پاکستانی امپائر علیم ڈار





پاکستانی امپائر علیم ڈار

پاکستانی امپائر علیم ڈار کا 24 سالہ کیریئر کا شاندار اختتام ہوگیا ہے۔

پاکستانی امپائر علیم ڈار بطور آئی سی سی ایلیٹ پینل امپائر اپنے آخری میچ میں ذمہ داریاں نبھانے کے بعد فیلڈ سے رخصت ہوگئے ہیں، ڈھاکہ میں ختم ہونے والا بنگلہ دیش اور آئرلینڈ کے درمیان واحد ٹیسٹ میچ ان کے کیریئز کا آخری انٹرنیشنل میچ تھا جس کے اختتام پر انہیں دونوں ٹیموں کی جانب سے سلامی دی گئی۔

صوبہ پنجاب کے ضلع جھنگ سے تعلق رکھنے والے 54 سالہ علیم ڈار آئی سی سی کے ایلیٹ پینل میں شامل ہونے والے پہلے پاکستانی امپائر تھے،انہوں نے بطور امپائر اپنا انٹرنیشنل ڈیبیو سنہ 2000 میں کیا جس کے بعد امپائرنگ کی دنیا میں وہ تیزی سے ابھرے

2002ء میں آئی سی سی نے علیم ڈار کو اپنے انٹرنیشنل پینل آف امپائر میں شامل کیا جس کے بعد وہ 2004 میں آئی سی سی کے ایلیٹ پینل میں شامل ہوگئے، انٹرنیشنل کرکٹ میں ممتاز امپائرز میں سے ایک علیم ڈار نے مجموعی طور پر مینز اور ویمنز کرکٹ کے 444 میچز میں امپائرنگ کے فرائض سر انجام دیے ہیں۔

پاکستانی امپائر نے 2006 کی چیمپیئنز ٹرافی، 2007 اور 2011 کے آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل کے ساتھ 2010 اور 2012 کے ٹی20 ورلڈ کپ کے فائنل میں بھی امپائرنگ کے فرائض سر انجام دیے۔

سورہ التکاثر کی روشنی میں ازدواجی تعلقات

 


سورہ التکاثر کی روشنی میں ازدواجی تعلقات

آج میں نے قرآن کریم کھولا تو نظروں

 کے سامنے سورہ التکاثر آگئی میں پڑھنے لگی تو ساتھ ترجمہ بھی پڑھتی گئی۔

سورہ التکاثر میں اللہ کریم فرماتے ہیں ترجمہ۔۔۔

لوگوں تمھیں کثرت مال نے اللہ کی یاد سے غافل کر دیا ہے۔

یہاں تک کہ تم قبروں کو جا ملتے ہو ۔

ایسا ہر گز نہیں چاہیے جلد تم جان جاو گے۔

پھر ایسا ہر گز نہیں چاہیے جلد ہی تم جان جاؤ گے۔

ایسا ہر گز نہیں ہونا چاہیے کاش تم پقینی طور پر جان لیتے۔

کہ تمھیں ضرور جہنم کو دیکھنا ہے۔

پھر تم جہنم کو بلکل یقینی طور پر دیکھ لو گے۔

پھر اسی دن تم سے نعمتوں کے بارے میں سوال ہو گا۔

وضاحت۔۔۔۔

اس سورت میں موت،قبر،قیامت حشر و حساب کے حقائق اور دوزخ کے مناظر بیان کئے گئے ہیں اور ان لوگوں کی مذمت کی گئی یے جو صرف دنیا کی زندگی کو اپنا مقصد بنا لیتے ہیں اور دنیا کا ایندھن جمع کرنے میں لگے رہتے ہیں ان کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے انہیں دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے لیکن پھر اچانک موت آجاتی ہے جس کی وجہ سے ان کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور انہیں قصر سے قبر کی طرف منتقل ہونا پڑتا ہے ان لوگوں کو ڈرایا گیا قیامت کے دن تمام اعمال کے بارے میں سوال ہو گا تم جہنم کو ضرور دیکھو گے تم سے اللہ کی نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

اوپر تین بار کہا گیا کہ "تم جان جاو گے" پہلے ہم لیتے ہیں علم الیقین کو کہ ہم نے اللہ کریم نے جو حکم دیا اسکو سنا  پھر ہم عین الیقین پر آئے تو اس حکم کو دیکھا اور سمجھنے کی کوشش کی اور پھر جب ہم نے اس حکم کو جاننے کے بعد اپنی زندگی میں اپلائی کیا تو ہم حقیقت پر آگئے ۔اب علم الیقین سے حقیقت پر آتے جو راستہ ہمیں یہاں تک لے کر آیا وہ معرفت کا راستہ تھا 

 سورہ التکاثر ہمارے زندگی میں بڑا گہرا اثر ڈالتی ہے التکاثر کے معنی کسی بھی چیز کے زیادتی کے ہیں جو ہماری زندگی کو ہلاکت میں ڈالتی ہے۔ اور یہ زیادتی ہمیں کیسے علم الیقین سے حقیقت تک کا سفر کرواتی ہے۔

میں اسے میاں اور بیوی کے رشتے سے ہی شروع کرتی ہوں اللہ کریم نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس کہا ہے میں اک سادہ سی مثال دیتی ہوں جوتے کا ایک جوڑا ہے ایک سیدھے پاؤں کا ایک الٹے پاؤں کا نا سیدھا پاؤں الٹے میں پورا آتا ہے نا الٹا پاؤں سیدھے میں پورا آتا ہے دونوں پاؤں اپنی اپنی جگہ پر رہ کر اپنی اپنی ذمہ داری نبھاتے ہیں اور پورے جسم کا بوجھ اٹھاتے ہیں اگر ان دونوں میں سے ایک بھی کمزور ہو جائے گا تو وہ التکاثر(زیادتی ) میں کھو جائے گا وہ بوجھ بانٹ نہیں سکیں گے لہذا ایک کو ٹوٹنا پڑے گا۔

اگر میاں اور بیوی دونوں اس بات کو لے کر چلیں گے کہ میاں کے خاندان اور بیوی کے خاندان میں کون کیا کر رہا ہے کیا سن رہا کیا دیکھ رہا کیا سہہ رہا تو دونوں التکاثر میں ہی پھنس کر رہ جائیں گے ان سب میں وہ دونوں ایک دوسرے کو ہی فراموش کر دیں گے ان کے نزدیک انکی حیثیت گھر کے اک ملازم کی طرح ہو جائے گئ کہ ہر بات ہر فرد کو پتہ ہو گی سوائے ان دونوں کے کیوں کہ زیادتی نے انکو اپنے اندر ہی الجھانے رکھا وہ اصل تک پہنچ ہی نہیں پائے اس سب میں وہ ایک دوسرے کو کھو دیں گے گھر خراب ہو جائے گا علیحدگی ہو جائے گی پھر کھچہ باقی نہیں رہے اس سورت کو بیان کرنے کا مقصد یہاں پر یہ ہے کہ کسی بھی چیز کی زیادتی دولت، شہرت رشتے ہر وہ چیز جو ہمارے پاس زیادہ مقدار میں ہو وہ ہمیں تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔

ترجمہ۔۔۔

"پھر اس دن ضرور تم سے نعمتوں کے بارے میں سوال ہوگا"

تو جب سوال کرنے والی ذات ہم سے سوال کرے گی اسکا جواب کیا ہوگا ہمارے پاس شوہر کیا کہے گا میں اپنے خاندان میں کھو کر حق ادا نہیں کر سکا بیوی کیا کہے گی میں اپنے خاندان میں رہ کر حق ادا نہیں کر سکی اللہ کریم نے ہر کام میں 

 میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے پھر کیوں ہم اللہ کریم کی حدود سے باہر نکل کر اللہ کریم کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں جب وہ سوال کرے گا اس بات کا کیا جواب ہوگا وہ تو دلوں کے حال بھی جانتا ہے۔

قرآن کریم میں اللہ کریم فرماتے ہیں 

ترجمہ۔۔۔

کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے اور اللّٰہ اسے کئی گنا بڑھا چڑھا دے اور اللّٰہ ہی(لوگوں کا رزق) تنگ اور کشادہ کرتا ہے تمھیں اسی کے ہاں لوٹ کر جانا ہے

(سورہ البقرہ آیت # 245)

اب ہمارا یہاں یہ کام ہے کہ ہم نے اللہ کریم کو قرض حسنہ دینا ہے کوئی بھی کام صرف اللہ کریم کی رضا کے لئے کرنا اپنے آپکو سائیڈ پر رکھ کر اور خاموشی سے سب حق ادا کرنے ہیں اور اللّٰہ کریم سے دعا کرنی ہے یا اللہ ہمیں توفیق عطا فرما  کیوں کہ اللہ ہی تنگی دیتا ہے اور کشادگی دیتا ہے اب اللہ کریم کو قرض حسنہ دینے والے سارے راستے ہی دنیا داری سے ہو گزرتے ہیں شریعت سے حقیقت تک کا سفر بڑا دشوار لگتا ہے پر کوشش کی جا سکتی ہے یہ پل صراط کی تلوار سے تیز والا سفر ہے ہم نےاس کی ابتداء اپنے آپ سے کرنی ہے اور اپنے گھروں کے سکون کو بہال رکھنا ہے التکاثر سے نکل کر قرض حسنہ کی طرف آنا ہے ۔عورت ہونے کے ناتے ہمارا سفر ہمارے شوہر کے گھر سے شروع ہو کو اللہ کریم تک پہنچے گا اپنے شوہر کو قرض حسنہ دے کر ہم اللہ کریم کے سپرد کر دیں گے پھر مالک جانیں اور اسکا کام ۔شوہر ہر عورت کے دل کا بادشاہ ہوتا ہے انگریزی کا ایک مقولہ ہے 

"A king is not complete without his queen "

اگر مرد عورت کے دل کا بادشاہ ہے تو عورت مرد کے دل کی ملکہ ہے ۔

پھر ہمیں اللہ کریم سے اپنے اچھے اور صبر والے  رویوں کے لئے توفیق مانگنی ہے  کہ ہم تیری ہی رضا کی خاطر سب سہہ جائیں اس دنیا کے التکاثر نے ہمیں اللہ کریم کی یاد سے غافل کر دیا ہے اور رشتہ ازدواج جو اللہ کریم کی نعمتوں میں سے ایک خوبصورت تحفہ ہے اس کو ضائع ہونے سے بچانا ہے 

نظر بھی رکھے سماعتں بھی 

وہ جان لیتا ہے نیتیں بھی


سعدیہ حامد

آئن سٹائن اور اُس کی بیوی

 آئن سٹائن اور اُس کی بیوی




آئن سٹائن نے دوسری شادی مائلیوا نامی خاتون سے کی، اِس شادی کی دلچسپ بات وہ معاہدہ ہے جو اُس نے اپنی بیوی کے ساتھ کیا، معاہدے میں طے پایا کہ اُس کی بیوی اُس کے کپڑے اور سامان ہمیشہ صاف اور بہترین حالت میں رکھے گی،تینوں وقت کا کھانا آئن سٹائن کو اُس کے کمرے میں دیا جائے گا، آئن سٹائن کے کمرے، سٹڈی روم اور خاص طور پر اُس کی میز بالکل صاف رکھی جائے گی اور کوئی فالتو چیز یہاں نظر نہیں آئے گی، جب تک آئن سٹائن کا موڈ نہ ہو بیگم اُس سے کوئی بات نہیں کرے گی، آئن سٹائن دیگر لوگوں کے سامنے اپنی بیگم سے لاتعلق رہے گا! غالباً یہی وہ مجاہدانہ اقدام ہیں جن کی بدولت آئن سٹائن نے اتنی ذہانت پائی۔
میں سوچ رہا ہوں کہ اگر آئن بھائی اپنی بیوی سے اتنا سخت رویہ نہ رکھتے اور نرمی سے پیش آتے تو صورتحال کیا ہونی تھی۔
بیوی: آئن۔۔۔وے آئن۔۔۔!!!
آئن سٹائن: جی جان۔۔۔کیاہوا؟؟؟
بیوی : وے کوکنگ آئل ختم ہوگیا ہے!!!
آئن سٹائن: اوہو۔۔۔جان ابھی دو دن پہلے تو لایا تھا۔
بیوی: وے یاد کر۔۔۔تجھے پانچ کلو کاڈبہ لانے بھیجا تھا اور تُو کلو والا پیکٹ لے آیا تھا۔
آئن سٹائن: اچھا تھوڑی دیر تک لادیتا ہوں، ذرا ایک سائنسی تھیوری لکھ لوں۔
بیوی: وے اگ لگے تیری سائنس کو۔۔۔آئل لے کے آ ، اور ہاں ایک پیکٹ ماچسوں کا اور پانچ روپے کا ’’استنبول کا چھلکا‘‘ بھی لیتے آنا
آئن سٹائن : پلیز جان۔۔۔بس صر ف آدھے گھنٹے کی مہلت دے دو،میری ریسرچ مکمل ہونے والی ہے۔
بیوی: دفع دور۔۔۔جب دیکھو سائنس ،جب دیکھو سائنس۔۔۔نہ تونے اتنی سائنس پڑھ کے کون سا عالم لوہار بن جانا ہے؟؟؟
آئن سٹائن: پلیز جان ایسا مت کہو۔۔۔سائنس میری زندگی ہے، میں ہر وقت سائنس کے حصار میں رہتا ہوں۔
بیوی: ہا۔۔۔ہائے۔۔۔شادی سے پہلے تو تم نے کہا تھا کہ میں گڑھی شاہو میں رہتا ہوں؟؟؟
آئن سٹائن: اوہو جان، میرا مطلب ہے کہ میں ہروقت سائنس میں گم رہتا ہوں، سائنس میرا عشق ہے، میرا پیار ہے۔
بیوی: لخ لعنت ہے بھئی تیرے عشق پر۔۔۔اگر اتنا بڑا سائنسدان ہے تو میری ایک بات کا جواب دے۔۔۔!!!
آئن سٹائن: پوچھو جان۔۔۔!!!
بیوی: چل یہ بتا میری وڈی خالہ کا السر کب ٹھیک ہوگا؟؟؟
آئن سٹائن: وہ۔۔۔مم۔۔۔مجھے کیا پتا؟؟؟
بیوی: مجھے پہلے ہی پتا تھا تیرے جیسے نکمے بندے کو سواہ تے مٹی پتا ہونا ہے۔۔۔روندا سائنس نوں۔۔۔!!!
آئن سٹائن: پپ۔۔۔پلیز جان۔۔۔اگر اجازت ہو تو تھوڑا کام کرلوں؟؟؟
بیوی: وے کام تونے کیا کرنا ہے، ویلیاں کھائی جاتا ہے، ہزار دفعہ کہا ہے
میرے تائے کے بیٹے کے ساتھ سبزی منڈی چلا جایا کر، وہ بھی بہت
بڑا سائنسدان ہے۔۔۔!!!
آئن سٹائن: وہ کیا کرتاہے جان؟؟؟
بیوی: سبزی منڈی میں بڑے اور چھوٹے پیاز الگ الگ کرتاہے۔۔۔!!!
آئن سٹائن: لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔۔۔جان کہاں وہ ، کہاں میں۔۔۔!!!
بیوی: ظاہری بات ہے کہاں وہ روز کا دو سوروپیہ کمانے والا اور کہاں تُوسسرالیوں کے ٹکڑوں پر پلنے والا۔۔۔!!!
آئن سٹائن : پلیز جان۔۔۔ایسے تو نہ کہو۔۔۔میرے سسرالی تو خود لنگر پر گذارہ کرتے ہیں۔۔۔!!!
بیوی: کیا کہا؟۔۔۔وے تیرا بیڑا غرق۔۔۔تیری ریسرچ میں کیڑے پڑیں۔۔۔وہ نہ مدد کریں تو تُو بھوکا مرجائے۔۔۔!!!
آئن سٹائن: اچھا پلیز جان۔۔۔یہ لڑائی بعد میں کرلینا۔۔۔میرا ذہن کسی اور طرف ہے۔۔۔!!
بیوی: مجھے پہلے ہی شک تھا، سامنے والی ہمسائی کی کھڑکی بھی تھوڑی سی کھلی ہوئی ہے، سچ سچ بتا آئن سٹائن۔۔۔تیرا ذہن کس کی طرف ہے؟جھوٹ بولا تو میں تیری سائنس بند کردوں گی۔
آئن سٹائن: فار گاڈ سیک جان۔۔۔میرے پاس ایسے کاموں کے لیے وقت نہیں، میرا دماغ تو ہر وقت اپنے سائنسی کام میں مگن رہتا ہے۔
بیوی: سب جانتی ہوں میں تیرے نکمے سائنسی دماغ کو۔۔۔ٹی وی کا ریموٹ تو تجھ سے ٹھیک ہوتا نہیں، وڈا آیا سائنسدان۔۔۔!!!
آئن سٹائن: (آہ بھر کر) ٹھیک ہے میری جان۔۔۔آج سے سائنس ختم، کل سے میں بھی سبزی منڈی جایا کروں گا۔۔۔!!!
بیوی: (خوشی سے) واقعی؟۔۔۔ہائے آئن سٹائن۔۔۔تم کتنے جینئس ہو۔۔۔!!!

معاذ بن جبل یمن کا گورنر

 معاذ بن جبل یمن کا گورنر


معاذ بن جبل کو یمن کا گورنر مقرر کرنے کے بعد، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اگر آپ کو قرآن یا سنت میں واضح حکم نہیں ملے گا تو وہ حکومت کیسے کریں گے؟ اس نے جواب دیا کہ وہ کوشش کرے گا (یعنی مسائل کے حل کے لیے عقل کا استعمال کرے گا)۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے استدلال کو منظور فرمایا۔

مندرجہ بالا واقعہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عقل اللہ تعالیٰ کا انسانوں کے لیے سب سے بڑا تحفہ ہے جس کی وجہ سے وہ وقت کے تقاضوں کا مقابلہ کرنے، ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے اور زندگی کے مشکل مسائل کو حل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
عقل کیا ہے؟ یہ دماغ کی صلاحیت ہے کہ وہ عمل کے صحیح راستے کو تلاش کرے جو حتمی سچائی کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ غور و فکر، غور و فکر، تجزیہ اور اللہ کی نشانیوں پر توجہ مرکوز کرنے کے ذریعے کیا جاتا ہے جو ہمارے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہیں۔
اسلام واضح ہے کہ عقل کہاں اور کیسے استعمال کی جائے۔ قرآن پاک کہتا ہے کہ اسے ایمان اور ساتھی انسانوں کی خدمت میں استعمال کرنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اسے صحیح سے غلط کی چھانٹ کرنے، کائنات کے رازوں کو دریافت کرنے، اخلاقیات کو فروغ دینے، معاشرے میں برائیوں سے پرہیز کرنے، سماجی مسائل کے حل، چیلنجز سے نمٹنے اور معاشرے کی مستقبل کی سمت کو متعین کرنے کے لیے استعمال کیا جانا ہے۔ .
عقل کا استعمال ایمان کا تقاضا ہے۔
اسی وجہ سے انسان کو تخلیق کا تاج سمجھا جاتا ہے۔ وہ خدا کی تمام مخلوقات میں برتر ہے۔
انسانوں اور دوسری مخلوقات میں سب سے بڑا فرق عقل کا ہے۔ انسان عقل اور منطق سے چلتا ہے۔ وہ فکری سرگرمیوں میں مشغول ہو سکتے ہیں، جبکہ دیگر مخلوقات زیادہ تر اپنی جبلتوں سے چلتی ہیں۔ یہ بنیادی فرق ہے جو انسان کو دوسری مخلوقات سے الگ کرتا ہے۔
تاریخی طور پر، تمام معاشروں اور تمام عہدوں میں انسانوں نے ابھرتے ہوئے مسائل کو سمجھنے اور ان کو صحیح طریقے سے حل کرنے کے لیے اپنے فکری آلات بشمول مشاہدہ، منطق اور تجربہ کرنے کی صلاحیت، تخیل اور بصیرت کا استعمال کیا ہے۔ سینکڑوں سال پہلے ہم میں سے بہت سے لوگ کچے مکانوں میں رہتے تھے، اندھیرے میں راتیں گزارتے تھے اور جانوروں کا گوبر یا لکڑیاں جلا کر کھانا پکاتے تھے۔ لیکن اب زندگی کا ہر پہلو بدل چکا ہے۔ یہ عقل کا کمال ہے جس نے ہمیں زندگی کو جدید بنانے کے قابل بنایا ہے۔
اپنی عقل کے منظم استعمال سے انسان اپنی زندگیوں کو بدلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ درحقیقت ان کی زندگیاں مسلسل بدل رہی ہیں۔ ہماری عقل ہم سے روزمرہ کے مسائل پر سنجیدگی، معروضی، قابلیت اور مقصدیت سے سوچنے کا تقاضا کرتی ہے۔ اللہ ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو انسانیت کے عظیم مقصد میں مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اگرچہ انسان بنیادی طور پر دانشور مخلوق ہیں، لیکن ان میں سے اکثر کو اس حقیقت کا بمشکل ادراک ہوتا ہے۔ وہ اپنی عقل کو منظم طریقے سے استعمال نہیں کرتے کیونکہ ان میں سے بہت سے ان کی جبلتوں اور جذبات پر قابو پاتے ہیں۔ وہ نادانی سے کام کرتے ہیں اور غلطیاں کرتے ہیں۔ پاکستان کو معیشت، ماحولیات، صحت کی دیکھ بھال اور انسانی زندگی کے دیگر پہلوؤں میں کئی مسائل کا سامنا ہے۔ اس کا حل عقل کو استعمال کرنے میں ہے جو ایمان کا تقاضا ہے۔ اسلام ایک فکری عقیدہ ہے۔ یہ عوام کو تعلیم فراہم کرکے عقل کے استعمال اور فروغ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ یہ روٹ سیکھنے، دھوکہ دہی یا سرقہ کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا ہے بلکہ تحقیق کے ذریعے عقل کو تلاش کرتا ہے۔
جن قوموں نے عقل کو منظم طریقے سے استعمال کرنے کو اپنی پالیسی بنالی ہے وہ قوموں کی جماعت میں بہت ترقی کر چکی ہیں۔ انہوں نے بہت سے تھنک ٹینکس بنائے ہیں جہاں مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے دانشورانہ سوچ کی تلاش کی جاتی ہے۔ وہ سیاست، معاشیات، صحت کی دیکھ بھال، دفاع وغیرہ کے شعبوں میں پالیسی سازی میں اپنی قیادت کی رہنمائی کرتے ہیں۔ کچھ قومیں جو پیچھے رہ جاتی ہیں ان کی ناکامی اکثر ناقص سوچ میں پائی جاتی ہے جہاں عقل کا استعمال نہ ہونے کے برابر رہتا ہے۔
یہ اس بات کی وجہ ہے کہ ہمیں ہر وقت نئے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، نئے مسائل جنم لیتے ہیں، نئے مظاہر سامنے آتے ہیں اور نئے چیلنجز سامنے آتے ہیں- یہ سب اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ انسان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی عقل کا استعمال کرے۔ اس لیے اسلام اپنے نزول کے وقت سے ہی زندگی کے تمام معاملات میں عقل کے استعمال پر بہت زور دیتا رہا ہے۔
اسلام اپنی عقل کو استعمال نہ کرنے والوں کو مویشیوں سے تشبیہ دیتا ہے۔ انہیں 'گونگا' اور 'اندھا' اور 'مردہ دل' قرار دیا گیا ہے کیونکہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے۔ قرآنی آیت 25:44 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے "یا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں؟ وہ تو چوپایوں کی طرح ہیں۔ بلکہ وہ راستے سے اور بھی زیادہ بھٹک رہے ہیں" (معاشرے کی مستقبل کی سمت)
عقل پر مذہبی زور کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ریاست خصوصاً وزارت تعلیم کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیمی اداروں میں عقل کے منظم استعمال کو فروغ دے تاکہ آج کے طلباء زندگی کے ابھرتے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے بہتر تربیت یافتہ اور لیس ہو سکیں

ہر اِک تخلیق کے من کی صدا اللہ الف اللہ




ہر اِک تخلیق کے من کی صدا اللہ الف اللہ


انجینرنگ کا کمال اور اپنی تخلیق میں شاہکار، دہائیوں کی محنت و عرق ریزی کے بعد تیار کردہ یہ جیمز ویب ٹیلی سکوپ کا لینز نہیں بلکہ عام گھریلو مکھی کی آنکھ ہے۔ کتنا عظیم ہے اسے تخلیق کرنے والا، انسان آگاہ ہو کر بھی رب ذوالجلال سے لاعلم ہے۔

4000 سے 4500 انفرادی لینزوں (آنکھوں) پر مشتمل یہ مرکب آنکھ مکھی کو دیکھنے کے لئے 360 درجے کا زاویہ مہیا کرتی ہے۔ کیسی عجب تخلیق کہ ہر انفرادی لینز ایک مکمل دیکھنے والی آنکھ ہے۔ اس دنیا میں اس ننھی سی حقیر مخلوق کا ہر کوئی تو دشمن ہے۔ مکڑیاں ، مینڈک ، چھپکلی، چڑیاں یہاں تک کہ پودے بھی تو اس کے دشمن ہیں۔ پھر انسانوں، جانوروں اور پرندوں جیسی دیو ہیکل مخلوقات سے بھری دنیا میں اس کے چاروں طرف خطرات ہی خطرات ہیں اسی لئے عظیم رب نے اپنے دائیں، بائیں، اوپر ،نیچے اور پیچھے دیکھنے کے لئے دو مرکب آنکھوں کے صورت 8000 سے 9000 آنکھیں دے دیں__ پھر یہاں تک بس نہیں، یہ آنکھیں اپنے اردگرد 8 سے 9 ہزار امیجز کو سکین کرتی، انھیں انسانی دماغ سے سات گنا تیزی سے پراسس کر کے ایک مکمل تصویر بناتی اور کسی معمولی سے معمولی حرکت پر اس حقیر مخلوق کو فرار کے راستے بتاتی ہیں۔ کمال ہے وہ ذات جس نے اسے تخلیق کیا اور ہمارے سمجھنے کو قرآن پاک میں مثال دی

 يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ ۖ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ۚ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ (الحج)

"لوگو ایک مثال دی جاتی ہے اسے غور سے سنو! اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہو وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اس سے واپس نہیں لے سکتے۔ مددچاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد مانگی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔"


اور تم کہتے ہو کہ میں ایک ایسے زندہ یا مردہ انسان کو اپنا معبود بنا لوں جو ایک مکھی تخلیق کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا__ یہاں تک کہ اگر مکھی اس کے کھانے سے کوئی ذرہ اٹھا کر لے جائے، تو یہ اس قدر کمزور اور بے بس ہے کہ اس حقیر مخلوق سے اپنا کھانا واپس نہیں لے سکتا___ تم کہتے ہو کہ میں اپنے اور اس مکھی کو پیدا کرنے والے رب العالمین کو چھوڑ کر کسی پیر، فقیر، ملنگ، بابے کے پیچھے چل پڑوں۔ قرآن کریم میں رب العالمین نے ایک حقیر مخلوق کی مثال دے کر مجھے سمجھایا کہ یہ جن کو تم پکارتے ہو، یہ تو کمزور اور بے بس ہیں۔ تم مجھے مشورہ دیتے ہو کہ میں کمزوروں کی مان لوں__ میں دلیل مانگتا ہوں تو مجھے کشف و کرامات کے بے سند واقعات سناتے ہو، قرآن و سنت کے الہامی علم کو ظاہری کہہ کر طنز کرتے ہو جبکہ طریقت و معرفت کے نام پر علحدہ دین گھڑتے ہو۔


ہدایت تو یقینا میرے رب کی طرف سے ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین حنیف کی صحیح سمجھ عطا کریں۔


 

عجیب ترین چوری کا واقعہ

 عجیب ترین چوری کا واقعہ

 ایک نہایت شاطر اور ماہر چور نے چوری کی خاطر، مہنگا لباس زیب تن کرکے معزز اور محترم دکھائی دینے والے شیخ جیسا حلیہ بنایا اور صرافہ بازار میں سنار کی ایک دکان کے اندر چلا گیا۔ 

سنار نے جب اپنی دکان میں وضع قطع سے نہایت ہی رئیس اور محترم دکھائی دینے والے شیخ کو دیکھا جس کا نورانی چہرہ چمک رہا تھا، تو سنار کو ایسا لگا جیسے اس کی دکان کے بھاگ جاگ اٹھے ہوں ۔

اسے پہلی بار اپنی چھوٹی سی دکان کی عزت و وقار میں اضافے کا احساس ہوا۔

 سنار نے آگے بڑھ کر شیخ کا استقبال کیا۔

 شیخ کے بہروپ میں چور نے کہا: آپ سے آج خریداری تو ضرور ہوگی مگر اس سے پہلے بتائیں کیا آپ کے لیے ممکن ہے کہ آپ اپنی سخاوت سے ہمارے ساتھ مسجد بنانے میں حصہ ڈالیں؟ اس نیک کام میں آپ کا حصہ خواہ ایک درہم ہی کیوں نہ ہو۔

سنار نے چند درہم شیخ کے حوالے کئے ہی تھے کہ اسی اثناء میں ایک لڑکی جو درحقیقت چور کی ہم پیشہ تھی ، دکان میں داخل ہوئی اور سیدھی شیخ کے پاس جا کر اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیا، اور التجائیہ لہجے میں اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لیے خیر و برکت کی دعا کے لیے کہا۔

سنار نے جب یہ منظر دیکھا تو اس سے رہا نہ گیا اور معذرت خواہانہ لہجے میں کہنے لگا، اے محترم شیخ لاعلمی کی معافی چاہتا ہوں مگر میں نے آپ کو پہچانا نہیں ہے۔

 لڑکی نے یہ سن کر تعجب کا اظہار کیا اور سنار سے مخاطب ہوکر کہنے لگی، تم کیسے بدنصیب انسان ہو، برکت، علم، فضل اور رزق کا سبب خود چل کر تمھارے پاس آگیا ہے اور تم اسے پہچاننے سے قاصر ہو۔ 

لڑکی نے شیخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلاں علاقے کے مشہور و معروف شیخ ہیں، جنہیں خدا نے،  کثرت علم ، دولت کی فروانی اور ہر قسم کی دنیاوی نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے۔ انہیں انسانوں کے بھلے کے سوا کسی چیز کی حاجت نہیں ہے۔

لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بیتاب رہتے ہیں ۔


 سنار نے شیخ سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ؛ شیخ صاحب میں معافی کا طلبگار ہوں، میرا سارا وقت اس دکان میں گزرتا ہے اور باہر کی دنیا سے بے خبر رہتا ہوں،  اس لیے اپنی جہالت کی وجہ سے آپ جیسی برگزیدہ ہستی کو نہ پہچان پایا۔ 

 شیخ نے سنار سے کہا: کوئی بات نہیں انسان خطا کا پتلا ہے، غلطی پر نادم ہونے والا شخص خدا کو بہت پسند ہے۔ تم ایسا کرو ابھی میرا یہ رومال لے لو اور سات دن اس سے اپنا چہرہ پونچھتے رہو، سات دنوں کے بعد یہ رومال تمہارے لیے ایسی برکت اور ایسا رزق لے آئے گا جہاں سے تمہیں توقع بھی نہ ہو گی۔

 جوہری نے پورے ادب و احترام کے ساتھ رومال لیا، اسے بوسہ دیا، آنکھوں کو لگایا، اور اپنا چہرہ پونچھا، تو ایسا کرتے ہی وہ بے ہوش کر گرا۔ اس کے گرتے ہی شیخ اور اس کی دوست لڑکی نے سنار کی دوکان کو لوٹا اور وہاں سے فوراً رفو چکر ہوگئے۔


  اس واقعے کو جب چار سال گزر گئے اور سنار رو دھو کر اپنا نقصان بھول چکا تھا۔ تو چار سال کے بعد پولیس کی وردی میں ملبوس دو اہلکار سنار کی دکان پر آئے، ان کے ساتھ وہی چور شیخ تھا جس کو  ہتھکڑیاں لگی ہوئی ۔سنار اسے دیکھتے ہی پہچان گیا۔


 ایک پولیس والا سنار کے پاس آکر پوچھنے لگا کیا آپ اس چور کو جانتے ہیں؟ کیونکہ آپ کی گواہی سے ہی قاضی اسے سزا سنا سکتا ہے۔ سنار نے کہا کیوں نہیں اس نے فلاں فلاں طریقہ واردات سے مجھے بے ہوش کرکے میری دکان لوٹ لی تھی۔

پولیس والا شیخ کے پاس گیا اور اس کی ہتھکڑی کو کھولتے ہوئے کہنے لگا، تم نے جس طرح دکان لوٹنے کا جرم کیا تھا ٹھیک اسی طرح وہ ساری کارروائی دہراؤ تاکہ ہم طریقہ واردات کو لکھ کر گواہ سمیت قاضی کے سامنے پیش کرکے تم پر فرد جرم عائد کروا سکیں۔ شیخ نے بتایا کہ میں اس اس طرح داخل ہوا اور یہ کہا، اور میری مددگار لڑکی آئی اس نے فلاں فلاں بات کی، پھر میں نے رومال نکال کر دکاندار کو دیا۔

پولیس والے نے جیب سے ایک رومال نکال کر شیخ کو تھمایا، شیخ نے سنار کے پاس جاکر اسی طریقے سے اسے رومال پیش کیا تو پولیس والا سنار سے کہنے لگا، جناب آپ بالکل ٹھیک اسی طریقے سے رومال کو چہرے پر پھیریں جیسے اس دن پھیرا تھا۔ سنار نے ایسا ہی کیا اور وہ پھر سے بے ہوش ہوگیا۔  شیخ نے اپنے دوستوں کی مدد سے دوبارہ دکان لوٹ لی جنہوں نے پولیس والوں کا بھیس بدل رکھا تھا۔


 آج ہمارے ملک کا بالکل یہی حال ہے، ہر چار سال بعد چور بھیس بدل کر ہمارے پاس آتا ہے اور چکنی چپڑی باتوں سے ملک اور عوام کا سامان لوٹ کر پتلی گلی سے نکل لیتا ہے... ہر دفعہ ایک نیا منظر، نیا لباس، نیا بہروپ ، نئی شکل اور نیا حربہ جس سے عوام دھوکہ کھا کر اعتبار کرتیے ہیں 

اور، اور آخر میں محافظوں سمیت نکلتا وہی چور۔


منتخب

ایک انسان تین چہرے۔۔۔

  ایک انسان تین چہرے



میرا ایک دوست جس نے زندگی کا بڑا حصہ اولیاء اللہ کی خدمت میں گزارا ایک روز میرے پاس آیا تو میرے چہرے کو دیکھ کر کہنے لگا کہ کیا ہوا۔۔۔ تمہاری روح بجھی ہوئی ہے؟؟ میں چونکہ لیڈرشپ اور پرسنیلٹی ٹریننگز کا ماسٹر خود کو سمجھتا ہوں۔۔اور مجھے یہ زعم تھا کہ میں اپنے اندر کے احساسات سے باہر کے لوگوں کو مطلع نہیں ہونے دیتا ۔۔ اور خود پر یہ کنٹرول رکھتا ہوں کہ اپنے aura یعنی روح نفس کی دفاعی شیلڈ سے اندر کسی کو نہیں آنے دیتا۔۔ لیکن میرا دوست تو کہیں دور پڑی روح کے بجھنے کا سندیسہ دے رہا تھا۔۔۔ بڑی عجیب بات تھی۔۔  میں نے اس سے پوچھا تم نے روح کیوں کہا۔۔ 

تو وہ بولا۔۔ میرے بابا جی نے مجھے ایک خصوصی کام کے سلسلہ میں 2015 میں روس 10 روز کے لئے بھیجا تھا۔۔ وہاں جانے سے قبل انہوں نے ارشاد فرمایا تھا۔۔اس سفر میں تمہیں لوگوں کی حقیقی شکلوں سے تعارف ہو گا۔۔ میں حیران تھا کہ سب ہی تو اپنی حقیقی شکلوں کے ساتھ گھوم رہے ہیں صرف نفس کی بیرونی احتیاطی شیلڈ جس کا تعلق چھٹی حس سے ہے وہ کبھی کبھی مضبوط ہوتی ہے اور بندہ اصل چہرے اور imitation سے دھوکہ کھا جاتا ہے ۔۔ تو بابا بولے جب واپس لوٹو تو ملنے آنا۔۔ اب جاو کہ روس میں تمہارا شدت سے انتظار ہو رہا ہے۔۔ 

خیر جب وہ دوست روس پہنچا تو وہ بتاتا ہے کہ وہاں جب وہ کسی کلیسا یا پرانے قبرستان یا کسی سنسان جگہ جاتا تو بہت صاف ستھرے دکھنے والے، مذہبی لباس میں ملبوس لوگوں کے کالا سیاہ چہرے نظر آتے۔۔ اور وہ مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے۔۔ اپنے جسم سے ہوا میں اڑنے والے سیاہ جلے ہوئے کاغذ کے ٹکڑوں کی طرح کے ذرات مجھ پر پھینکتے۔۔ جن سے میرے جسم پر یوں محسوس ہوتا جیسے غلاظت اور بوجھ پڑھ گیا ہو۔۔ بازار میں پھرتے ہوئے کئی خواتین نے اور مرد حضرات نے حملہ کی کوشش کی۔۔ اور ان کے سرخ و سفید  چہرے کے پیچھےسیاہ چہرے ہوتے۔۔ اور آنکھیں ابل رہی ہوتیں ۔۔ 

وہ دوست کہنے لگا وہاں پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ خاکی، نفس اور روح مل کر ایک جسم بناتے ہین۔۔ جس کے اوپر کا cover  جسے روحانی زبان میں aura کہا جاتا ہے وہ ان تینوں میں سے جو حاوی ہو اس کے رنگ کا ہوتا ہے۔۔ اور اکثر نفس کا ہوتا ہے ۔۔ نفس کھنکتی مٹی میں سیاہی کی طرح ہے۔۔ 

ترجمہ: یقیناً ہم نے انسان کو کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے، پیدا فرمایا ہے ( الحجر)

اور اس ( نفس) کی شکل ہمیشہ کسی جانور سے مشابہت  رکھتی ہے۔۔ جو چہرے اور ہاتھوں اور خاص طور پر پیچھے سے دیکھنے پر نمایاں ہوتا ہے۔۔ 

میں نے اسے کہا یار یا تو لمبی چھوڑ رہے ہو یا ڈرا رہے ہو!!! سچ بتاو کیوں ایسا کہہ رہے ہو۔۔

وہ بولا تم بتاو۔۔ کیا ہوا ہے جو روح بجھی ہوئی ہے۔۔ میں خاموش ہو گیا ۔۔۔۔ 

وہ بولا تمہارے جسم میں ایک جنگ جاری ہے ۔۔۔ جس میں خناس نے روح کو ڈھانپ لیا ہے۔۔ اور خناس جسم میں( خدشات) کا جنریٹر ہے۔۔ 

میں نے کہا بالکل تم ٹھیک کہتے ہو۔۔ میں مستقبل سے مایوسی ہوں ۔۔۔ سمجھ نہیں آ رہا۔۔ 

وہ قہقہہ لگا کر ہنسا ۔۔ اور بولا یعنی ابلیس بنے ہو۔۔ کیونکہ مستقبل سے حال سے صرف ابلیس ہی مایوس ہے۔۔

پھر کہنے لگا۔۔ انسان کے جسم میں سب سے زیادہ انسان کی شناخت کرانے والا اس کا چہرہ ہے۔۔ پورے جسم کا aura علیحدہ ہے۔۔ صرف چہرے کا aura علیحدہ ہے۔۔ یہ بالکل  آج کے جدید ٹیکنالوجی کے حامل ملٹی میڈیا اسکرین کی طرح ہے۔۔ جس میں جو اپلیکیشن کھلی ہو وہ  واضح ہوتی ہے لیکن مکمل اسکرین پر باقی اپلیکیشنز  کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔۔ اور اس کا اسکرین سیور aura یعنی cover آسانی سے ایک ٹچ سے ہٹ جاتا ہے اور پھر جو اعمال غالب ہوں وہ چہرہ اسکرین پر چمک اٹھتا ہے۔۔ 

میں نے کہا اس کا کوئی علاج تو بولا۔۔ تینوں چہروں کا بتا دوں یا کسی ایک کا۔۔۔ 

میں نے کہا تینوں کا بتا دو تو مہربانی ہو گی۔۔ 

وہ بولا ۔۔ خاکی چہرہ خاکی بدن کی نشاندہی کرتا ہے۔۔ اس کے لئے بہترین خون جس میں آکسیجن کی مقدار زیادہ ہو وہ چاہئے۔۔ دن میں دس منٹ ایسا اچھا کام کرو جس سے تمہارا سانس چڑھ جائے۔۔ مطلب دوڑو، ورزش


نفسانی چہرہ نفسانی جسم کا نمائندہ ہے۔۔ اس کا مرکز دماغ ہے۔۔ لہذا اسے قابو کرنے کے لئے خوراک ،اور خواہش میں فرق کرو۔۔ اور لمبے سجدے کرو تاکہ  pineal gland تازہ رہے۔۔ اسے انسان کی تیسری آنکھ کہا جاتا ہے۔۔


اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِؕ-

ترجمہ: بیشک نماز بے حیائی اور بری بات سے روکتی ہے ( العنکبوت)


روحانی چہرہ روح کا نمائندہ ہے اور روح منجانب اللہ ہے۔۔جیسا اللہ نے قرآن میں کہا


فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ

ترجمہ: چنانچہ جب میں اُسے پوری طرح بنادوں اور اُس میں اپنی رُوح پھونک دُوں تو تم اُس کے آگے سجدے میں گر جانا ( الحجر)


تو جو رب کر رہا ہے تم بھی کرو روح تمام تر نفسانی اور حیوانی دباؤ کے باوجود بھی مرعوب نہیں ہو گی۔۔ اور بالآخر ان دونوں پر قابض ہو کر انہیں کامیاب کرا دے گی۔۔ 

میں نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔ رب کیا کر رہا ہے؟؟؟

وہ مسکرایا اور بولا ۔۔۔

"رب نبی کریمﷺ پر درود بھیج رہا ہے۔۔"


واللہ و رسولہ اعلم بالصواب 


تپش

 *تپش۔۔۔*




سورج کا زمین سے اوسط فاصلہ 15 کروڑ کلومیٹر ( تقریباً 14,95,98,000 کلومیٹر ہے) اور اس کی روشنی کو زمین تک پہنچنے میں 8 منٹ 19 سیکنڈ لگتے ہیں۔ تاہم یہ فاصلہ سال بھر یکساں نہیں رہتا۔  زمین سے اتنی دوری کے باوجود اس کی تپش ناقابل برداشت ہے۔۔ دنیا کا سب سے گرم ترین مقام ڈیتھ ویلی، امریکہ ہے۔


امریکی ریاست کیلی فورنیا میں جان لیوا گرم موسم کی مناسبت سے رکھے گئے نام والے فورنیس کریک کے اس علاقے میں اب تک دنیا کا سب سے زیادہ درجہ حرارت کا ریکارڈ کیا گیا ہے۔

 صحرا میں واقع موت کی اس وادی میں 1913 کے موسم گرما میں درجہ حرارت 56.7 سیلسیئس کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا تھا۔ یہ درجہ حرارت بظاہر انسانی بقا کی حد سے تجاوز کر گیا تھا۔

اس درجہ حرارت کی درستگی پر بحث کی جا سکتی ہے لیکن اگر یہ غلط بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بھی فورنیس کریک بھی دنیا کے گرم ترین علاقوں میں سر فہرست رہے گا جہاں اس سال 54.4 سینٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا تھا۔

اگر زمین پر سورج کی تپش کا یہ حال ہے تو سورج کے قریب ترین سیارہ عطارد ہے۔۔ جو زمین کے مقابلے سورج سے تقریبا تین گنا قریب ہے ۔۔۔یعنی عطارد کا سورج سے فاصلہ  پانچ کروڑ ستر لاکھ کلومیٹر ہے۔ 

سورج کے قریب ترین عطارد کی طرف کی سطح کا درجہ حرارت 427 ڈگری سیلسیس تک پہنچ جاتا ہے، جو ٹن پگھلنے کے لیے کافی گرم ہے۔ مخالف طرف، یا رات کی طرف، درجہ حرارت منفی -182 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔

عطارد کو اکثر لوگ ایک غیر دلچسپ دنیا قرار دیتے ہیں جس کے پاس دکھانے کو کچھ نہیں ہے لیکن وہ خلائی سائنسدان جنہوں نے اس سیارے پر کام کیا ہے اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔

ان کے مطابق عطارد دو انتہاؤں کی دنیا ہے اور جہاں سورج سے قریب ہونے کی وجہ سے اس کی سطح کا درجہ حرارت چھ سو سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے وہیں اس کے قطبین میں ایسےگڑھوں میں آبی برف بھی موجود ہے جو ہمیشہ سائے میں رہتے ہیں۔

سورج کے اتنے قریب ہونے کے باوجود بھی دو انتہائیں ہونا عجیب نہیں۔۔ کیونکہ سورج کا کام شعاعیں پھینکنا ہے۔۔ جو ان شعاوں کو واپس  منعکس کرتا ہے وہ تپش میں بڑھ جاتا ہے۔۔ جو ان شعاوں سے اوٹ میں ہے  وہاں ٹھنڈ ہے۔۔ 

ثابت ہوا تپش کسی بھی سطح کے respond ،جواب یا ردعمل ہے۔۔ 

صحرائے اعظم یا صحارا دنیا کا سب سے بڑا صحرا ہے ،جس کا اوسط درجہ حرارت 30 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ ہے اور زیادہ سے زیادہ 58 ڈگری سینٹی گریڈ۔۔ جبکہ ایمزان جنگلات کا گرم ترین ماہ بھی 29 ڈگری سینٹی گریڈ  سے زیادہ نہیں۔ 

تپش ،یا حرارت ان سورج کی شعاوں کو اپنی اوقات کے مطابق جواب دینے کا نام ہے۔ جو جس قدر بیاباں،  کرخت ،خشک اور پتھریلا ہے اس کی تپش ،اور حرارت اتنی زیادہ ہے۔۔ اور جس نے خود پر ہل چلا کر اپنے سینے کو چیر کر اپنے وجود میں علم و حکمت بیج بو کر  سایہ کرنے والے درخت آجائے وہاں اسی سورج کی حدت کم ہو گئی ہے۔۔ 

لیڈر شپ کا ایک اصول ہے کہ کسی بھی قسم کے حالات یا تحریک کا جواب دینے سے پہلے تھوڑا توقف ( pause ) کر لیں ۔۔ اور پھر جواب دیں۔۔ یہی مشہور کہاوت ہمارے ادب کا حصہ ہے کہ پہلے "تولو پھر بولو" مشہور زمانہ سائیکالوجسٹ  وکٹر  فرینکل اپنی کتاب men search for meaning میں یہ لکھتا ہے کہ

"between stimulus and response there is a space and in that space lies our freedom to choose" 

یعنی کسی بھی اشتعال انگیز، شر انگیز ،ہوس انگیز یا محبت انگیز تحریک،الفاظ،جذبات  اور ان کے ردعمل کے درمیان ہمارے پاس چند لمحے ہر وقت موجود ہوتے ہیں ،جن پر ہمارے جواب کا انحصار ہوتا ہے۔ اور ان لمحوں کی کاشتکاری ہم خود کرتے ہیں۔۔ انہیں کردار کہا جاتا ہے جو ان تمام بیرونی شعاوں اور تپش کے درمیان درختوں کی ماند ہوتے ہیں۔ ان کی بنیاد علم، تربیت اور تجربہ ہوتا ہے۔۔ بعض اوقات یہ صرف نرم گھاس جتنے ہوتے ہیں اور کبھی کبھی تناور درخت  لیکن دونوں صورتوں میں یہ صحرا کی بنجر زمین سے کہیں زیادہ فائدہ مند ہوتے ہیں۔۔  کیونکہ شدید ترین اور ناموافق موسموں میں بھی ذرا سی اوٹ  یا ایک سایہ دار درخت جو آپ نے اپنے من میں لگایا ہو۔۔ طوفان میں بچاو کا ایک سہارا اور تپتی دھوپ میں سایہ بن جاتا ہے۔۔  علم ،ادب اور تربیت  صحرا کی تپش کو نخلستان کی ٹھنڈی ہوا بنا دیتے ہیں۔۔ 


سلیم زمان خان

مارچ 2023

معنی کی تلاش

 


*معنی کی تلاش* 

Man's search for Meaning

کچھ دن پہلے فیس بک پر اک پوسٹ دیکھی اس پوسٹ میں کتاب معانی کی تلاش پڑھنے کی دعوت دی گئی اس کتاب کو پڑھنے سے آپ میں بہت ساری تبدیلی آئے گی اور آپ ضرور یہ سوچنے پر مجبور ہونگے کہ اپنے آپ پر کتنا ظلم کیا ہے تو ان الفاظ نے مجھے بہت متاثر کیا اور میں یہ کتاب پڑھنے پر مجبور ہو گئی۔

معنی کی تلاش وکٹر فرینکل کی کتاب ہے  اس میں قید میں رہتے ہوئے اذیتی کیمپوں میں ہونے والے تجربات کو بیان کیا گیا ہے چاہے قید خانے کی قید ہو یا زندگی میں دوسرے معاملات کی قید ہو مشقت ہو۔وکٹر فرینکل ایک ماہر نفسیات تھے انہوں نے بتایا کہ کس طرح ڈپریشن سے بھری ہوئی زندگی میں سے زندگی کا مقصد تلاش کرنا ہے غمِ اور دکھ بھرے لمحات میں سے کیسے اپنی خوشی کے معنی تلاش کرنے ہیں ان لمحوں کو اپنے لئے دل کش بنانا ہے وکٹر فرینکل تین سال قید خانے( اذیتی کیمپ) میں رہے وہاں انہوں نے زندگی کے بدترین لمحات کا مشاہدہ کیا اپنے پیارے ساتھیوں کو اپنے ہاتھوں سے کھویا مسلسل تذلیل،شدید بھوک اور موت کے آنے والے خطرات نے دوسرے قیدیوں کو مار ڈالا لیکن وکٹر فرینکل پر امید تھے انہوں نے ذندہ رہنے کے لئے خوبصورت لمحات کو سوچا اپنے پیاروں سے ملنے کے جستجو اپنے خاندان کے ساتھ رہنے کی جستجو نے انکو اندر سے زندہ رکھا انکا سارا خاندان جنگ میں مارا گیا۔ وکٹر فرینکل سے سب کچھ ضبط کر لیا گیا مگر انکے سوچنے کی آزادی خودمختاری انکے پاس رہی وہ موجودہ حالات میں کیسے اپنے رویے کو اپنے اختیار میں رکھ سکتے تھے اپنے اپکو مایوسی سے بچانے کے لئے کس درعمل کا اظہار کر سکتے تھے یہ سب وکٹر فرینکل کی سوچ پر منحصر تھا انکا کہنا تھا کہ کسی انسان کی بنیادی ترغیب زندگی میں معنی کی تلاش ہے اس لئے سائیکو تھراپی کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ انسان کو زندگی میں اسکے معنی تلاش کرنے میں مدد ملے. 

ہر وقت لمحے ہمارے ساتھ ہوتے ہیں اذیت سے بھرے، دکھ سے بھرے،جذبات سے بھرے،نفرت سے بھرے اور محبت سے بھرے لمحے ان سب لمحات کی کاشتکاری ہم خود کرتے ہیں انہیں کردار کہا جاتا ہے جو بارش اور سورج کے درمیان درختوں کی ماند ہوتے ہیں انکی بنیاد علم، تربیت اور تجربہ ہوتا ہے بعض اوقات یہ صرف نرم گھاس جیسے ہوتے ہیں اور کبھی تناور درخت لیکن دونوں صورتوں میں یہ صحرا کی بنجر زمین سے کہیں زیادہ فائدہ مند ہوتے ہیں کیونکہ سخت بارش اور دھوپ میں بھی اک ذرا سی اوٹ یا اک سایہ دار درخت جو آپ نے اپنے من میں لگایا ہو وہی آپکو سکون دیتا ہے اس لئے ہمیں اپنے لمحات کو خوبصورت بنانا ہے جو ہمارا لئے باعث مسرت ہوں  جب بھی زندگی میں ہم ان تکلیف بھرے لمحات کو یاد کریں تو مسکرا کر کہیں وہ وقت بھی گزر گیا یہ وقت بھی گزر جائے گا ہماری زندگی جو اللہ کریم کی طرف سے اک تحفہ ہے نعمت ہے وہ ہم سے یہ درخواست کرتی ہے ۔۔۔۔

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی 

تو میرا نہیں بنتا تو نا بن اپنا تو بن ۔

اس لئے اس کتاب کا مطالعہ ضرور کیجئے یہ آپکو زندگی کے اندھیروں سے ضرور نکال کر روشنی کی طرف لے جائے گی تلاش معنی کتاب انگریزی اور اردو ترجمے دونوں میں دستیاب ہے

 

ہمسایئہ جِبریلِ امیں بندۂ خاکی

 ہمسایۂ جِبریلِ امیں بندۂ خاکی۔۔۔


بابا جی۔۔ آج مولوی صاحب فرما رہے تھے کہ حضور نبی کریمﷺ نے دو مرتبہ جبرائیل امین  کو ان کی اصل شکل میں ملاحظہ فرمایا۔۔ بلکہ بتا رہے تھے کہ جب آقاﷺنے انہیں ان کی اصل شکل میں دیکھنے کی خواہش کا اظہار فرمایا تو انہیون نے کہا کہ آپ کریمﷺ مجھے دیکھنے کی تاب نہی رکھتے۔۔۔ کیا یہ سچ ہے۔۔ 

بابے نے غور سے میری طرف دیکھا کیونکہ میں ایک سانس میں ہی سب کہہ گیا تھا۔۔انہوں نے خلا میں گھورنا شروع کر دیا ۔ پھر میری جانب دیکھ کر بولے۔۔ بیٹا !!! علم کی جس کھڑکی سے مولوی صاحب یہ دیکھ رہے ہیں۔۔ وہ بالکل سچ کہتے ہیں۔۔ 

اب یہ بحث کہ آقا کریمﷺ نے جبرائیل امین کو کتنی بار دیکھا کیسے دیکھا out dated ہو چکی ہے۔۔ہاں۔۔لیکن میں یہ تو نہیں جانتا کہ آقاﷺنے کتنی بار جبرائیل امین کو ان کی اصل حالت میں دیکھا ہے۔۔ لیکن  آقاﷺ کے غلاموں نے کتنی بار دیکھا یہ کچھ واقعات سنا سکتا ہوں ۔۔

ایک روز سید الشہداء حضرت حمزہ  رضی اللہ عنہ نے نبی صلی ﷲعلیہ وسلم سے کہا: مجھے حضرت جبرئیل علیہ السلام اپنی اصل شکل میں دکھا دیں۔آپ کریمﷺ نے فرمایا: آپ ان کو دیکھ نہ سکیں گے۔انھوں نے اصرار کیا تو آقاﷺنے دکھایا کہ حضرت جبرئیل کعبہ کی اس لکڑی پر اترے جس پر طواف کرنے والے اپنے کپڑے لٹکا دیتے ہیں۔ان کے پاؤں سبز زمرد کی طرح تھے۔ حضرت حمزہ انھیں دیکھتے ہی بے ہوش ہو گئے۔


غزوہ بدر میں جب جبرائیل آمین تشریف لائے تو حضور نبی کریمﷺ نے اس طرح ان کا تعارف صحابہ سے فرمایا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی میں فرمایا تھا، یہ ہیں حضرت جبرائیل علیہ السلام اپنے گھوڑے کا سر تھامے ہوے اور ہتھیار لگائے ہوئے۔  صحیح بخاری

اسی طرح یہ بھی روایت ہے کہ صحابی نے آواز سنی کہ حضرت جبرائیل  اپنے گھوڑے کو ایڑھ لگا رہے ہیں اور حملہ کر رہے ہیں۔۔ 

سیدنا ابن عباسؓ نے حدیث بیان کی کہ اس روز ایک مسلمان ایک کافر کے پیچھے دوڑ رہا تھا جو کہ اس کے آگے تھا، اتنے میں اوپر سے کوڑے کی آواز سنائی دی وہ کہتا تھا کہ بڑھ اے حیزوم (حیزوم اس فرشتے کے گھوڑے کا نام تھا) پھر جو دیکھا تو وہ کافر اس مسلمان کے سامنے چت گر پڑا۔ مسلمان نے جب اس کو دیکھا کہ اس کی ناک پر نشان تھا اور اسکا منہ پھٹ گیا تھا، جیسا کوئی کوڑا مارتا ہے اور وہ (کوڑے کی وجہ سے ) سبز ہو گیا تھا۔(یہ واقعہ سورہ انفال کی تشریح میں ہے)

اسی طرح اپنی سعادت پر جبرائیل امین خوش ہو کر آقاﷺ سے پوچھتے ہیں کہ۔۔۔

حضرت رفاعہ بن ابی رافع رضی اللہ عنہ جو کہ بدری صحابہ میں سے ہیں بیان فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر دریافت کیا: (یا رسول اللہ!) آپ غزوئہ بدر میں شرکت کرنے والے (صحابہ) کو کیسا سمجھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اُنہیں مسلمانوں میں سب سے افضل شمار کرتا ہوں یا ایسا ہی کوئی دوسرا کلمہ استعمال فرمایا، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: غزوئہ بدر میں شمولیت کرنے والے فرشتے بھی دوسرے فرشتوں میں اِسی طرح ہیں۔‘‘


اِسے امام بخاری، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے۔

اسی طرح صحابہ یہ بات جانتے تھے کہ جب آقاﷺ غزوات میں تشریف لے کر جاتے ہیں تو آپ کریمﷺکے پشت پر ملائکہ کی افواج ہوا کرتی تھیں ۔۔


’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے چلتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک کو فرشتوں کے لئے چھوڑ دیتے۔‘‘


اِسے امام حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔


اور چلنا اس طرح ہوتا کہ چند قدم آگے دائیں حضرت ابوبکر اور بائیں جانب حضرت عمر چلتے اور آپ کریمﷺکے چند قدم پیچھے دائیں طرف حضرت جبرائیل اور بائیں طرف حضرت میکائیل  چلتے اور ان کے بعد درجہ بدرجہ ملائکہ۔۔


حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے لیے دو وزیر آسمان والوں میں سے اور دو وزیر زمین والوں میں سے ہوتے ہیں۔ سو آسمان والوں میں سے میرے دو وزیر، جبرائیل و میکائیل علیھما السلام ہیں اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر ابو بکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) ہیں۔‘‘

اِسے امام ترمذی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔

جنگ احد میں حضرت جبرائیل اور میکائیل آقاﷺ کی خصوصی حفاظت پر معمور تھے۔۔

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جنگ اُحد کے روز میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو ایسے آدمیوں کو دیکھا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے لڑ رہے تھے۔ اُنہوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے اور بڑی بہادری سے بر سرِ پیکار تھے۔ میں نے اُنہیں اِس سے پہلے دیکھا تھا نہ بعد میں، یعنی وہ جبرائیل و میکائیل علیہما السلام تھے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ صحیح البخاری 

اب سنو !!! اگر جبرائیل امین علیہ السلام  وزیر نہ ہوتے تو کبھی اپنی دعا اور خواہش حضور سے عرض کرتے۔۔ کیا ایسا بھی کبھی ہوا ہے کہ وزیر کا چہرہ دیکھ کر بادشاہ ڈر کر بے ہوش ہو جائے؟؟؟

شب معراج میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب سدرة المنتہی تک پہنچے تو جبرائیل امین وہاں رک گئے اور عرض کیا ، یا رسول اللہ ، اب میں یہاں سے بال برابر بھی آگے نہیں بڑھ سکتا، اگر میں یہاں سے آگے بڑھا تو نورانیت سے جل جاؤں گا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اچھا ، اے جبرائیل تمہاری کوئی حاجت ؟ جبرائیل امین نے عرض کیا، اللہ سے میرے لیے سوال کیجئے کہ قیامت کے روز آپ کی امت کے لیے میں پل صراط پہ اپنا پر بچھا دو ں تاکہ آپ کی امت آسانی سے گذر جائے۔(مواہب لدنیہ ، جلددوم، صفحہ ۲۹)

اسی طرح حضرت حسان بن ثابت جب کفار کے اشعار کا جواب دیتے اور حضور کی تعریف فرماتے تو اس وقت جبرائیل امین حضرت حسان کی مدد کر رہے ہوتے۔۔یعنی ان کو الفاظ کا چناو اور علم لدنی سے اشعار کہلواتے۔۔ تو کیا کہیں تاریخ میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے غیر نبی کی بھی اس طرح مدد کی ہے؟؟؟ 

’’حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا : مشرکین کی ہجو کرو (یعنی ان کی مذمت میں اشعار پڑھو) اور جبرائیل علیہ السلام بھی (اس کام میں) تمہارے ساتھ ہیں۔‘‘ (یہ متفق علیہ حدیث ہے )


اللہ کے بندے۔۔ ہم اولیاء کرام کی کرامات میں زمین آسمان کے قلابیں ملاتے ہیں ۔۔اور کہتے ہیں کہ فلاں چور تھا جب ولی اللہ کی نظر پڑی تو وہ وقت کا بزرگ بن گیا۔۔ 

لیکن جب بات نبی کریمﷺ کی ہوتی ہے تو شک و شش و پنج میں پڑھ جاتے ہیں۔۔ 

دیکھو ۔۔۔ یہ بات تم جانتے ہو بلکہ ہم سب جانتے ہیں کہ جبرائیل امین، میکائیل علیہ السلام یا فرشتوں کو صرف انبیاء  کرام دیکھ سکتے ہیں ۔۔اور گفتگو فرماتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ انبیاء علیہ السلام  کی فریکیونسی  فرشتوں کے نور سے زیادہ لطیف ہوتی ہے تبھی تو انہیں جسم کے ساتھ انبیاء کرام دیکھ پاتے ہیں۔۔ یعنی نورانیت میں انبیاء  کرام فرشتے سے زیادہ لطیف ہوتے ہیں۔۔ لیکن نبی کریمﷺکے  صحابہ بھی اگر جبرائیل امین، میکائیل علیہما السلام اور دیگر فرشتوں کی افواج کو دیکھتے ہیں تو سوچو۔۔۔ نبی کریمﷺ کے صحابہ کرام کی فریکیونسی  نور کے کس درجہ پر ہو گی؟؟ ان کا تقوی اور مقام کیا ہو گا۔۔


سنو !!! اگر اولیاء اللہ چور کو قطب بنا سکتے ہیں تو قران اپنے اولوالعزم انبیاء کی شان اس طرح بیان فرماتا ہے کہ ۔ ان انبیاء کی دعا سے عام بندہ نبی بن سکتا ہے۔۔ کیا تمہارا سوچ سکتے ہو کہ نبی رب سے گزارش کریں کہ میرے بھائی کو نبی بنا دیں اور وہ نبی بن جائے۔۔ 

یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔؟ میں نے چونک کر پوچھا۔۔ 

بابا مسکرایا اور بولا ۔۔ جب اللہ کریم نے موسی علیہ السلام کو نبوت عطا کی تو انہوں نے عرض کی کہ میرے بھائی کو میرا معاون بنا دیں ۔۔ جسے اللہ نے قبول کیا اور ہارون علیہ السلام کو نبی کر دیا گیا۔۔ 


سورہ طہ میں حضرت موسی علیہ السلام کی عرضی ہے کہ

ترجمہ: اور میرے لیے میرے کنبے میں سے ایک معاون بنا دے۔ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔اس سے میری کمر مضبوط کردے۔

جس کا جواب اللہ کریم نے یوں ارشاد فرمایا۔۔

ترجمہ؛ فرمایا اے موسٰی تیری درخواست منظور ہے۔اور البتہ تحقیق ہم نے تجھ پر ایک دفعہ اور بھی احسان کیا ہے۔( طہ) 


اب سوچو !!! حضرت موسی علیہ السلام  نے شب معراج آقاﷺ کی اطاعت میں نماز ادا کر کے آقاﷺ کو اپنا امام تسلیم فرمایا۔۔ وہ تو ایک ہارون علیہ السلام  تھے جن کو نبی بنا کر اللہ نے جبرائیل علیہ السلام  سے لطیف فرما دیا۔۔ آقاﷺ خاتم النبیّین  ہیں ۔۔اگر آقاﷺ کے بعد کوئی نبی ہوتا تو شائد یہ تمام  ڈیڑھ لاکھ صحابہ انبیاء ہوتے۔۔ یا کم از کم اصحاب بدر تو تمام نور اور تقوی کے اس لطیف مقام پر فائز تھے کہ جبرائیل امین کو دیکھ اور سن سکتے تھے۔۔ تم دیکھو نا ۔۔ حضرت حمزہ جانتے تھے نا کہ آقاﷺ انہیں جبرائیل امین کو ان کی اصل حالت میں دکھا سکتے ہیں۔۔ یعنی آپ کریمﷺ کی نظر کرم سے صحابہ کرام نور کے اس لطیف مقام کو پہنچ جاتے تھے جہاں جبرائیل امین اپنی اصل شکل میں مجسم ہوتے۔۔ یہ آقاﷺ کا اختیار ہے۔۔ اب اس سے آگے کا فیصلہ تم پر چھوڑتا ہوں ۔۔ مولانا ظفر علی خان نے کیا خوب کہا ہے۔۔۔


جلتے ہیں جبرائیل کے پر جس مقام پر

اس کی حقیقتوں کے شناسا تمہی تو ہو

سب کچھ تمہارے واسطے پیدا کیا گیا

سب غایتوں کی غایت اُولٰی تمہی تو ہو


قرآن مجید مختصر تعارف

 *قرآن مجید ۔۔۔ مختصر تعارف۔۔*


اسلام الہامی مذاہب میں سب سے آخری مذہب اور نبی کریمﷺ خاتم النبین ہیں۔ اس لحاظ سے قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے ،جسے اس کرہ ارض کے خاتمہ تک رشد و ہدائت اور شفاء کا باعث رہنا ہے ۔ اللہ تعالٰی نے جتنے بھی انبیاء کرام  مبعوث فرمائے انہیں معجزات سے نوازا تاکہ روز ازل کے وعدہ ہدایت کا اتمام حجت ہو سکے۔ ان انبیاء کرام کے معجزات ان کی حیات پاک کے دوران کارآمد اور رہنما رہے یا قوم کے لئے بطور حجت عذاب کا باعث ہوئے۔ لیکن انبیاء کرام  کی رحلت کے بعد وہ معجزات کتابوں اور صحائف کا حصہ بن گئے اور حقیقی زندگی میں ان کا عمل دخل فعال نہ رہا۔ جس طرح حضرت موسی علیہ السلام  کا عصا ( لاٹھی)، یا حضرت عیسی علیہ السلام  کا مردوں کو زندہ کرنا۔ 

جبکہ نبی کریمﷺ نے قران مجید کو معجزہ عظیم قرار فرمایا ،اور یہ رسول کریمﷺ کے ظاہری دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد بھی معجزہ ہے اور تاقیامت معجزہ رہے گا ۔ 

ترجمہ :.نبی کریم ﷺنے فرمایا ”انبیاء میں سے کوئی نبی ایسا نہیں جن کو کچھ نشانیاں  ( یعنی معجزات )  نہ دئیے گئے ہوں جن کے مطابق ان پر ایمان لایا گیا  ( آپ ﷺنے فرمایا کہ )  انسان ایمان لائے اور مجھے جو بڑا معجزہ دیا گیا وہ قرآن مجید ہے جو اللہ نے میری طرف بھیجا، پس میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن شمار میں تمام انبیاء سے زیادہ پیروی کرنے والے میرے ہوں گے۔“ 

قرآن مجید حالات اور واقعات کی بنیاد پر کم وبیش  23 سال کے دور نبوت میں نازل ہوا۔۔قرآن میں کل 114 سورتیں ہیں جن میں سے 87 مکہ میں نازل ہوئیں اور وہ مکی سورتیں کہلاتی ہیں اور 27 مدینہ میں نازل ہوئیں اور مدنی سورتیں کہلاتی ہیں ۔۔

قرآن میں لفظ قرآن قریباً 70 دفعہ آیا ہے اور متعدّد معانی میں استعمال ہوا ہے۔ یہ عربی زبان کے فعل قرأ کا مصدر ہے جس کے معنی ہیں ’’اُس نے پڑھا ‘‘ یا ’’اُس نے تلاوت کی‘‘

نزول قرآن کے متعدد مراحل طے کیے گئے جو حسب ذیل ہیں:


پہلے مرحلے میں قرآن لوح محفوظ پر نازل ہوا۔ اس نزول کا مقصد یہ تھا کہ اسے لوح محفوظ میں ثبت اور قرآن کو ناقابل تغیر کر دیا جائے۔ اس نزول کی دلیل قرآن سے اخذ کی گئی ہے  "بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَّجِيدٌ  فِي لَوْحٍ مَّحْفُوظٍ"

لوح محفوظ سے آسمان میں موجود ایک مقام بیت العزت میں شب قدر کو نازل ہوا۔  درج ذیل حدیثیں بھی اس کی دلیل ہیں: عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ "قرآن کو لوح محفوظ سے نکال کر آسمان دنیا کے ایک مقام بیت العزت پر اتارا گیا، جہاں سے جبریل پیغمبر پر لے جایا کرتے تھے"۔ ابو شامہ مقدسی نے اپنی کتاب المرشد والوجيز عن هذا النزول میں لکھا ہے: "علما کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ قرآن لوح محفوظ سے بیت العزت میں ایک ہی رات کو مکمل نازل ہوا اور جبریل نے اسے یاد کر لیا۔ کلام الہی کی ہیبت سے آسمان والے غش کھا گئے، جب جبریل کا ان پر سے گزر ہوا تو انہیں ہوش آیا اور  بعد ازاں جبرئیل نے کاتب فرشتوں کو اس کا املا کرایا، 

بیت العزت سے جبریل نے بتدریج قلب پیغمبر پر اتارا، نزول قرآن کا یہ مرحلہ تیئیس برس کے عرصہ پر محیط ہے( وکیپیڈیا )

قرآن پاک میں کل رکوع کی تعداد 540 ہیں  آیات کی تعداد مین اختلاف ہے کہیں6666 ہے حالانکہ اگر آپ خود گنتی کریں تو 6236 ہیں۔ جبکہ الفاظ کی تعداد 77701 ہے۔اور 30 سپاروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔۔ 

قرآن پاک کی سب سے بڑی سورۃ البقرہ ہے اور سب سے چھوٹی سورۃ الکوثر ہے جبکہ قرآن کی سب طویل آیت بھی سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 282 ہے ۔

 سورتوں میں 35 سورتیں ایسی ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ دوبار نازل ہوئیں ہیں ایک بار مکہ میں اور ایک بار مدینہ میں جیسے سورہ رحمن، سورہ رعد، سورہ زلزال وغیرہ۔

قرآن پاک میں کل 1015030 نقطے ہیں، زبر 39586 مرتبہ استعمال کیا گیا ہے جبکہ زیر39586 مرتبہ مستعمل ہے۔

25 انبیاء کرام کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔ اور یہ تعداد کچھ اس طرح سے ہے:

آدم علیہ السلام : 25

ادریس علیہ السلام : 2

نوح علیہ السلام : 63

ہود علیہ السلام : 7

صالح علیہ السلام : 9

ابراہیم علیہ السلام : 69

لوط علیہ السلام : 27

اسماعیل علیہ السلام : 12

اسحاق علیہ السلام : 17

یعقوب علیہ السلام : 16

‏یوسف علیہ السلام :27

ایوب علیہ السلام : 6

شعیب علیہ السلام :11

موسیٰ علیہ السلام :136

ہارون علیہ السلام :19

یونس علیہ السلام :6

داؤد علیہ السلام :16

سلیمان علیہ السلام :17

الیاس علیہ السلام :3

الیسع علیہ السلام :2

زکریا علیہ السلام :8

یحی علیہ السلام :6

عیسی علیہ السلام :25

‏محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم: 5

اور نبی کریمﷺکے علاوہ 5 انبیاء نوح،ابراھیم، یونس ، یوسف ،ھود علیھم سلام کے نام پر سورتیں موجود ہیں۔۔ 


قران مجید میں اللہ کریم نے نبی کریمﷺ کو نا صرف ان کے ذاتی نام مبارک سے پکارا بلکہ ان کے صفاتی ناموں سے بھی پکارا ۔۔اور ان ناموں کی سورہ مبارک تعداد کم وبیش 20 سے زیادہ ہیں ۔۔جیسے کہ 

طہ ،یاسین ، مزمل ،مدثر، نور،جمعہ مفسرین یہاں تک کہتے ہیں کہ جس طرح طہ اور یاسین حروف مقطعات ہیں اسی طرح جتنی بھی سورہ پاک حروف مقطعات سے شروع ہوتی ہیں وہ حضور ہی کے القاب ہیں جنہیں صرف اللہ اور ان کا حبیب کریمﷺ ہی جانتے ہیں ان حروف مقطعات والی سورتوں کی تعداد 29 ہے۔۔ جن میں سورہ ق اور ص علیحدہ سورتیں ہیں۔۔ 

    اسی طرح سے مزمل اور مدثر حضور نبی کریمﷺکے  صفاتی اسمائے گرامی ہیں ۔۔ جو قران میں " یا ایھا" سے شروع ہوتے ہیں ۔۔ جس کے اردو معنی ہیں "اے" یعنی خطاب حال میں ہے ۔۔ جبکہ آپ کا وصال پاک ہو چکا ہے۔۔ اب اگر قیامت ایک لمحہ بعد ہو ،ایک ہزار سال بعد ہو یا ایک کروڑ سال بعد یہ سورتیں " یا" کے صیغہ سے پڑھی جائیں گی۔۔   

نبی کریمﷺ اپنی زندگی میں دین مکمل فرما گئے ہیں۔۔ اور صحابہ کرام  اسی دین کو آگے لے کر چلے۔۔ اس زمانے میں کوئی حنفی،مالکی ،حنبلی  شافعی یا جعفری نہیں تھا ۔۔ اور الحمد للہ  دین پھر بھی مکمل تھا۔۔  سورہ محمد  میں اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کیوں آیا ہے ؟؟؟

اس لئے کہ اللہ نے صاف صاف بتا دیا کہ چاہے جتنے نیک عمل کر لو۔۔ ایمان لانے کے بعد اگر اس پر عمل نہیں کرو گے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ناذل ہوا ہے تو سب اعمال تمہارے ضائع ہو جائیں گے۔۔

ترجمہ:اور وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور جو کچھ محمد پر نازل کیا گیا اس پر بھی ایمان لائے حالانکہ وہ ان کے رب کی طرف سے برحق بھی ہے، تو اللہ ان کی برائیوں کو مٹا دے گا اور ان کا حال درست کرے گا۔


اسی طرح حضورنبی کریمﷺکے جسم اطہر اور اعضاء کریمہ کی تعریف میں سورہ نجم ،الم نشرح ، اور سورہ قلم ہیں اور سورہ قلم میں تو اللہ کریم نے نبی کریم کا دل دکھانے والے کو 10 برے القاب دئے ہیں۔۔ جو تا قیامت پڑھے جائیں گے۔۔ سورہ نجم میں تو اللہ کریم نے نبی پاک کی آنکھوں کی طاقت اور توانائی کی یوں تعریف فرمائی ہے کہ

جب آپ لامکاں میں تھے تب بھی عجائبات قدرت سے نہ آپ کی آنکھوں کی پتلیاں  پھیلی اور نا حیرت اور نور سے سکڑیں۔۔ اپنی اصل حالت میں برقرار رہیں۔۔ 


مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰى (17) 

ترجمہ: نہ تو نظر بہکی نہ حد سے بڑھی۔


اسی طرح حضور کی جنگی حکمت عملی پر مفصل سورتیں موجود ہیں جن میں بقرہ،آل عمران ،انفال، احزاب  ، حشر اور فتح شامل ہیں۔ اور ان کی جزئیات پر یوں اللہ کریم نے تبصرہ فرمایا ہے جیسے دو لوگ کسی چیز کو ایک ساتھ دیکھتے ہوئے اس پر گفتگو یا تبصرہ کریں ۔۔اور حضور کریمﷺ کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ فرماتے ہوئے ۔۔ یہ بھی ارشاد فرما دیا کہ

ترجمہ: سو تم نے انہیں قتل نہیں کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل کیا ۔ اور آپ نے خاک کی مٹھی نہیں پھینکی بلکہ اللہ تعالیٰ نے وه پھینکی۔۔(سورہ انفال) 

اسی طرح صلح حدیبیہ میں جب لوگ بیعت کر رہے تھے نبی کریمﷺکے  دست مبارک پر تو اللہ کریم نے ان کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا۔۔

اسی طرح حضور کے قبیلہ ، آپ کے شہر اور آپ کو عطا ہونے والی نعمتوں پر سورہ قریش۔( آپ کا ایک صفاتی نام قریشی ہے) آپ کے شہر مکہ پر سورہ التین، اور میری نظر میں آپ کے شہر مدینہ پر سورہ بلد جس کی شروع کی آیات ہیں ۔

ترجمہ: مجھے اس شہر کی قسم کہ (اے محبوب! )تم اس شہر میں تشریف فرما ہو۔ 

اسی طرح کوثر بھی آپ کا صفاتی ناموں میں سے ایک ہے۔۔ 

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی ازواج مطہرات کے حجرات پر مشتمل سورہ حجرات ہے۔۔ جس میں آقا کریمﷺ کی شان کے بارے میں انسانوں کو اس حد تک متنبی  کیا گیا ہے کہ وہ حضور کے سامنے اونچی آواز سے بات بھی نہ کریں کہیں ان کے سارے اعمال اللہ ضائع نہ کر دیں۔۔ اس کے بعد صحابہ کرام  اس حد تک محتاط ہو گئے تھے کہ آپ کریمﷺکے  حجرات کے باہر آپ کو بلانے کو آواز نہ نکالتے صرف کپڑے یا ٹاٹ کے پردے پر اپنے ناخن سے تین بار دستک دیتے اور پھر انتظار کرتے۔۔ حضرت عمر نے تو خود کو گھر میں قید فرما لیا کہ ان کی آواز بلند تھی۔۔ آپ کے وصال پاک کی خبر کے طور پر سورہ نصر اور اپ کی وحی کی ابتداء سورہ علق سے کی جس میں خطاب ڈائیرکٹ نبی مکرم سے ہے۔۔

اسی طرح وہ تمام سورتیں جن میں دیگر انبیاء کرام کا زکر ہے ان تمام میں اللہ کریم نے اپنے حبیب کریمﷺ سے خطاب یا ان کی صفات کا زکر کیا ہے۔۔ غرض پورا قران دراصل نبی کریمﷺ ہی کی شان ہے۔۔

میرا ارادہ تھا کہ سیرت النبی کریمﷺ کو قرآن پاک سے قبل شروع کروں ۔۔ مگر جیسے جیسے قرآن پڑھتا جاتا ہوں تو یوں لگتا ہے کہ جس طرح ہر ذی شعور شخص نے نبی کریمﷺکی  سیرت پاک لکھی ہے۔۔ دراصل اس کی ابتدا اللہ کریم نے قرآن پاک کی صورت میں دنیا کو نبی کریمﷺکی سیرت پاک سے متعارف فرمایا ۔۔ سب سے پہلی سیرت نبوی دراصل قرآن پاک ہے۔۔ 

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و کردار اور اخلاق واعمال کے مشاہدے کا موقع ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضي الله تعالى عنها کو میسر آیا تھا کیوں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفیقہٴ حیات تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر ظاہری اور خانگی معمولات و عادات سے واقف تھیں۔ ایک مرتبہ چند صحابی رضي الله تعالى عنه حضرت عائشہ صدیقہ رضي الله تعالى عنها کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے امّ المومنین ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور معمولات بیان فرمائیے۔ تو عائشہ صدیقہ نے جواب دیا کہ کیا تم لوگوں نے قرآن نہیں پڑھا؟ کان خلق رسول القرآن ”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن تھا“ (ابوداؤد شریف)


ماہ رمضان اور7 بڑے چور

 


*ماہ رمضان اور 7 بڑے چور !*

*1. ٹیلی ویژن* : یہ انتہائی خطرناک چور ہے یہ آپ کا وقت چوری کرے گا اور آپ کو ماہ رمضان میں بے ہودہ ڈراموں اور رمضان ٹرانسمیشن جیسی لغویات میں لگائے رکھے گا اور عبادت سے محروم کرے گا.

*2. بازار* : یہ چور بڑا شاطر ہے یہ آپ سے وقت اور پیسہ دونوں لے اڑے گا یہ آپ کا ہاتھ پکڑ کر بے مقصد بازاروں میں گمائے گا.

*3.کچن* : یہ چور خواتین کو ٹارگٹ کرتا ہے اور رمضان میں انہیں طرح طرح کے پکوانوں اور ریسپیز کے پیچھے لگا کر تلاوت قرآن اور ذکر اذکار سے محروم کرتا ہے.

*4.سحری تیاری*: یہ بظاہر 'بزرگ چور' ہے مگر یہ آپ کو آدھی رات سے ہی سحری کی تیاری پر لگا کر آپ سے تہجد، نوافل اور دعا کے مواقع سب چھین لے گا.

*5.فیس بک*: یہ چور بڑا پروفیشنل ہے یہ ہر دم آپ کے ساتھ ہوتا ہے،یہ آپ سے نہ صرف آپ کا وقت چھین لے گا بلکہ آپ کو غیبت،دشنام،گالم گلوچ کا مرتکب کرکے چھوڑے گا.

*6. لڈو گیم* : یہ چور رمضان کے مہینے میں زیادہ تر دیہی علاقوں میں پایا جاتا ہے جہاں عموما نوجوان فارغ ہوتے ہیں یہ انہیں رمضان میں لڈو گیم میں الجھاتا ہے،وقت کے ضیاع کے ساتھ یہ باہم جھگڑا بھی کراتا ہے.

*7.نیند* : یہ چور ظاہری طور پر دیکھنے میں ضرر رساں نہیں ہے مگر یہ بہت چالاک ہے یہ آپ کو ماہ رمضان میں دھپکی دے کر دن کا اکثر حصہ سلائے گا اور آپ عبادتوں اور سعادتوں سے محروم ہوں گے.

*رمضان کی آمد آمد ہے تمام مسلمان بہن بھائی مذکورہ بالا اشتہاری چوروں سے ہوشیار رہیں.*

مفت آٹا اور سبسڈائزڈ پٹرول

 *مفت آٹا اور سبسڈائزڈ پٹرول*!

جب سےموجودہ امپورٹڈحکومت پاکستان پرمسلط ہوئی ہے، Beggars can't be choosers حکمرانی کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں ہیں انہوں نے پوری قوم کو بھکاری بنا کر رکھ دیا ہے ہے عمران خان پر بدترین تنقید کرنے والے ہمارے دوستوں کواب بھی مہنگائی عمرانی دور کا دیا گیا تحفہ ہی محسوس ہوتی ہے، انہیں 75 روپے کلو ملنے والا آٹا مہنگا اور ایک سو ساٹھ روپے کلو ملنے والا سستا محسوس ہوتا ہے، بھکاری حکومت نے پہلے پہل یوٹیلیٹی اسٹورز پر قطاریں لگوائیں، بعد ازاں یوٹیلٹی سٹور پسے خریداری کرنے کے لئے شناختی کارڈ کارڈ کی شرط رکھی،بعد ازاں موبائل فون سے کسی خاص نمبر پر میسج بھیج کر کوڈ لینے کی شرط عائد کی اور انجام کار یوٹیلیٹی اسٹورز  پر سستا آٹا فراہم کرنا بند کر دیا،اور دو سو روپے فی 10 کلو مہنگا کر کے گاڑیوں پر مختلف علاقوں میں بھجوانا شروع کر دیا،جو کہ گاڑیوں کے پاس لمبی لمبی قطاریں آئے روز دیکھنے کو ملتی رہتی ہیں،اور اب یہ درفنطنی چھوڑی ہے کہ غریبوں کو آٹا مفت فراہم کیا جائے گا،لیکن اس میں معمول آٹے کی قلت پیدا ہو چکی ہے اور لوگ آٹے کی تلاش میں دربدر پھر رہے ہیں،

اور آج انہوں نے موٹر سائیکل سواروں کو سستا پیٹرول دینے بارے بھی پھلجھڑی تھوڑی چھوڑ دی ہے، کہ شنید ہے کہ موٹر سائیکل سواروں کو 50 یا 100روپے لیٹر تک رعایتی نرخوں پر پٹرول ملے گا،ہم جس قوم سے تعلق رکھتے ہیں ہیں اور ان آنکھوں نے خود دیکھا ہے کہ کورونا کے دوران میں لوگوں نے خیراتی سامان گھروں میں اسٹاک کر لیا اور بعد ازاں اسے کوڑے کے ڈھیر پر پھینکتے نظر آئے، جہاں شادی بیاہ کے موقع پر مہمانوں کے سامنے اعلان کیا جائے کہ کھانا "کھول" دیا گیا ہے اور اس کے "کھلتے" ہی لوگ بھوکے گِدھوں کی طرح اس پر ٹوٹ پڑیں،جس میں تعلیم یافتہ اور کم تعلیم کے حامل افراد کی کوئی قید نہیں بلکہ "تعلیم یافتہ" اکثر بڑے گِدھوں کا روپ دھارے نظر آتے ہیں، جہاں کسی بھی چیز کی قلت پیدا ہو تو لوگوں کا یہ رجحان ہو کہ وہ اپنے گھروں میں سامان زخیرہ کرلیں اوراا کارنامے پر فخر کرتے نظر آئیں،وہاں کیا لوگ سستے پٹرول کو اسٹور کرنے سے روکے جا سکیں گے؟ یوٹیلٹی سٹور سے سستی چینی خرید کر مہنگے داموں بیچنے والے دکاندار تو آج بھی موجود ہیں،امپورٹڈ حکومت سے گزارش ہے کہ جگاڑ لگانے کی پالیسی کو اپناچھوڑ دیں اور لانگ ٹرم پالیسی کا نفاذ کریں

کاش اس دن زمین پھٹ جاتی

 کاش اس دن زمین پھٹ جاتی ۔۔۔


اس کا نام محمد عاید مصطفیٰ الذوعبی  تھا ۔ اردن کا رہنے والا یہ خوبصورت نوجوان ، یونیورسٹی میں میرا کلاس فیلو اور بہت ہی اچھا دوست تھا ۔


اس دن یونیورسٹی میں داتا صاحب کے عرس کی چھٹی تھی ۔ میں صبح دیر تک سونا چاہتا تھا ، مگر کوئی ساڑھے آٹھ  بجے ہی میرے کمرے کا دروازہ بجنا شروع ہو گیا ۔ میں نے بند آنکھوں کو کھولتے کھولتے دروازہ کھولا تو باہر ، محمد کھڑا تھا ۔


مستر ریاض ، وائی دا یونیورستی از کلوزد تو دے ۔۔۔؟؟؟ ( ریاض صاحب آج یونیورسٹی کیوں بند ہے )


میں نے بتایا ، کہ آج داتا صاحب کا عرس ہے ۔ یعنی حضرت علی ہجویری  کی ڈیتھ انیورسری ہے ۔ اور سب لوگ ان کے مزار پہ جا کر خراج عقیدت پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ اس لئے آج پورے لاہور میں لوکل چھٹی ہے ۔


ہُو واز داتا صاحب ۔۔۔ ؟؟؟  اس نے اپنے سر پہ بندھے سفید اور سرخ رومال کی کالی  رسی ، سیدھی کرتے ہوئے پوچھا ۔ 


میں نے بتایا کہ متحدہ ہندوستان میں ، یہاں ہندوؤں اور سکھوں کی اکثریت تھی ۔ مسلمان بہت کم تھے ۔ اور جو تھے بھی ، وہ ہندوانہ رسم و رواج ، اور مشرکانہ رہن سہن میں لتھڑے ہوئے تھے ۔ 


ایسے میں اللہ پاک نے ہم پہ اپنا بڑا کرم کیا ، اور علی ہجویری نامی ایک بزرگ کو یہاں بھیجج دیا ۔ انہوں  نے لاہور کے بارہ دروازوں کے باہر ، ایک کھلی جگہ پر ڈیرہ لگایا ۔ اور لوگوں کو اللہ کی راہ پہ لگانا شروع کر دیا۔ 


انہوں نے  اپنے حسن اخلاق ، اور کردار کی   روشنی سے لوگوں کے دل منور کر  دیئے۔ بہت سے ہندووں اور سکھوں کو مسلمان کیا ۔ اور مسلمانوں میں پائے جانے والے شرکیہ رسم و رواج ، اور باطل نظریات کو ختم کیا ۔  ہم جو ، آج یہاں مسلمان بنے گھوم رہے ہیں ، یہ سب ان کی محنت کے صدقے سے ہی ہے ۔ اور ان کی اسی فضیلت کے باعث ، ہم انہیں داتا صاحب کہتے ہیں ۔


اس نے اپنی نظریں جھکا لیں ۔ اور اپنی مادری زبان ، عربی  میں کچھ کہا ۔ جس میں سے ، ماشااللہ کے سوا ، مجھے کچھ سمجھ نہ آ سکا ۔


پھر وہ میرے گلے لگ گیا ، اور بہت ہی رندھی ہوئی آواز میں کہنے لگا ، مستر ریاض آئی وانت تو گو تو داتا صاحب ، رائت ناؤ ۔ لت اس موو کوئکلی ۔۔۔۔ (ریاض صاحب ، میں اسی وقت داتا صاحب کے مزار پہ جانا چاہتا ہوں ۔ چلو فورا نکلیں )


میرا بھی داتا صاحب کے عرس پہ جانے کا یہ پہلا اتفاق  تھا ۔ وہاں پہنچے تو بہت سے شامیانے لگے تھے ۔ لال ، سبز ، اور سیاہ جھنڈیاں لہرا رہی تھیں ۔ مختلف لاؤڈ سپیکرز سے قوالیوں ، گانوں اور لوگوں کو سرکس پہ بلانے کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں ۔


ذرا آگے بڑھے تو بائیں طرف ، الجھے بالوں والے بہت سے میلے کچیلے ملنگ ، سگریٹ کا گاڑھا دھواں ، اپنے  نتھنوں  سے نکال رہے تھے ۔ اور کچھ ، پاؤں میں گھنگرو باندھ کر دھمال ڈال رہے تھے ۔ مگر ہم مزار کی طرف بڑھتے رہے ۔ 


ذرا آگے گئے ، تو لکڑی کے پھٹوں پر چڑھے ہوئے کچھ خواجہ سرا ، اپنے پورے میک اپ اور زرق برق لباس میں ملبوس ہو کر  ، کسی چنچل گانے کی ردھم پر  ، اپنا جسم مٹکا رہے تھے ۔  


مزار میں داخل ہوئے تو بہت سے لوگ دروازے کی چوکھٹ پہ سجدہ ریز ہوتے نظر آئے ۔ کئی لوگ ، دروازے کو چوم رہے تھے ۔ اور کچھ شیطانی نظریں ، دربار میں آئی جوان لڑکیوں کا تعاقب کر رہی تھیں ۔ 


ہم دونوں کی نظریں ملیں ، تو میں نے نظریں جھکا لیں ۔ محمد کہنے لگا ، مجھے یقین ہے کہ تم مجھے کسی غلط جگہ پر لے آئے ہو ۔ یہ تو علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کا مزار نہیں ہو سکتا ۔


میں نے اسے بتایا کہ یہی ان کے مزار کی جگہ ہے ۔ وہ دیکھو سامنے ان کے مزار کا سبز گنبد نظر آ رہا ہے ۔


اس کے چہرے کا رنگ لال ہو گیا ۔ کہنے لگا اگر تم نے ٹھیک کہا تھا کہ اس شخص نے  اسلام کے پھیلاؤ ، اور مسلمانوں کی مشرکانہ حرکات ختم کرنے کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کر دی تھی ۔  تو سلام ہے تم لوگوں پر ، کہ آج بھی وہی مشرکانہ حرکتیں کر رہے ہو ۔ اور وہ بھی عین  ان کے مزار پہ آ کر ، اور ٹھیک ان کے فوتگی والے  دن ۔۔۔۔


اور میرے لئے اس دن زمین نہیں پھٹی ، کہ میں محمد کا سامنا کرنے کی بجائے ۔ اس زمین میں گڑ جاتا ۔

سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا

 


سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا 10 رمضان المبارک، اعلان نبوت کے دسویں سال ہجرت مدینہ سے تین سال قبل پچیس سال نبی کریم کی رفاقت میں رہنے کے بعد اس دار فانی سے دار باقی کی طرف انتقال فرما گئیں 

انا للہ وانا الیہ راجعون۔

 پیغمبر اسلام کے لئے بے دریغ قربانیاں دینے والی پہلی مومن خاتون، ام المومنین، رازدان مصطفٰی، جان وفا، حق آشنا وہ عظیم ہستی جن کو پیارے آقا کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم سے قرب مکانی، قرب زمانی اور قرب وجود نوری بھی حاصل تھا۔

ایمان لانے میں سب سے سبقت لے جانے اور ہر مرحلہ پر پیارے آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دلجوئی اور حوصلہ افزائی کرتے رہنے کا صلہ بارگاہ الہی سے سیدنا ام المومنین حضرت خدیجتہ الکبری رضی اللہ عنہا کو یہ ملا کہ اللہ کریم نے حضرت جبرائیل کو پیارے آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس بھیجا جب پیارے آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم غار حرا میں تشریف فرماتھے انہوں نے آکر عرض کی۔

یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے رب کی طرف سے اور میری طرف سے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو سلام پہنچائیے اور انہیں خوشخبری دیجئے کہ اللہ تعالٰی نے ان کے لئے جنت میں موتیوں کا بنا ہوا محل مخصوص کیا ہے جس میں کوئی شور نہیں ہوگا اور نا کوئی کوفت ۔

سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا اللہ تعالٰی ہی سلام ہے ساری سلامتیاں اسی سے ہیں جبرائیل پر سلام ہو اور یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ پر سلام ہو اللہ کریم کی رحمتیں اور برکتیں ہوں ۔اس جواب میں بارگاہ الہی کے آداب کا جس طرح خیال رکھا گیا ہے اس سے آپ راضی اللہ عنہا کی عقلمندی اور دانش مندی کا پتہ چلتا ہے۔ 

اتنی محبوب ہستی ہیں جن کے

 وصال پاک پر پیارے آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس سال کو عام الحزن قرار دے دیا ۔جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے وصال کا وقت قریب آیا تو انہوں نے آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! کچھ دیر میرے سامنے تشریف فرما ہوں اب قاصد اجل آنے والا ہے اور میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ قیامت کے دن بھی مجھے اپنے ساتھ رکھیں آپ اللہ کریم سے میری سفارش فرمائیں اور اگر خدمت میں کوئی کمی کوتاہی ہو گئ ہو تو مجھے معاف فرمائیں۔ پھر آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہاتھوں میں اپنی جان اپنے رب کو سونپ دی ۔

اللہ کریم سےالتجا ہے کہ اللہ کریم ہمارے والدین اور تمام مسلمانوں کے والدین کو دونوں جہان میں خاتون جنت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی غلامی نصیب فرمائیں۔

آمین یارب العالمین 

آمین یارب رحمت اللعالمین ۔

اللھم صل علی سیدنا ومولانا محمد وعلی آلہ وصحبہ وبارک وسلم۔

ترتیب۔

سعدیہ حامد

روزہ رکھیں لیکن دل نہ دکھائیں

 *روزہ رکھیں لیکن دل نہ دکھائیں* 

✍🏻 عمر مدنی 

10 رمضان المبارک 1444ھ ،


بعض افراد ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں افطار کے وقت دسترخوان میں نکتہ چینی کی عادت ہوتی ہے ، 

کھانے میں نمک کم ہے یا زیادہ ہے پانی پھیکا ہے، یہ نہیں کیا، وہ نہیں کیا، اس طرح کی باتیں جبکہ بعض تو اخلاقی رو سے اتنے گئے گزرے ہوتے ہیں کہ وہ محض چھوٹی سی خطا پر گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں اور روزہ رکھ کر کچن میں اتنی دیر کھڑے ہونے کی محنت پر منٹوں میں پانی پھیر دیتے ہیں ، 

ایسا نہیں کرنا چاہیے ،

 *اس محنت پر تھینکس اور احسان کا بدلہ اور دعا کے ذریعے حوصلہ افزائی کرنے والے کہاں گئے؟؟* 

اور کھانے میں عیب نکالنا خود ناشکری ہے 

اور پیارے محترم نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اس طریقے کے خلاف ہے ، 

جسے *بخاری و مسلم* نے روایت کیا کہ

 *ما عاب النبي صلي الله عليه وسلم طعاما قط إن اشتهاه أكله وإلا تركه* 

کہ ہادی برحق علیہ السلام نے کھانے میں کبھی عیب نہ نکالا ،پسند آتا تو تناول فرما لیتے نہ آتا تو چھوڑ دیتے ،

لہذا جو کھانا بنائے کھانا لائے کھانا رکھے انکا شکریہ ادا کیجئے ، 

بیشک آپ کا شکریہ ادا کرنا ان کے لئے باعث خوشی و طمانیت ہوگا ، 

اور جو خواتین روزہ دار فیملی کے لئے کھانا تیار کرتی ہیں انکے اجر کی تو کیا بات ہے ، 

سرور عالم فداہ امی و ابی ارشاد فرماتے ہیں ، 

 *من فطر صائما كان له مثل اجره غير انه لا ينقص من اجر الصائم شيئا* ، 

جس نے کسی کا روزہ افطار کروایا اسکے لئے اس روزے دار جیسا اجر ہوگا 

اور روزہ دار کے اپنے اجر سے بھی کچھ کم نہ ہوگا 

رواہ الترمذی و ابن ماجہ ، 

🌹 اپنی (والدہ زوجہ بہن ) کا شکریہ ادا کریں اور دسترخوان سجنے کے بعد انکے لئے دعا کریں ، کیونکہ اس سے انکی تھکن دور ہوجائے گی اور انہیں آپکی خدمت کرنے میں مزید لطف و سرور حاصل ہوگا

ایک انسان میں کتنے خلیے ہیں




 ایک انسان کے اندر کھربوں خلیے ہیں اور ہر خلیہ میں46 کروموسومز ہیں ۔ اسی کروموسوم میں انسان کا سب سے قیمتی خزانہ (Data) ڈی این اے کی شکل میں پایا جاتا ہے ۔ اگر ایک ڈی این اے کو دیکھا جائے تو یہ بہت ہی پیچیدہ ساخت رکھتا ہے ، یہ کل چار بیسز A, G, T, C

سے مل کر بنا ہوتا ہے۔ یہی بیسز آگے پیچھے مل ایک دھاگہ نما ساخت بناتے ہیں ۔


اگر ہم ڈی این اے کی ساخت دیکھے تو یہ سیڑھیاں نما سی ہوتی ہے، یعنی ہمارا  پورا  ڈی این اے دو دھاگہ نما بیسز سے بنا ہوتا ہے ۔اگر ایک دھاگہ کا کوڈ ACTG ہے تو دوسرا اس کے بلکل برعکس TGAC ہوگا ۔


میڈیکل سائنس میں اسی کو جین کوڈنگ کہتے ہیں اور اسی سے ہمیں ایک انسان کی خصوصیات معلوم ہوتی ہے ۔ اگر ایک انسان کی رنگت سفید ہے تو اس کا الگ کوڈ اور کالے رنگ والے کا الگ کوڈ ہوگا ۔


ڈی این اے کو انسان کی لائبریری بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں انسان کی تمام معلومات اِن کوڈز کی شکل میں محفوظ رہتی ہے ۔ اسی کو استعمال کرتے ہوئے سائنسدان کئی صدیوں پرانے ڈھانچے سے ڈی این اے نکال کر اس کا سارا قصہ کھول دیتے ہیں ۔


ڈی این اے مالیکیول جتنا اہم ہے اتنا ہی مستحکم یہ بنا ہوا ہے ۔ 

کیسے صدیوں پرانے ڈھانچے میں سب کچھ ختم ہو جاتا ہے لیکن ڈی این اے محفوظ رہتا ہے؟  تو اس کا جواب ہے کہ ڈی این اے پر منفی چارج ہوتا ہے اسی وجہ کوئی بھی دوسرا منفی چارج اس پر حملہ آور نہیں ہوسکتا، اس لیے یہ ایک لمبے عرصے تک محفوظ رہتا ہے