ہمسایئہ جِبریلِ امیں بندۂ خاکی

 ہمسایۂ جِبریلِ امیں بندۂ خاکی۔۔۔


بابا جی۔۔ آج مولوی صاحب فرما رہے تھے کہ حضور نبی کریمﷺ نے دو مرتبہ جبرائیل امین  کو ان کی اصل شکل میں ملاحظہ فرمایا۔۔ بلکہ بتا رہے تھے کہ جب آقاﷺنے انہیں ان کی اصل شکل میں دیکھنے کی خواہش کا اظہار فرمایا تو انہیون نے کہا کہ آپ کریمﷺ مجھے دیکھنے کی تاب نہی رکھتے۔۔۔ کیا یہ سچ ہے۔۔ 

بابے نے غور سے میری طرف دیکھا کیونکہ میں ایک سانس میں ہی سب کہہ گیا تھا۔۔انہوں نے خلا میں گھورنا شروع کر دیا ۔ پھر میری جانب دیکھ کر بولے۔۔ بیٹا !!! علم کی جس کھڑکی سے مولوی صاحب یہ دیکھ رہے ہیں۔۔ وہ بالکل سچ کہتے ہیں۔۔ 

اب یہ بحث کہ آقا کریمﷺ نے جبرائیل امین کو کتنی بار دیکھا کیسے دیکھا out dated ہو چکی ہے۔۔ہاں۔۔لیکن میں یہ تو نہیں جانتا کہ آقاﷺنے کتنی بار جبرائیل امین کو ان کی اصل حالت میں دیکھا ہے۔۔ لیکن  آقاﷺ کے غلاموں نے کتنی بار دیکھا یہ کچھ واقعات سنا سکتا ہوں ۔۔

ایک روز سید الشہداء حضرت حمزہ  رضی اللہ عنہ نے نبی صلی ﷲعلیہ وسلم سے کہا: مجھے حضرت جبرئیل علیہ السلام اپنی اصل شکل میں دکھا دیں۔آپ کریمﷺ نے فرمایا: آپ ان کو دیکھ نہ سکیں گے۔انھوں نے اصرار کیا تو آقاﷺنے دکھایا کہ حضرت جبرئیل کعبہ کی اس لکڑی پر اترے جس پر طواف کرنے والے اپنے کپڑے لٹکا دیتے ہیں۔ان کے پاؤں سبز زمرد کی طرح تھے۔ حضرت حمزہ انھیں دیکھتے ہی بے ہوش ہو گئے۔


غزوہ بدر میں جب جبرائیل آمین تشریف لائے تو حضور نبی کریمﷺ نے اس طرح ان کا تعارف صحابہ سے فرمایا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی میں فرمایا تھا، یہ ہیں حضرت جبرائیل علیہ السلام اپنے گھوڑے کا سر تھامے ہوے اور ہتھیار لگائے ہوئے۔  صحیح بخاری

اسی طرح یہ بھی روایت ہے کہ صحابی نے آواز سنی کہ حضرت جبرائیل  اپنے گھوڑے کو ایڑھ لگا رہے ہیں اور حملہ کر رہے ہیں۔۔ 

سیدنا ابن عباسؓ نے حدیث بیان کی کہ اس روز ایک مسلمان ایک کافر کے پیچھے دوڑ رہا تھا جو کہ اس کے آگے تھا، اتنے میں اوپر سے کوڑے کی آواز سنائی دی وہ کہتا تھا کہ بڑھ اے حیزوم (حیزوم اس فرشتے کے گھوڑے کا نام تھا) پھر جو دیکھا تو وہ کافر اس مسلمان کے سامنے چت گر پڑا۔ مسلمان نے جب اس کو دیکھا کہ اس کی ناک پر نشان تھا اور اسکا منہ پھٹ گیا تھا، جیسا کوئی کوڑا مارتا ہے اور وہ (کوڑے کی وجہ سے ) سبز ہو گیا تھا۔(یہ واقعہ سورہ انفال کی تشریح میں ہے)

اسی طرح اپنی سعادت پر جبرائیل امین خوش ہو کر آقاﷺ سے پوچھتے ہیں کہ۔۔۔

حضرت رفاعہ بن ابی رافع رضی اللہ عنہ جو کہ بدری صحابہ میں سے ہیں بیان فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر دریافت کیا: (یا رسول اللہ!) آپ غزوئہ بدر میں شرکت کرنے والے (صحابہ) کو کیسا سمجھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اُنہیں مسلمانوں میں سب سے افضل شمار کرتا ہوں یا ایسا ہی کوئی دوسرا کلمہ استعمال فرمایا، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: غزوئہ بدر میں شمولیت کرنے والے فرشتے بھی دوسرے فرشتوں میں اِسی طرح ہیں۔‘‘


اِسے امام بخاری، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے۔

اسی طرح صحابہ یہ بات جانتے تھے کہ جب آقاﷺ غزوات میں تشریف لے کر جاتے ہیں تو آپ کریمﷺکے پشت پر ملائکہ کی افواج ہوا کرتی تھیں ۔۔


’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے چلتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک کو فرشتوں کے لئے چھوڑ دیتے۔‘‘


اِسے امام حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔


اور چلنا اس طرح ہوتا کہ چند قدم آگے دائیں حضرت ابوبکر اور بائیں جانب حضرت عمر چلتے اور آپ کریمﷺکے چند قدم پیچھے دائیں طرف حضرت جبرائیل اور بائیں طرف حضرت میکائیل  چلتے اور ان کے بعد درجہ بدرجہ ملائکہ۔۔


حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے لیے دو وزیر آسمان والوں میں سے اور دو وزیر زمین والوں میں سے ہوتے ہیں۔ سو آسمان والوں میں سے میرے دو وزیر، جبرائیل و میکائیل علیھما السلام ہیں اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر ابو بکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) ہیں۔‘‘

اِسے امام ترمذی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔

جنگ احد میں حضرت جبرائیل اور میکائیل آقاﷺ کی خصوصی حفاظت پر معمور تھے۔۔

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جنگ اُحد کے روز میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو ایسے آدمیوں کو دیکھا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے لڑ رہے تھے۔ اُنہوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے اور بڑی بہادری سے بر سرِ پیکار تھے۔ میں نے اُنہیں اِس سے پہلے دیکھا تھا نہ بعد میں، یعنی وہ جبرائیل و میکائیل علیہما السلام تھے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ صحیح البخاری 

اب سنو !!! اگر جبرائیل امین علیہ السلام  وزیر نہ ہوتے تو کبھی اپنی دعا اور خواہش حضور سے عرض کرتے۔۔ کیا ایسا بھی کبھی ہوا ہے کہ وزیر کا چہرہ دیکھ کر بادشاہ ڈر کر بے ہوش ہو جائے؟؟؟

شب معراج میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب سدرة المنتہی تک پہنچے تو جبرائیل امین وہاں رک گئے اور عرض کیا ، یا رسول اللہ ، اب میں یہاں سے بال برابر بھی آگے نہیں بڑھ سکتا، اگر میں یہاں سے آگے بڑھا تو نورانیت سے جل جاؤں گا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اچھا ، اے جبرائیل تمہاری کوئی حاجت ؟ جبرائیل امین نے عرض کیا، اللہ سے میرے لیے سوال کیجئے کہ قیامت کے روز آپ کی امت کے لیے میں پل صراط پہ اپنا پر بچھا دو ں تاکہ آپ کی امت آسانی سے گذر جائے۔(مواہب لدنیہ ، جلددوم، صفحہ ۲۹)

اسی طرح حضرت حسان بن ثابت جب کفار کے اشعار کا جواب دیتے اور حضور کی تعریف فرماتے تو اس وقت جبرائیل امین حضرت حسان کی مدد کر رہے ہوتے۔۔یعنی ان کو الفاظ کا چناو اور علم لدنی سے اشعار کہلواتے۔۔ تو کیا کہیں تاریخ میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے غیر نبی کی بھی اس طرح مدد کی ہے؟؟؟ 

’’حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا : مشرکین کی ہجو کرو (یعنی ان کی مذمت میں اشعار پڑھو) اور جبرائیل علیہ السلام بھی (اس کام میں) تمہارے ساتھ ہیں۔‘‘ (یہ متفق علیہ حدیث ہے )


اللہ کے بندے۔۔ ہم اولیاء کرام کی کرامات میں زمین آسمان کے قلابیں ملاتے ہیں ۔۔اور کہتے ہیں کہ فلاں چور تھا جب ولی اللہ کی نظر پڑی تو وہ وقت کا بزرگ بن گیا۔۔ 

لیکن جب بات نبی کریمﷺ کی ہوتی ہے تو شک و شش و پنج میں پڑھ جاتے ہیں۔۔ 

دیکھو ۔۔۔ یہ بات تم جانتے ہو بلکہ ہم سب جانتے ہیں کہ جبرائیل امین، میکائیل علیہ السلام یا فرشتوں کو صرف انبیاء  کرام دیکھ سکتے ہیں ۔۔اور گفتگو فرماتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ انبیاء علیہ السلام  کی فریکیونسی  فرشتوں کے نور سے زیادہ لطیف ہوتی ہے تبھی تو انہیں جسم کے ساتھ انبیاء کرام دیکھ پاتے ہیں۔۔ یعنی نورانیت میں انبیاء  کرام فرشتے سے زیادہ لطیف ہوتے ہیں۔۔ لیکن نبی کریمﷺکے  صحابہ بھی اگر جبرائیل امین، میکائیل علیہما السلام اور دیگر فرشتوں کی افواج کو دیکھتے ہیں تو سوچو۔۔۔ نبی کریمﷺ کے صحابہ کرام کی فریکیونسی  نور کے کس درجہ پر ہو گی؟؟ ان کا تقوی اور مقام کیا ہو گا۔۔


سنو !!! اگر اولیاء اللہ چور کو قطب بنا سکتے ہیں تو قران اپنے اولوالعزم انبیاء کی شان اس طرح بیان فرماتا ہے کہ ۔ ان انبیاء کی دعا سے عام بندہ نبی بن سکتا ہے۔۔ کیا تمہارا سوچ سکتے ہو کہ نبی رب سے گزارش کریں کہ میرے بھائی کو نبی بنا دیں اور وہ نبی بن جائے۔۔ 

یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔؟ میں نے چونک کر پوچھا۔۔ 

بابا مسکرایا اور بولا ۔۔ جب اللہ کریم نے موسی علیہ السلام کو نبوت عطا کی تو انہوں نے عرض کی کہ میرے بھائی کو میرا معاون بنا دیں ۔۔ جسے اللہ نے قبول کیا اور ہارون علیہ السلام کو نبی کر دیا گیا۔۔ 


سورہ طہ میں حضرت موسی علیہ السلام کی عرضی ہے کہ

ترجمہ: اور میرے لیے میرے کنبے میں سے ایک معاون بنا دے۔ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔اس سے میری کمر مضبوط کردے۔

جس کا جواب اللہ کریم نے یوں ارشاد فرمایا۔۔

ترجمہ؛ فرمایا اے موسٰی تیری درخواست منظور ہے۔اور البتہ تحقیق ہم نے تجھ پر ایک دفعہ اور بھی احسان کیا ہے۔( طہ) 


اب سوچو !!! حضرت موسی علیہ السلام  نے شب معراج آقاﷺ کی اطاعت میں نماز ادا کر کے آقاﷺ کو اپنا امام تسلیم فرمایا۔۔ وہ تو ایک ہارون علیہ السلام  تھے جن کو نبی بنا کر اللہ نے جبرائیل علیہ السلام  سے لطیف فرما دیا۔۔ آقاﷺ خاتم النبیّین  ہیں ۔۔اگر آقاﷺ کے بعد کوئی نبی ہوتا تو شائد یہ تمام  ڈیڑھ لاکھ صحابہ انبیاء ہوتے۔۔ یا کم از کم اصحاب بدر تو تمام نور اور تقوی کے اس لطیف مقام پر فائز تھے کہ جبرائیل امین کو دیکھ اور سن سکتے تھے۔۔ تم دیکھو نا ۔۔ حضرت حمزہ جانتے تھے نا کہ آقاﷺ انہیں جبرائیل امین کو ان کی اصل حالت میں دکھا سکتے ہیں۔۔ یعنی آپ کریمﷺ کی نظر کرم سے صحابہ کرام نور کے اس لطیف مقام کو پہنچ جاتے تھے جہاں جبرائیل امین اپنی اصل شکل میں مجسم ہوتے۔۔ یہ آقاﷺ کا اختیار ہے۔۔ اب اس سے آگے کا فیصلہ تم پر چھوڑتا ہوں ۔۔ مولانا ظفر علی خان نے کیا خوب کہا ہے۔۔۔


جلتے ہیں جبرائیل کے پر جس مقام پر

اس کی حقیقتوں کے شناسا تمہی تو ہو

سب کچھ تمہارے واسطے پیدا کیا گیا

سب غایتوں کی غایت اُولٰی تمہی تو ہو


Comments