کاش اس دن زمین پھٹ جاتی
کاش اس دن زمین پھٹ جاتی ۔۔۔
اس کا نام محمد عاید مصطفیٰ الذوعبی تھا ۔ اردن کا رہنے والا یہ خوبصورت نوجوان ، یونیورسٹی میں میرا کلاس فیلو اور بہت ہی اچھا دوست تھا ۔
اس دن یونیورسٹی میں داتا صاحب کے عرس کی چھٹی تھی ۔ میں صبح دیر تک سونا چاہتا تھا ، مگر کوئی ساڑھے آٹھ بجے ہی میرے کمرے کا دروازہ بجنا شروع ہو گیا ۔ میں نے بند آنکھوں کو کھولتے کھولتے دروازہ کھولا تو باہر ، محمد کھڑا تھا ۔
مستر ریاض ، وائی دا یونیورستی از کلوزد تو دے ۔۔۔؟؟؟ ( ریاض صاحب آج یونیورسٹی کیوں بند ہے )
میں نے بتایا ، کہ آج داتا صاحب کا عرس ہے ۔ یعنی حضرت علی ہجویری کی ڈیتھ انیورسری ہے ۔ اور سب لوگ ان کے مزار پہ جا کر خراج عقیدت پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ اس لئے آج پورے لاہور میں لوکل چھٹی ہے ۔
ہُو واز داتا صاحب ۔۔۔ ؟؟؟ اس نے اپنے سر پہ بندھے سفید اور سرخ رومال کی کالی رسی ، سیدھی کرتے ہوئے پوچھا ۔
میں نے بتایا کہ متحدہ ہندوستان میں ، یہاں ہندوؤں اور سکھوں کی اکثریت تھی ۔ مسلمان بہت کم تھے ۔ اور جو تھے بھی ، وہ ہندوانہ رسم و رواج ، اور مشرکانہ رہن سہن میں لتھڑے ہوئے تھے ۔
ایسے میں اللہ پاک نے ہم پہ اپنا بڑا کرم کیا ، اور علی ہجویری نامی ایک بزرگ کو یہاں بھیجج دیا ۔ انہوں نے لاہور کے بارہ دروازوں کے باہر ، ایک کھلی جگہ پر ڈیرہ لگایا ۔ اور لوگوں کو اللہ کی راہ پہ لگانا شروع کر دیا۔
انہوں نے اپنے حسن اخلاق ، اور کردار کی روشنی سے لوگوں کے دل منور کر دیئے۔ بہت سے ہندووں اور سکھوں کو مسلمان کیا ۔ اور مسلمانوں میں پائے جانے والے شرکیہ رسم و رواج ، اور باطل نظریات کو ختم کیا ۔ ہم جو ، آج یہاں مسلمان بنے گھوم رہے ہیں ، یہ سب ان کی محنت کے صدقے سے ہی ہے ۔ اور ان کی اسی فضیلت کے باعث ، ہم انہیں داتا صاحب کہتے ہیں ۔
اس نے اپنی نظریں جھکا لیں ۔ اور اپنی مادری زبان ، عربی میں کچھ کہا ۔ جس میں سے ، ماشااللہ کے سوا ، مجھے کچھ سمجھ نہ آ سکا ۔
پھر وہ میرے گلے لگ گیا ، اور بہت ہی رندھی ہوئی آواز میں کہنے لگا ، مستر ریاض آئی وانت تو گو تو داتا صاحب ، رائت ناؤ ۔ لت اس موو کوئکلی ۔۔۔۔ (ریاض صاحب ، میں اسی وقت داتا صاحب کے مزار پہ جانا چاہتا ہوں ۔ چلو فورا نکلیں )
میرا بھی داتا صاحب کے عرس پہ جانے کا یہ پہلا اتفاق تھا ۔ وہاں پہنچے تو بہت سے شامیانے لگے تھے ۔ لال ، سبز ، اور سیاہ جھنڈیاں لہرا رہی تھیں ۔ مختلف لاؤڈ سپیکرز سے قوالیوں ، گانوں اور لوگوں کو سرکس پہ بلانے کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں ۔
ذرا آگے بڑھے تو بائیں طرف ، الجھے بالوں والے بہت سے میلے کچیلے ملنگ ، سگریٹ کا گاڑھا دھواں ، اپنے نتھنوں سے نکال رہے تھے ۔ اور کچھ ، پاؤں میں گھنگرو باندھ کر دھمال ڈال رہے تھے ۔ مگر ہم مزار کی طرف بڑھتے رہے ۔
ذرا آگے گئے ، تو لکڑی کے پھٹوں پر چڑھے ہوئے کچھ خواجہ سرا ، اپنے پورے میک اپ اور زرق برق لباس میں ملبوس ہو کر ، کسی چنچل گانے کی ردھم پر ، اپنا جسم مٹکا رہے تھے ۔
مزار میں داخل ہوئے تو بہت سے لوگ دروازے کی چوکھٹ پہ سجدہ ریز ہوتے نظر آئے ۔ کئی لوگ ، دروازے کو چوم رہے تھے ۔ اور کچھ شیطانی نظریں ، دربار میں آئی جوان لڑکیوں کا تعاقب کر رہی تھیں ۔
ہم دونوں کی نظریں ملیں ، تو میں نے نظریں جھکا لیں ۔ محمد کہنے لگا ، مجھے یقین ہے کہ تم مجھے کسی غلط جگہ پر لے آئے ہو ۔ یہ تو علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کا مزار نہیں ہو سکتا ۔
میں نے اسے بتایا کہ یہی ان کے مزار کی جگہ ہے ۔ وہ دیکھو سامنے ان کے مزار کا سبز گنبد نظر آ رہا ہے ۔
اس کے چہرے کا رنگ لال ہو گیا ۔ کہنے لگا اگر تم نے ٹھیک کہا تھا کہ اس شخص نے اسلام کے پھیلاؤ ، اور مسلمانوں کی مشرکانہ حرکات ختم کرنے کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کر دی تھی ۔ تو سلام ہے تم لوگوں پر ، کہ آج بھی وہی مشرکانہ حرکتیں کر رہے ہو ۔ اور وہ بھی عین ان کے مزار پہ آ کر ، اور ٹھیک ان کے فوتگی والے دن ۔۔۔۔
اور میرے لئے اس دن زمین نہیں پھٹی ، کہ میں محمد کا سامنا کرنے کی بجائے ۔ اس زمین میں گڑ جاتا ۔

Comments
Post a Comment