال تمہارے ضائع ہو جائیں گے۔۔

ترجمہ:اور وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور جو کچھ محمد پر نازل کیا گیا اس پر بھی ایمان لائے حالانکہ وہ ان کے رب کی طرف سے برحق بھی ہے، تو اللہ ان کی برائیوں کو مٹا دے گا اور ان کا حال درست کرے گا۔


اسی طرح حضورنبی کریمﷺکے جسم اطہر اور اعضاء کریمہ کی تعریف میں سورہ نجم ،الم نشرح ، اور سورہ قلم ہیں اور سورہ قلم میں تو اللہ کریم نے نبی کریم کا دل دکھانے والے کو 10 برے القاب دئے ہیں۔۔ جو تا قیامت پڑھے جائیں گے۔۔ سورہ نجم میں تو اللہ کریم نے نبی پاک کی آنکھوں کی طاقت اور توانائی کی یوں تعریف فرمائی ہے کہ

جب آپ لامکاں میں تھے تب بھی عجائبات قدرت سے نہ آپ کی آنکھوں کی پتلیاں  پھیلی اور نا حیرت اور نور سے سکڑیں۔۔ اپنی اصل حالت میں برقرار رہیں۔۔ 


مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰى (17) 

ترجمہ: نہ تو نظر بہکی نہ حد سے بڑھی۔


اسی طرح حضور کی جنگی حکمت عملی پر مفصل سورتیں موجود ہیں جن میں بقرہ،آل عمران ،انفال، احزاب  ، حشر اور فتح شامل ہیں۔ اور ان کی جزئیات پر یوں اللہ کریم نے تبصرہ فرمایا ہے جیسے دو لوگ کسی چیز کو ایک ساتھ دیکھتے ہوئے اس پر گفتگو یا تبصرہ کریں ۔۔اور حضور کریمﷺ کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ فرماتے ہوئے ۔۔ یہ بھی ارشاد فرما دیا کہ

ترجمہ: سو تم نے انہیں قتل نہیں کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل کیا ۔ اور آپ نے خاک کی مٹھی نہیں پھینکی بلکہ اللہ تعالیٰ نے وه پھینکی۔۔(سورہ انفال) 

اسی طرح صلح حدیبیہ میں جب لوگ بیعت کر رہے تھے نبی کریمﷺکے  دست مبارک پر تو اللہ کریم نے ان کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا۔۔

اسی طرح حضور کے قبیلہ ، آپ کے شہر اور آپ کو عطا ہونے والی نعمتوں پر سورہ قریش۔( آپ کا ایک صفاتی نام قریشی ہے) آپ کے شہر مکہ پر سورہ التین، اور میری نظر میں آپ کے شہر مدینہ پر سورہ بلد جس کی شروع کی آیات ہیں ۔

ترجمہ: مجھے اس شہر کی قسم کہ (اے محبوب! )تم اس شہر میں تشریف فرما ہو۔ 

اسی طرح کوثر بھی آپ کا صفاتی ناموں میں سے ایک ہے۔۔ 

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی ازواج مطہرات کے حجرات پر مشتمل سورہ حجرات ہے۔۔ جس میں آقا کریمﷺ کی شان کے بارے میں انسانوں کو اس حد تک متنبی  کیا گیا ہے کہ وہ حضور کے سامنے اونچی آواز سے بات بھی نہ کریں کہیں ان کے سارے اعمال اللہ ضائع نہ کر دیں۔۔ اس کے بعد صحابہ کرام  اس حد تک محتاط ہو گئے تھے کہ آپ کریمﷺکے  حجرات کے باہر آپ کو بلانے کو آواز نہ نکالتے صرف کپڑے یا ٹاٹ کے پردے پر اپنے ناخن سے تین بار دستک دیتے اور پھر انتظار کرتے۔۔ حضرت عمر نے تو خود کو گھر میں قید فرما لیا کہ ان کی آواز بلند تھی۔۔ آپ کے وصال پاک کی خبر کے طور پر سورہ نصر اور اپ کی وحی کی ابتداء سورہ علق سے کی جس میں خطاب ڈائیرکٹ نبی مکرم سے ہے۔۔

اسی طرح وہ تمام سورتیں جن میں دیگر انبیاء کرام کا زکر ہے ان تمام میں اللہ کریم نے اپنے حبیب کریمﷺ سے خطاب یا ان کی صفات کا زکر کیا ہے۔۔ غرض پورا قران دراصل نبی کریمﷺ ہی کی شان ہے۔۔

میرا ارادہ تھا کہ سیرت النبی کریمﷺ کو قرآن پاک سے قبل شروع کروں ۔۔ مگر جیسے جیسے قرآن پڑھتا جاتا ہوں تو یوں لگتا ہے کہ جس طرح ہر ذی شعور شخص نے نبی کریمﷺکی  سیرت پاک لکھی ہے۔۔ دراصل اس کی ابتدا اللہ کریم نے قرآن پاک کی صورت میں دنیا کو نبی کریمﷺکی سیرت پاک سے متعارف فرمایا ۔۔ سب سے پہلی سیرت نبوی دراصل قرآن پاک ہے۔۔ 

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و کردار اور اخلاق واعمال کے مشاہدے کا موقع ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضي الله تعالى عنها کو میسر آیا تھا کیوں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفیقہٴ حیات تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر ظاہری اور خانگی معمولات و عادات سے واقف تھیں۔ ایک مرتبہ چند صحابی رضي الله تعالى عنه حضرت عائشہ صدیقہ رضي الله تعالى عنها کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے امّ المومنین ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور معمولات بیان فرمائیے۔ تو عائشہ صدیقہ نے جواب دیا کہ کیا تم لوگوں نے قرآن نہیں پڑھا؟ کان خلق رسول القرآن ”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن تھا“ (ابوداؤد شریف)


Comments