مفت آٹا اور سبسڈائزڈ پٹرول

 *مفت آٹا اور سبسڈائزڈ پٹرول*!

جب سےموجودہ امپورٹڈحکومت پاکستان پرمسلط ہوئی ہے، Beggars can't be choosers حکمرانی کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں ہیں انہوں نے پوری قوم کو بھکاری بنا کر رکھ دیا ہے ہے عمران خان پر بدترین تنقید کرنے والے ہمارے دوستوں کواب بھی مہنگائی عمرانی دور کا دیا گیا تحفہ ہی محسوس ہوتی ہے، انہیں 75 روپے کلو ملنے والا آٹا مہنگا اور ایک سو ساٹھ روپے کلو ملنے والا سستا محسوس ہوتا ہے، بھکاری حکومت نے پہلے پہل یوٹیلیٹی اسٹورز پر قطاریں لگوائیں، بعد ازاں یوٹیلٹی سٹور پسے خریداری کرنے کے لئے شناختی کارڈ کارڈ کی شرط رکھی،بعد ازاں موبائل فون سے کسی خاص نمبر پر میسج بھیج کر کوڈ لینے کی شرط عائد کی اور انجام کار یوٹیلیٹی اسٹورز  پر سستا آٹا فراہم کرنا بند کر دیا،اور دو سو روپے فی 10 کلو مہنگا کر کے گاڑیوں پر مختلف علاقوں میں بھجوانا شروع کر دیا،جو کہ گاڑیوں کے پاس لمبی لمبی قطاریں آئے روز دیکھنے کو ملتی رہتی ہیں،اور اب یہ درفنطنی چھوڑی ہے کہ غریبوں کو آٹا مفت فراہم کیا جائے گا،لیکن اس میں معمول آٹے کی قلت پیدا ہو چکی ہے اور لوگ آٹے کی تلاش میں دربدر پھر رہے ہیں،

اور آج انہوں نے موٹر سائیکل سواروں کو سستا پیٹرول دینے بارے بھی پھلجھڑی تھوڑی چھوڑ دی ہے، کہ شنید ہے کہ موٹر سائیکل سواروں کو 50 یا 100روپے لیٹر تک رعایتی نرخوں پر پٹرول ملے گا،ہم جس قوم سے تعلق رکھتے ہیں ہیں اور ان آنکھوں نے خود دیکھا ہے کہ کورونا کے دوران میں لوگوں نے خیراتی سامان گھروں میں اسٹاک کر لیا اور بعد ازاں اسے کوڑے کے ڈھیر پر پھینکتے نظر آئے، جہاں شادی بیاہ کے موقع پر مہمانوں کے سامنے اعلان کیا جائے کہ کھانا "کھول" دیا گیا ہے اور اس کے "کھلتے" ہی لوگ بھوکے گِدھوں کی طرح اس پر ٹوٹ پڑیں،جس میں تعلیم یافتہ اور کم تعلیم کے حامل افراد کی کوئی قید نہیں بلکہ "تعلیم یافتہ" اکثر بڑے گِدھوں کا روپ دھارے نظر آتے ہیں، جہاں کسی بھی چیز کی قلت پیدا ہو تو لوگوں کا یہ رجحان ہو کہ وہ اپنے گھروں میں سامان زخیرہ کرلیں اوراا کارنامے پر فخر کرتے نظر آئیں،وہاں کیا لوگ سستے پٹرول کو اسٹور کرنے سے روکے جا سکیں گے؟ یوٹیلٹی سٹور سے سستی چینی خرید کر مہنگے داموں بیچنے والے دکاندار تو آج بھی موجود ہیں،امپورٹڈ حکومت سے گزارش ہے کہ جگاڑ لگانے کی پالیسی کو اپناچھوڑ دیں اور لانگ ٹرم پالیسی کا نفاذ کریں

Comments