سورہ التکاثر کی روشنی میں ازدواجی تعلقات
سورہ التکاثر کی روشنی میں ازدواجی تعلقات
آج میں نے قرآن کریم کھولا تو نظروں
کے سامنے سورہ التکاثر آگئی میں پڑھنے لگی تو ساتھ ترجمہ بھی پڑھتی گئی۔
سورہ التکاثر میں اللہ کریم فرماتے ہیں ترجمہ۔۔۔
لوگوں تمھیں کثرت مال نے اللہ کی یاد سے غافل کر دیا ہے۔
یہاں تک کہ تم قبروں کو جا ملتے ہو ۔
ایسا ہر گز نہیں چاہیے جلد تم جان جاو گے۔
پھر ایسا ہر گز نہیں چاہیے جلد ہی تم جان جاؤ گے۔
ایسا ہر گز نہیں ہونا چاہیے کاش تم پقینی طور پر جان لیتے۔
کہ تمھیں ضرور جہنم کو دیکھنا ہے۔
پھر تم جہنم کو بلکل یقینی طور پر دیکھ لو گے۔
پھر اسی دن تم سے نعمتوں کے بارے میں سوال ہو گا۔
وضاحت۔۔۔۔
اس سورت میں موت،قبر،قیامت حشر و حساب کے حقائق اور دوزخ کے مناظر بیان کئے گئے ہیں اور ان لوگوں کی مذمت کی گئی یے جو صرف دنیا کی زندگی کو اپنا مقصد بنا لیتے ہیں اور دنیا کا ایندھن جمع کرنے میں لگے رہتے ہیں ان کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے انہیں دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے لیکن پھر اچانک موت آجاتی ہے جس کی وجہ سے ان کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور انہیں قصر سے قبر کی طرف منتقل ہونا پڑتا ہے ان لوگوں کو ڈرایا گیا قیامت کے دن تمام اعمال کے بارے میں سوال ہو گا تم جہنم کو ضرور دیکھو گے تم سے اللہ کی نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
اوپر تین بار کہا گیا کہ "تم جان جاو گے" پہلے ہم لیتے ہیں علم الیقین کو کہ ہم نے اللہ کریم نے جو حکم دیا اسکو سنا پھر ہم عین الیقین پر آئے تو اس حکم کو دیکھا اور سمجھنے کی کوشش کی اور پھر جب ہم نے اس حکم کو جاننے کے بعد اپنی زندگی میں اپلائی کیا تو ہم حقیقت پر آگئے ۔اب علم الیقین سے حقیقت پر آتے جو راستہ ہمیں یہاں تک لے کر آیا وہ معرفت کا راستہ تھا
سورہ التکاثر ہمارے زندگی میں بڑا گہرا اثر ڈالتی ہے التکاثر کے معنی کسی بھی چیز کے زیادتی کے ہیں جو ہماری زندگی کو ہلاکت میں ڈالتی ہے۔ اور یہ زیادتی ہمیں کیسے علم الیقین سے حقیقت تک کا سفر کرواتی ہے۔
میں اسے میاں اور بیوی کے رشتے سے ہی شروع کرتی ہوں اللہ کریم نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس کہا ہے میں اک سادہ سی مثال دیتی ہوں جوتے کا ایک جوڑا ہے ایک سیدھے پاؤں کا ایک الٹے پاؤں کا نا سیدھا پاؤں الٹے میں پورا آتا ہے نا الٹا پاؤں سیدھے میں پورا آتا ہے دونوں پاؤں اپنی اپنی جگہ پر رہ کر اپنی اپنی ذمہ داری نبھاتے ہیں اور پورے جسم کا بوجھ اٹھاتے ہیں اگر ان دونوں میں سے ایک بھی کمزور ہو جائے گا تو وہ التکاثر(زیادتی ) میں کھو جائے گا وہ بوجھ بانٹ نہیں سکیں گے لہذا ایک کو ٹوٹنا پڑے گا۔
اگر میاں اور بیوی دونوں اس بات کو لے کر چلیں گے کہ میاں کے خاندان اور بیوی کے خاندان میں کون کیا کر رہا ہے کیا سن رہا کیا دیکھ رہا کیا سہہ رہا تو دونوں التکاثر میں ہی پھنس کر رہ جائیں گے ان سب میں وہ دونوں ایک دوسرے کو ہی فراموش کر دیں گے ان کے نزدیک انکی حیثیت گھر کے اک ملازم کی طرح ہو جائے گئ کہ ہر بات ہر فرد کو پتہ ہو گی سوائے ان دونوں کے کیوں کہ زیادتی نے انکو اپنے اندر ہی الجھانے رکھا وہ اصل تک پہنچ ہی نہیں پائے اس سب میں وہ ایک دوسرے کو کھو دیں گے گھر خراب ہو جائے گا علیحدگی ہو جائے گی پھر کھچہ باقی نہیں رہے اس سورت کو بیان کرنے کا مقصد یہاں پر یہ ہے کہ کسی بھی چیز کی زیادتی دولت، شہرت رشتے ہر وہ چیز جو ہمارے پاس زیادہ مقدار میں ہو وہ ہمیں تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔
ترجمہ۔۔۔
"پھر اس دن ضرور تم سے نعمتوں کے بارے میں سوال ہوگا"
تو جب سوال کرنے والی ذات ہم سے سوال کرے گی اسکا جواب کیا ہوگا ہمارے پاس شوہر کیا کہے گا میں اپنے خاندان میں کھو کر حق ادا نہیں کر سکا بیوی کیا کہے گی میں اپنے خاندان میں رہ کر حق ادا نہیں کر سکی اللہ کریم نے ہر کام میں
میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے پھر کیوں ہم اللہ کریم کی حدود سے باہر نکل کر اللہ کریم کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں جب وہ سوال کرے گا اس بات کا کیا جواب ہوگا وہ تو دلوں کے حال بھی جانتا ہے۔
قرآن کریم میں اللہ کریم فرماتے ہیں
ترجمہ۔۔۔
کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے اور اللّٰہ اسے کئی گنا بڑھا چڑھا دے اور اللّٰہ ہی(لوگوں کا رزق) تنگ اور کشادہ کرتا ہے تمھیں اسی کے ہاں لوٹ کر جانا ہے
(سورہ البقرہ آیت # 245)
اب ہمارا یہاں یہ کام ہے کہ ہم نے اللہ کریم کو قرض حسنہ دینا ہے کوئی بھی کام صرف اللہ کریم کی رضا کے لئے کرنا اپنے آپکو سائیڈ پر رکھ کر اور خاموشی سے سب حق ادا کرنے ہیں اور اللّٰہ کریم سے دعا کرنی ہے یا اللہ ہمیں توفیق عطا فرما کیوں کہ اللہ ہی تنگی دیتا ہے اور کشادگی دیتا ہے اب اللہ کریم کو قرض حسنہ دینے والے سارے راستے ہی دنیا داری سے ہو گزرتے ہیں شریعت سے حقیقت تک کا سفر بڑا دشوار لگتا ہے پر کوشش کی جا سکتی ہے یہ پل صراط کی تلوار سے تیز والا سفر ہے ہم نےاس کی ابتداء اپنے آپ سے کرنی ہے اور اپنے گھروں کے سکون کو بہال رکھنا ہے التکاثر سے نکل کر قرض حسنہ کی طرف آنا ہے ۔عورت ہونے کے ناتے ہمارا سفر ہمارے شوہر کے گھر سے شروع ہو کو اللہ کریم تک پہنچے گا اپنے شوہر کو قرض حسنہ دے کر ہم اللہ کریم کے سپرد کر دیں گے پھر مالک جانیں اور اسکا کام ۔شوہر ہر عورت کے دل کا بادشاہ ہوتا ہے انگریزی کا ایک مقولہ ہے
"A king is not complete without his queen "
اگر مرد عورت کے دل کا بادشاہ ہے تو عورت مرد کے دل کی ملکہ ہے ۔
پھر ہمیں اللہ کریم سے اپنے اچھے اور صبر والے رویوں کے لئے توفیق مانگنی ہے کہ ہم تیری ہی رضا کی خاطر سب سہہ جائیں اس دنیا کے التکاثر نے ہمیں اللہ کریم کی یاد سے غافل کر دیا ہے اور رشتہ ازدواج جو اللہ کریم کی نعمتوں میں سے ایک خوبصورت تحفہ ہے اس کو ضائع ہونے سے بچانا ہے
نظر بھی رکھے سماعتں بھی
وہ جان لیتا ہے نیتیں بھی
سعدیہ حامد


Comments
Post a Comment