قرآن مجید مختصر تعارف

 *قرآن مجید ۔۔۔ مختصر تعارف۔۔*


اسلام الہامی مذاہب میں سب سے آخری مذہب اور نبی کریمﷺ خاتم النبین ہیں۔ اس لحاظ سے قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے ،جسے اس کرہ ارض کے خاتمہ تک رشد و ہدائت اور شفاء کا باعث رہنا ہے ۔ اللہ تعالٰی نے جتنے بھی انبیاء کرام  مبعوث فرمائے انہیں معجزات سے نوازا تاکہ روز ازل کے وعدہ ہدایت کا اتمام حجت ہو سکے۔ ان انبیاء کرام کے معجزات ان کی حیات پاک کے دوران کارآمد اور رہنما رہے یا قوم کے لئے بطور حجت عذاب کا باعث ہوئے۔ لیکن انبیاء کرام  کی رحلت کے بعد وہ معجزات کتابوں اور صحائف کا حصہ بن گئے اور حقیقی زندگی میں ان کا عمل دخل فعال نہ رہا۔ جس طرح حضرت موسی علیہ السلام  کا عصا ( لاٹھی)، یا حضرت عیسی علیہ السلام  کا مردوں کو زندہ کرنا۔ 

جبکہ نبی کریمﷺ نے قران مجید کو معجزہ عظیم قرار فرمایا ،اور یہ رسول کریمﷺ کے ظاہری دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد بھی معجزہ ہے اور تاقیامت معجزہ رہے گا ۔ 

ترجمہ :.نبی کریم ﷺنے فرمایا ”انبیاء میں سے کوئی نبی ایسا نہیں جن کو کچھ نشانیاں  ( یعنی معجزات )  نہ دئیے گئے ہوں جن کے مطابق ان پر ایمان لایا گیا  ( آپ ﷺنے فرمایا کہ )  انسان ایمان لائے اور مجھے جو بڑا معجزہ دیا گیا وہ قرآن مجید ہے جو اللہ نے میری طرف بھیجا، پس میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن شمار میں تمام انبیاء سے زیادہ پیروی کرنے والے میرے ہوں گے۔“ 

قرآن مجید حالات اور واقعات کی بنیاد پر کم وبیش  23 سال کے دور نبوت میں نازل ہوا۔۔قرآن میں کل 114 سورتیں ہیں جن میں سے 87 مکہ میں نازل ہوئیں اور وہ مکی سورتیں کہلاتی ہیں اور 27 مدینہ میں نازل ہوئیں اور مدنی سورتیں کہلاتی ہیں ۔۔

قرآن میں لفظ قرآن قریباً 70 دفعہ آیا ہے اور متعدّد معانی میں استعمال ہوا ہے۔ یہ عربی زبان کے فعل قرأ کا مصدر ہے جس کے معنی ہیں ’’اُس نے پڑھا ‘‘ یا ’’اُس نے تلاوت کی‘‘

نزول قرآن کے متعدد مراحل طے کیے گئے جو حسب ذیل ہیں:


پہلے مرحلے میں قرآن لوح محفوظ پر نازل ہوا۔ اس نزول کا مقصد یہ تھا کہ اسے لوح محفوظ میں ثبت اور قرآن کو ناقابل تغیر کر دیا جائے۔ اس نزول کی دلیل قرآن سے اخذ کی گئی ہے  "بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَّجِيدٌ  فِي لَوْحٍ مَّحْفُوظٍ"

لوح محفوظ سے آسمان میں موجود ایک مقام بیت العزت میں شب قدر کو نازل ہوا۔  درج ذیل حدیثیں بھی اس کی دلیل ہیں: عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ "قرآن کو لوح محفوظ سے نکال کر آسمان دنیا کے ایک مقام بیت العزت پر اتارا گیا، جہاں سے جبریل پیغمبر پر لے جایا کرتے تھے"۔ ابو شامہ مقدسی نے اپنی کتاب المرشد والوجيز عن هذا النزول میں لکھا ہے: "علما کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ قرآن لوح محفوظ سے بیت العزت میں ایک ہی رات کو مکمل نازل ہوا اور جبریل نے اسے یاد کر لیا۔ کلام الہی کی ہیبت سے آسمان والے غش کھا گئے، جب جبریل کا ان پر سے گزر ہوا تو انہیں ہوش آیا اور  بعد ازاں جبرئیل نے کاتب فرشتوں کو اس کا املا کرایا، 

بیت العزت سے جبریل نے بتدریج قلب پیغمبر پر اتارا، نزول قرآن کا یہ مرحلہ تیئیس برس کے عرصہ پر محیط ہے( وکیپیڈیا )

قرآن پاک میں کل رکوع کی تعداد 540 ہیں  آیات کی تعداد مین اختلاف ہے کہیں6666 ہے حالانکہ اگر آپ خود گنتی کریں تو 6236 ہیں۔ جبکہ الفاظ کی تعداد 77701 ہے۔اور 30 سپاروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔۔ 

قرآن پاک کی سب سے بڑی سورۃ البقرہ ہے اور سب سے چھوٹی سورۃ الکوثر ہے جبکہ قرآن کی سب طویل آیت بھی سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 282 ہے ۔

 سورتوں میں 35 سورتیں ایسی ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ دوبار نازل ہوئیں ہیں ایک بار مکہ میں اور ایک بار مدینہ میں جیسے سورہ رحمن، سورہ رعد، سورہ زلزال وغیرہ۔

قرآن پاک میں کل 1015030 نقطے ہیں، زبر 39586 مرتبہ استعمال کیا گیا ہے جبکہ زیر39586 مرتبہ مستعمل ہے۔

25 انبیاء کرام کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔ اور یہ تعداد کچھ اس طرح سے ہے:

آدم علیہ السلام : 25

ادریس علیہ السلام : 2

نوح علیہ السلام : 63

ہود علیہ السلام : 7

صالح علیہ السلام : 9

ابراہیم علیہ السلام : 69

لوط علیہ السلام : 27

اسماعیل علیہ السلام : 12

اسحاق علیہ السلام : 17

یعقوب علیہ السلام : 16

‏یوسف علیہ السلام :27

ایوب علیہ السلام : 6

شعیب علیہ السلام :11

موسیٰ علیہ السلام :136

ہارون علیہ السلام :19

یونس علیہ السلام :6

داؤد علیہ السلام :16

سلیمان علیہ السلام :17

الیاس علیہ السلام :3

الیسع علیہ السلام :2

زکریا علیہ السلام :8

یحی علیہ السلام :6

عیسی علیہ السلام :25

‏محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم: 5

اور نبی کریمﷺکے علاوہ 5 انبیاء نوح،ابراھیم، یونس ، یوسف ،ھود علیھم سلام کے نام پر سورتیں موجود ہیں۔۔ 


قران مجید میں اللہ کریم نے نبی کریمﷺ کو نا صرف ان کے ذاتی نام مبارک سے پکارا بلکہ ان کے صفاتی ناموں سے بھی پکارا ۔۔اور ان ناموں کی سورہ مبارک تعداد کم وبیش 20 سے زیادہ ہیں ۔۔جیسے کہ 

طہ ،یاسین ، مزمل ،مدثر، نور،جمعہ مفسرین یہاں تک کہتے ہیں کہ جس طرح طہ اور یاسین حروف مقطعات ہیں اسی طرح جتنی بھی سورہ پاک حروف مقطعات سے شروع ہوتی ہیں وہ حضور ہی کے القاب ہیں جنہیں صرف اللہ اور ان کا حبیب کریمﷺ ہی جانتے ہیں ان حروف مقطعات والی سورتوں کی تعداد 29 ہے۔۔ جن میں سورہ ق اور ص علیحدہ سورتیں ہیں۔۔ 

    اسی طرح سے مزمل اور مدثر حضور نبی کریمﷺکے  صفاتی اسمائے گرامی ہیں ۔۔ جو قران میں " یا ایھا" سے شروع ہوتے ہیں ۔۔ جس کے اردو معنی ہیں "اے" یعنی خطاب حال میں ہے ۔۔ جبکہ آپ کا وصال پاک ہو چکا ہے۔۔ اب اگر قیامت ایک لمحہ بعد ہو ،ایک ہزار سال بعد ہو یا ایک کروڑ سال بعد یہ سورتیں " یا" کے صیغہ سے پڑھی جائیں گی۔۔   

نبی کریمﷺ اپنی زندگی میں دین مکمل فرما گئے ہیں۔۔ اور صحابہ کرام  اسی دین کو آگے لے کر چلے۔۔ اس زمانے میں کوئی حنفی،مالکی ،حنبلی  شافعی یا جعفری نہیں تھا ۔۔ اور الحمد للہ  دین پھر بھی مکمل تھا۔۔  سورہ محمد  میں اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کیوں آیا ہے ؟؟؟

اس لئے کہ اللہ نے صاف صاف بتا دیا کہ چاہے جتنے نیک عمل کر لو۔۔ ایمان لانے کے بعد اگر اس پر عمل نہیں کرو گے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ناذل ہوا ہے تو سب اعمال تمہارے ضائع ہو جائیں گے۔۔

ترجمہ:اور وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور جو کچھ محمد پر نازل کیا گیا اس پر بھی ایمان لائے حالانکہ وہ ان کے رب کی طرف سے برحق بھی ہے، تو اللہ ان کی برائیوں کو مٹا دے گا اور ان کا حال درست کرے گا۔


اسی طرح حضورنبی کریمﷺکے جسم اطہر اور اعضاء کریمہ کی تعریف میں سورہ نجم ،الم نشرح ، اور سورہ قلم ہیں اور سورہ قلم میں تو اللہ کریم نے نبی کریم کا دل دکھانے والے کو 10 برے القاب دئے ہیں۔۔ جو تا قیامت پڑھے جائیں گے۔۔ سورہ نجم میں تو اللہ کریم نے نبی پاک کی آنکھوں کی طاقت اور توانائی کی یوں تعریف فرمائی ہے کہ

جب آپ لامکاں میں تھے تب بھی عجائبات قدرت سے نہ آپ کی آنکھوں کی پتلیاں  پھیلی اور نا حیرت اور نور سے سکڑیں۔۔ اپنی اصل حالت میں برقرار رہیں۔۔ 


مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰى (17) 

ترجمہ: نہ تو نظر بہکی نہ حد سے بڑھی۔


اسی طرح حضور کی جنگی حکمت عملی پر مفصل سورتیں موجود ہیں جن میں بقرہ،آل عمران ،انفال، احزاب  ، حشر اور فتح شامل ہیں۔ اور ان کی جزئیات پر یوں اللہ کریم نے تبصرہ فرمایا ہے جیسے دو لوگ کسی چیز کو ایک ساتھ دیکھتے ہوئے اس پر گفتگو یا تبصرہ کریں ۔۔اور حضور کریمﷺ کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ فرماتے ہوئے ۔۔ یہ بھی ارشاد فرما دیا کہ

ترجمہ: سو تم نے انہیں قتل نہیں کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل کیا ۔ اور آپ نے خاک کی مٹھی نہیں پھینکی بلکہ اللہ تعالیٰ نے وه پھینکی۔۔(سورہ انفال) 

اسی طرح صلح حدیبیہ میں جب لوگ بیعت کر رہے تھے نبی کریمﷺکے  دست مبارک پر تو اللہ کریم نے ان کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا۔۔

اسی طرح حضور کے قبیلہ ، آپ کے شہر اور آپ کو عطا ہونے والی نعمتوں پر سورہ قریش۔( آپ کا ایک صفاتی نام قریشی ہے) آپ کے شہر مکہ پر سورہ التین، اور میری نظر میں آپ کے شہر مدینہ پر سورہ بلد جس کی شروع کی آیات ہیں ۔

ترجمہ: مجھے اس شہر کی قسم کہ (اے محبوب! )تم اس شہر میں تشریف فرما ہو۔ 

اسی طرح کوثر بھی آپ کا صفاتی ناموں میں سے ایک ہے۔۔ 

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی ازواج مطہرات کے حجرات پر مشتمل سورہ حجرات ہے۔۔ جس میں آقا کریمﷺ کی شان کے بارے میں انسانوں کو اس حد تک متنبی  کیا گیا ہے کہ وہ حضور کے سامنے اونچی آواز سے بات بھی نہ کریں کہیں ان کے سارے اعمال اللہ ضائع نہ کر دیں۔۔ اس کے بعد صحابہ کرام  اس حد تک محتاط ہو گئے تھے کہ آپ کریمﷺکے  حجرات کے باہر آپ کو بلانے کو آواز نہ نکالتے صرف کپڑے یا ٹاٹ کے پردے پر اپنے ناخن سے تین بار دستک دیتے اور پھر انتظار کرتے۔۔ حضرت عمر نے تو خود کو گھر میں قید فرما لیا کہ ان کی آواز بلند تھی۔۔ آپ کے وصال پاک کی خبر کے طور پر سورہ نصر اور اپ کی وحی کی ابتداء سورہ علق سے کی جس میں خطاب ڈائیرکٹ نبی مکرم سے ہے۔۔

اسی طرح وہ تمام سورتیں جن میں دیگر انبیاء کرام کا زکر ہے ان تمام میں اللہ کریم نے اپنے حبیب کریمﷺ سے خطاب یا ان کی صفات کا زکر کیا ہے۔۔ غرض پورا قران دراصل نبی کریمﷺ ہی کی شان ہے۔۔

میرا ارادہ تھا کہ سیرت النبی کریمﷺ کو قرآن پاک سے قبل شروع کروں ۔۔ مگر جیسے جیسے قرآن پڑھتا جاتا ہوں تو یوں لگتا ہے کہ جس طرح ہر ذی شعور شخص نے نبی کریمﷺکی  سیرت پاک لکھی ہے۔۔ دراصل اس کی ابتدا اللہ کریم نے قرآن پاک کی صورت میں دنیا کو نبی کریمﷺکی سیرت پاک سے متعارف فرمایا ۔۔ سب سے پہلی سیرت نبوی دراصل قرآن پاک ہے۔۔ 

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و کردار اور اخلاق واعمال کے مشاہدے کا موقع ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضي الله تعالى عنها کو میسر آیا تھا کیوں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفیقہٴ حیات تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر ظاہری اور خانگی معمولات و عادات سے واقف تھیں۔ ایک مرتبہ چند صحابی رضي الله تعالى عنه حضرت عائشہ صدیقہ رضي الله تعالى عنها کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے امّ المومنین ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور معمولات بیان فرمائیے۔ تو عائشہ صدیقہ نے جواب دیا کہ کیا تم لوگوں نے قرآن نہیں پڑھا؟ کان خلق رسول القرآن ”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن تھا“ (ابوداؤد شریف)


ماہ رمضان اور7 بڑے چور

 


*ماہ رمضان اور 7 بڑے چور !*

*1. ٹیلی ویژن* : یہ انتہائی خطرناک چور ہے یہ آپ کا وقت چوری کرے گا اور آپ کو ماہ رمضان میں بے ہودہ ڈراموں اور رمضان ٹرانسمیشن جیسی لغویات میں لگائے رکھے گا اور عبادت سے محروم کرے گا.

*2. بازار* : یہ چور بڑا شاطر ہے یہ آپ سے وقت اور پیسہ دونوں لے اڑے گا یہ آپ کا ہاتھ پکڑ کر بے مقصد بازاروں میں گمائے گا.

*3.کچن* : یہ چور خواتین کو ٹارگٹ کرتا ہے اور رمضان میں انہیں طرح طرح کے پکوانوں اور ریسپیز کے پیچھے لگا کر تلاوت قرآن اور ذکر اذکار سے محروم کرتا ہے.

*4.سحری تیاری*: یہ بظاہر 'بزرگ چور' ہے مگر یہ آپ کو آدھی رات سے ہی سحری کی تیاری پر لگا کر آپ سے تہجد، نوافل اور دعا کے مواقع سب چھین لے گا.

*5.فیس بک*: یہ چور بڑا پروفیشنل ہے یہ ہر دم آپ کے ساتھ ہوتا ہے،یہ آپ سے نہ صرف آپ کا وقت چھین لے گا بلکہ آپ کو غیبت،دشنام،گالم گلوچ کا مرتکب کرکے چھوڑے گا.

*6. لڈو گیم* : یہ چور رمضان کے مہینے میں زیادہ تر دیہی علاقوں میں پایا جاتا ہے جہاں عموما نوجوان فارغ ہوتے ہیں یہ انہیں رمضان میں لڈو گیم میں الجھاتا ہے،وقت کے ضیاع کے ساتھ یہ باہم جھگڑا بھی کراتا ہے.

*7.نیند* : یہ چور ظاہری طور پر دیکھنے میں ضرر رساں نہیں ہے مگر یہ بہت چالاک ہے یہ آپ کو ماہ رمضان میں دھپکی دے کر دن کا اکثر حصہ سلائے گا اور آپ عبادتوں اور سعادتوں سے محروم ہوں گے.

*رمضان کی آمد آمد ہے تمام مسلمان بہن بھائی مذکورہ بالا اشتہاری چوروں سے ہوشیار رہیں.*

مفت آٹا اور سبسڈائزڈ پٹرول

 *مفت آٹا اور سبسڈائزڈ پٹرول*!

جب سےموجودہ امپورٹڈحکومت پاکستان پرمسلط ہوئی ہے، Beggars can't be choosers حکمرانی کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں ہیں انہوں نے پوری قوم کو بھکاری بنا کر رکھ دیا ہے ہے عمران خان پر بدترین تنقید کرنے والے ہمارے دوستوں کواب بھی مہنگائی عمرانی دور کا دیا گیا تحفہ ہی محسوس ہوتی ہے، انہیں 75 روپے کلو ملنے والا آٹا مہنگا اور ایک سو ساٹھ روپے کلو ملنے والا سستا محسوس ہوتا ہے، بھکاری حکومت نے پہلے پہل یوٹیلیٹی اسٹورز پر قطاریں لگوائیں، بعد ازاں یوٹیلٹی سٹور پسے خریداری کرنے کے لئے شناختی کارڈ کارڈ کی شرط رکھی،بعد ازاں موبائل فون سے کسی خاص نمبر پر میسج بھیج کر کوڈ لینے کی شرط عائد کی اور انجام کار یوٹیلیٹی اسٹورز  پر سستا آٹا فراہم کرنا بند کر دیا،اور دو سو روپے فی 10 کلو مہنگا کر کے گاڑیوں پر مختلف علاقوں میں بھجوانا شروع کر دیا،جو کہ گاڑیوں کے پاس لمبی لمبی قطاریں آئے روز دیکھنے کو ملتی رہتی ہیں،اور اب یہ درفنطنی چھوڑی ہے کہ غریبوں کو آٹا مفت فراہم کیا جائے گا،لیکن اس میں معمول آٹے کی قلت پیدا ہو چکی ہے اور لوگ آٹے کی تلاش میں دربدر پھر رہے ہیں،

اور آج انہوں نے موٹر سائیکل سواروں کو سستا پیٹرول دینے بارے بھی پھلجھڑی تھوڑی چھوڑ دی ہے، کہ شنید ہے کہ موٹر سائیکل سواروں کو 50 یا 100روپے لیٹر تک رعایتی نرخوں پر پٹرول ملے گا،ہم جس قوم سے تعلق رکھتے ہیں ہیں اور ان آنکھوں نے خود دیکھا ہے کہ کورونا کے دوران میں لوگوں نے خیراتی سامان گھروں میں اسٹاک کر لیا اور بعد ازاں اسے کوڑے کے ڈھیر پر پھینکتے نظر آئے، جہاں شادی بیاہ کے موقع پر مہمانوں کے سامنے اعلان کیا جائے کہ کھانا "کھول" دیا گیا ہے اور اس کے "کھلتے" ہی لوگ بھوکے گِدھوں کی طرح اس پر ٹوٹ پڑیں،جس میں تعلیم یافتہ اور کم تعلیم کے حامل افراد کی کوئی قید نہیں بلکہ "تعلیم یافتہ" اکثر بڑے گِدھوں کا روپ دھارے نظر آتے ہیں، جہاں کسی بھی چیز کی قلت پیدا ہو تو لوگوں کا یہ رجحان ہو کہ وہ اپنے گھروں میں سامان زخیرہ کرلیں اوراا کارنامے پر فخر کرتے نظر آئیں،وہاں کیا لوگ سستے پٹرول کو اسٹور کرنے سے روکے جا سکیں گے؟ یوٹیلٹی سٹور سے سستی چینی خرید کر مہنگے داموں بیچنے والے دکاندار تو آج بھی موجود ہیں،امپورٹڈ حکومت سے گزارش ہے کہ جگاڑ لگانے کی پالیسی کو اپناچھوڑ دیں اور لانگ ٹرم پالیسی کا نفاذ کریں

کاش اس دن زمین پھٹ جاتی

 کاش اس دن زمین پھٹ جاتی ۔۔۔


اس کا نام محمد عاید مصطفیٰ الذوعبی  تھا ۔ اردن کا رہنے والا یہ خوبصورت نوجوان ، یونیورسٹی میں میرا کلاس فیلو اور بہت ہی اچھا دوست تھا ۔


اس دن یونیورسٹی میں داتا صاحب کے عرس کی چھٹی تھی ۔ میں صبح دیر تک سونا چاہتا تھا ، مگر کوئی ساڑھے آٹھ  بجے ہی میرے کمرے کا دروازہ بجنا شروع ہو گیا ۔ میں نے بند آنکھوں کو کھولتے کھولتے دروازہ کھولا تو باہر ، محمد کھڑا تھا ۔


مستر ریاض ، وائی دا یونیورستی از کلوزد تو دے ۔۔۔؟؟؟ ( ریاض صاحب آج یونیورسٹی کیوں بند ہے )


میں نے بتایا ، کہ آج داتا صاحب کا عرس ہے ۔ یعنی حضرت علی ہجویری  کی ڈیتھ انیورسری ہے ۔ اور سب لوگ ان کے مزار پہ جا کر خراج عقیدت پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ اس لئے آج پورے لاہور میں لوکل چھٹی ہے ۔


ہُو واز داتا صاحب ۔۔۔ ؟؟؟  اس نے اپنے سر پہ بندھے سفید اور سرخ رومال کی کالی  رسی ، سیدھی کرتے ہوئے پوچھا ۔ 


میں نے بتایا کہ متحدہ ہندوستان میں ، یہاں ہندوؤں اور سکھوں کی اکثریت تھی ۔ مسلمان بہت کم تھے ۔ اور جو تھے بھی ، وہ ہندوانہ رسم و رواج ، اور مشرکانہ رہن سہن میں لتھڑے ہوئے تھے ۔ 


ایسے میں اللہ پاک نے ہم پہ اپنا بڑا کرم کیا ، اور علی ہجویری نامی ایک بزرگ کو یہاں بھیجج دیا ۔ انہوں  نے لاہور کے بارہ دروازوں کے باہر ، ایک کھلی جگہ پر ڈیرہ لگایا ۔ اور لوگوں کو اللہ کی راہ پہ لگانا شروع کر دیا۔ 


انہوں نے  اپنے حسن اخلاق ، اور کردار کی   روشنی سے لوگوں کے دل منور کر  دیئے۔ بہت سے ہندووں اور سکھوں کو مسلمان کیا ۔ اور مسلمانوں میں پائے جانے والے شرکیہ رسم و رواج ، اور باطل نظریات کو ختم کیا ۔  ہم جو ، آج یہاں مسلمان بنے گھوم رہے ہیں ، یہ سب ان کی محنت کے صدقے سے ہی ہے ۔ اور ان کی اسی فضیلت کے باعث ، ہم انہیں داتا صاحب کہتے ہیں ۔


اس نے اپنی نظریں جھکا لیں ۔ اور اپنی مادری زبان ، عربی  میں کچھ کہا ۔ جس میں سے ، ماشااللہ کے سوا ، مجھے کچھ سمجھ نہ آ سکا ۔


پھر وہ میرے گلے لگ گیا ، اور بہت ہی رندھی ہوئی آواز میں کہنے لگا ، مستر ریاض آئی وانت تو گو تو داتا صاحب ، رائت ناؤ ۔ لت اس موو کوئکلی ۔۔۔۔ (ریاض صاحب ، میں اسی وقت داتا صاحب کے مزار پہ جانا چاہتا ہوں ۔ چلو فورا نکلیں )


میرا بھی داتا صاحب کے عرس پہ جانے کا یہ پہلا اتفاق  تھا ۔ وہاں پہنچے تو بہت سے شامیانے لگے تھے ۔ لال ، سبز ، اور سیاہ جھنڈیاں لہرا رہی تھیں ۔ مختلف لاؤڈ سپیکرز سے قوالیوں ، گانوں اور لوگوں کو سرکس پہ بلانے کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں ۔


ذرا آگے بڑھے تو بائیں طرف ، الجھے بالوں والے بہت سے میلے کچیلے ملنگ ، سگریٹ کا گاڑھا دھواں ، اپنے  نتھنوں  سے نکال رہے تھے ۔ اور کچھ ، پاؤں میں گھنگرو باندھ کر دھمال ڈال رہے تھے ۔ مگر ہم مزار کی طرف بڑھتے رہے ۔ 


ذرا آگے گئے ، تو لکڑی کے پھٹوں پر چڑھے ہوئے کچھ خواجہ سرا ، اپنے پورے میک اپ اور زرق برق لباس میں ملبوس ہو کر  ، کسی چنچل گانے کی ردھم پر  ، اپنا جسم مٹکا رہے تھے ۔  


مزار میں داخل ہوئے تو بہت سے لوگ دروازے کی چوکھٹ پہ سجدہ ریز ہوتے نظر آئے ۔ کئی لوگ ، دروازے کو چوم رہے تھے ۔ اور کچھ شیطانی نظریں ، دربار میں آئی جوان لڑکیوں کا تعاقب کر رہی تھیں ۔ 


ہم دونوں کی نظریں ملیں ، تو میں نے نظریں جھکا لیں ۔ محمد کہنے لگا ، مجھے یقین ہے کہ تم مجھے کسی غلط جگہ پر لے آئے ہو ۔ یہ تو علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کا مزار نہیں ہو سکتا ۔


میں نے اسے بتایا کہ یہی ان کے مزار کی جگہ ہے ۔ وہ دیکھو سامنے ان کے مزار کا سبز گنبد نظر آ رہا ہے ۔


اس کے چہرے کا رنگ لال ہو گیا ۔ کہنے لگا اگر تم نے ٹھیک کہا تھا کہ اس شخص نے  اسلام کے پھیلاؤ ، اور مسلمانوں کی مشرکانہ حرکات ختم کرنے کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کر دی تھی ۔  تو سلام ہے تم لوگوں پر ، کہ آج بھی وہی مشرکانہ حرکتیں کر رہے ہو ۔ اور وہ بھی عین  ان کے مزار پہ آ کر ، اور ٹھیک ان کے فوتگی والے  دن ۔۔۔۔


اور میرے لئے اس دن زمین نہیں پھٹی ، کہ میں محمد کا سامنا کرنے کی بجائے ۔ اس زمین میں گڑ جاتا ۔

سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا

 


سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا 10 رمضان المبارک، اعلان نبوت کے دسویں سال ہجرت مدینہ سے تین سال قبل پچیس سال نبی کریم کی رفاقت میں رہنے کے بعد اس دار فانی سے دار باقی کی طرف انتقال فرما گئیں 

انا للہ وانا الیہ راجعون۔

 پیغمبر اسلام کے لئے بے دریغ قربانیاں دینے والی پہلی مومن خاتون، ام المومنین، رازدان مصطفٰی، جان وفا، حق آشنا وہ عظیم ہستی جن کو پیارے آقا کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم سے قرب مکانی، قرب زمانی اور قرب وجود نوری بھی حاصل تھا۔

ایمان لانے میں سب سے سبقت لے جانے اور ہر مرحلہ پر پیارے آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دلجوئی اور حوصلہ افزائی کرتے رہنے کا صلہ بارگاہ الہی سے سیدنا ام المومنین حضرت خدیجتہ الکبری رضی اللہ عنہا کو یہ ملا کہ اللہ کریم نے حضرت جبرائیل کو پیارے آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس بھیجا جب پیارے آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم غار حرا میں تشریف فرماتھے انہوں نے آکر عرض کی۔

یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے رب کی طرف سے اور میری طرف سے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو سلام پہنچائیے اور انہیں خوشخبری دیجئے کہ اللہ تعالٰی نے ان کے لئے جنت میں موتیوں کا بنا ہوا محل مخصوص کیا ہے جس میں کوئی شور نہیں ہوگا اور نا کوئی کوفت ۔

سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا اللہ تعالٰی ہی سلام ہے ساری سلامتیاں اسی سے ہیں جبرائیل پر سلام ہو اور یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ پر سلام ہو اللہ کریم کی رحمتیں اور برکتیں ہوں ۔اس جواب میں بارگاہ الہی کے آداب کا جس طرح خیال رکھا گیا ہے اس سے آپ راضی اللہ عنہا کی عقلمندی اور دانش مندی کا پتہ چلتا ہے۔ 

اتنی محبوب ہستی ہیں جن کے

 وصال پاک پر پیارے آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس سال کو عام الحزن قرار دے دیا ۔جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے وصال کا وقت قریب آیا تو انہوں نے آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! کچھ دیر میرے سامنے تشریف فرما ہوں اب قاصد اجل آنے والا ہے اور میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ قیامت کے دن بھی مجھے اپنے ساتھ رکھیں آپ اللہ کریم سے میری سفارش فرمائیں اور اگر خدمت میں کوئی کمی کوتاہی ہو گئ ہو تو مجھے معاف فرمائیں۔ پھر آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہاتھوں میں اپنی جان اپنے رب کو سونپ دی ۔

اللہ کریم سےالتجا ہے کہ اللہ کریم ہمارے والدین اور تمام مسلمانوں کے والدین کو دونوں جہان میں خاتون جنت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی غلامی نصیب فرمائیں۔

آمین یارب العالمین 

آمین یارب رحمت اللعالمین ۔

اللھم صل علی سیدنا ومولانا محمد وعلی آلہ وصحبہ وبارک وسلم۔

ترتیب۔

سعدیہ حامد

روزہ رکھیں لیکن دل نہ دکھائیں

 *روزہ رکھیں لیکن دل نہ دکھائیں* 

✍🏻 عمر مدنی 

10 رمضان المبارک 1444ھ ،


بعض افراد ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں افطار کے وقت دسترخوان میں نکتہ چینی کی عادت ہوتی ہے ، 

کھانے میں نمک کم ہے یا زیادہ ہے پانی پھیکا ہے، یہ نہیں کیا، وہ نہیں کیا، اس طرح کی باتیں جبکہ بعض تو اخلاقی رو سے اتنے گئے گزرے ہوتے ہیں کہ وہ محض چھوٹی سی خطا پر گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں اور روزہ رکھ کر کچن میں اتنی دیر کھڑے ہونے کی محنت پر منٹوں میں پانی پھیر دیتے ہیں ، 

ایسا نہیں کرنا چاہیے ،

 *اس محنت پر تھینکس اور احسان کا بدلہ اور دعا کے ذریعے حوصلہ افزائی کرنے والے کہاں گئے؟؟* 

اور کھانے میں عیب نکالنا خود ناشکری ہے 

اور پیارے محترم نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اس طریقے کے خلاف ہے ، 

جسے *بخاری و مسلم* نے روایت کیا کہ

 *ما عاب النبي صلي الله عليه وسلم طعاما قط إن اشتهاه أكله وإلا تركه* 

کہ ہادی برحق علیہ السلام نے کھانے میں کبھی عیب نہ نکالا ،پسند آتا تو تناول فرما لیتے نہ آتا تو چھوڑ دیتے ،

لہذا جو کھانا بنائے کھانا لائے کھانا رکھے انکا شکریہ ادا کیجئے ، 

بیشک آپ کا شکریہ ادا کرنا ان کے لئے باعث خوشی و طمانیت ہوگا ، 

اور جو خواتین روزہ دار فیملی کے لئے کھانا تیار کرتی ہیں انکے اجر کی تو کیا بات ہے ، 

سرور عالم فداہ امی و ابی ارشاد فرماتے ہیں ، 

 *من فطر صائما كان له مثل اجره غير انه لا ينقص من اجر الصائم شيئا* ، 

جس نے کسی کا روزہ افطار کروایا اسکے لئے اس روزے دار جیسا اجر ہوگا 

اور روزہ دار کے اپنے اجر سے بھی کچھ کم نہ ہوگا 

رواہ الترمذی و ابن ماجہ ، 

🌹 اپنی (والدہ زوجہ بہن ) کا شکریہ ادا کریں اور دسترخوان سجنے کے بعد انکے لئے دعا کریں ، کیونکہ اس سے انکی تھکن دور ہوجائے گی اور انہیں آپکی خدمت کرنے میں مزید لطف و سرور حاصل ہوگا

ایک انسان میں کتنے خلیے ہیں




 ایک انسان کے اندر کھربوں خلیے ہیں اور ہر خلیہ میں46 کروموسومز ہیں ۔ اسی کروموسوم میں انسان کا سب سے قیمتی خزانہ (Data) ڈی این اے کی شکل میں پایا جاتا ہے ۔ اگر ایک ڈی این اے کو دیکھا جائے تو یہ بہت ہی پیچیدہ ساخت رکھتا ہے ، یہ کل چار بیسز A, G, T, C

سے مل کر بنا ہوتا ہے۔ یہی بیسز آگے پیچھے مل ایک دھاگہ نما ساخت بناتے ہیں ۔


اگر ہم ڈی این اے کی ساخت دیکھے تو یہ سیڑھیاں نما سی ہوتی ہے، یعنی ہمارا  پورا  ڈی این اے دو دھاگہ نما بیسز سے بنا ہوتا ہے ۔اگر ایک دھاگہ کا کوڈ ACTG ہے تو دوسرا اس کے بلکل برعکس TGAC ہوگا ۔


میڈیکل سائنس میں اسی کو جین کوڈنگ کہتے ہیں اور اسی سے ہمیں ایک انسان کی خصوصیات معلوم ہوتی ہے ۔ اگر ایک انسان کی رنگت سفید ہے تو اس کا الگ کوڈ اور کالے رنگ والے کا الگ کوڈ ہوگا ۔


ڈی این اے کو انسان کی لائبریری بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں انسان کی تمام معلومات اِن کوڈز کی شکل میں محفوظ رہتی ہے ۔ اسی کو استعمال کرتے ہوئے سائنسدان کئی صدیوں پرانے ڈھانچے سے ڈی این اے نکال کر اس کا سارا قصہ کھول دیتے ہیں ۔


ڈی این اے مالیکیول جتنا اہم ہے اتنا ہی مستحکم یہ بنا ہوا ہے ۔ 

کیسے صدیوں پرانے ڈھانچے میں سب کچھ ختم ہو جاتا ہے لیکن ڈی این اے محفوظ رہتا ہے؟  تو اس کا جواب ہے کہ ڈی این اے پر منفی چارج ہوتا ہے اسی وجہ کوئی بھی دوسرا منفی چارج اس پر حملہ آور نہیں ہوسکتا، اس لیے یہ ایک لمبے عرصے تک محفوظ رہتا ہے